کیا پاکستان میں ایک ’اچھا‘ اور ’متوازن‘ بجٹ بن سکتا ہے؟

پاکستان کی قومی اسمبلی میں اگلے مالی سالی 23-2022 کا بجٹ کل پیش ہوگا جس میں حکومتی آمدن اور اخراجات کا خلاصہ پیش کیا جائے گا۔

لاہور میں تین مئی 2022 کو رکشہ ڈرائیورز نے گیس اور بجلی کی قیمتوں میں ضافے پر احتجاج کیا (اے ایف پی)

پاکستان میں وفاقی حکومت کل یعنی 10 جون کو قومی اسمبلی میں مالی سال 23-2022 کے لیے بجٹ پیش کرنے جا رہی ہے، جسے پارلیمان رواں ماہ کے دوران ہی منظور کرے گی۔

پاکستان میں وفاقی حکومت کے سالانہ بجٹ کی معیاد ہر سال یکم جولائی سے آئندہ سال کی 30 جون تک ہوتی ہے، اور ہر اس ایک سال کو مالیاتی سال (فسکل ایئر) کہا جاتا ہے۔

کل پیش ہونے والا بجٹ یکم جولائی 2022 سے 30 جون 2023 تک کی حکومتی آمدن اور اخراجات کا خلاصہ پیش کرے گا۔ 

اچھا بجٹ کیسا ہوتا ہے؟

دور جدید میں حیات انسان کے روزمرہ کے معمولات میں وسائل کا حساب کتاب بنیادی اہمیت و حیثیت کا حامل ہے کیونکہ سرمائے کی آمد (کمائی) اور روانگی (اخراجات) کے درمیان توازن برقرار رکھنا یا کھو دینا زندگی کو آسائشوں یا مسائل سے دو چار کر سکتا ہے۔ 

فرد واحد یا ملک کی آمدن اور اخراجات کے خلاصے کو بجٹ کا نام دیا جاتا ہے، جس میں ایک یا ایک سے زیادہ ذرائع سے حاصل ہونے والی کمائی کے نتیجے میں آنے والی رقوم اور ان کے مختلف مدوں میں خرچ ہونے کا حساب رکھا جاتا ہے۔ 

دوسرے الفاظ میں، بجٹ اس بات کا تخمینہ ہے کہ آپ ایک مخصوص مدت (مہینے یا سال) میں کتنی رقم کمائیں گے اور اسی عرصے کے دوران اسے کیسے اور کہاں کہاں خرچ کریں گے۔ 

بالکل اسی طرح ملک یا حکومت کا بجٹ ایک مخصوص سال کے دوران اس کے ممکنہ اخراجات اور آمدن کی تفصیلات بتاتا ہے۔ 

دنیا كے ہر ملک میں ہر سال آئندہ مالی سال كے لیے حکومتی بجٹ پیش كیا جاتا ہے، اور تقریباً ہر جگہ عوام بجٹ سے امیدیں لگاتے ہیں کہ اس کے باعث ان کی زندگی میں آسانیاں پیدا ہوں گی۔ 

ایک عام شخص کے لیے اچھا بجٹ یقیناً وہی ہو سکتا ہے جس کے نتیجے میں اس کی آمدن میں اضافہ اور اخراجات میں کمی واقع ہو، بے روزگاروں میں کمی آئے، صحت کی سہولتیں بہتر ہوں، تعلیم سستی ہو اور ملک میں ترقی دیکھنے کو ملے۔ 

پاکستان کے سابق وزیر خزانہ سلمان شاہ کے مطابق اچھا بجٹ ایسے بجٹ کو کہا جا سکتا ہے جو ملکی معیشت کو مزید مضبوط بنائے اور عوام کو دستیاب سہولتوں میں اضافہ کرے۔ 

انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ ملک میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے، ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی، حکومتی کاموں میں آسانی، اور بغیر افراط زر کی وجہ بنے ترقی کو موجب بننے والا بجٹ ہی اچھا بجٹ کہلایا جا سکتا ہے۔ 

بہتر پالیسیوں کے فروغ کے لیے کام کرنے والے بین الاقوامی ادارے اقتصادی تعاون اور ترقی کی تنظیم (او ای سی ڈی) نے مندرجہ ذیل دس ایسے اصول واضع کیے ہیں، جو بجٹ کی سرگرمیوں کے پورے میدان میں اچھے طریقوں کا جامع جائزہ فراہم کرنے کے علاوہ شہریوں کی زندگیوں پر مثبت اثر ڈالنے کے لیے بجٹ کے نظام کو ڈیزائن، نافذ کرنے اور بہتر بنانے کے لیے عملی رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ 

1۔ بجٹ کو مالیاتی پالیسی کے واضح، قابل اعتبار اور متوقع حدود کے اندر ہونا چاہیے۔ 

2۔ بجٹ کو حکومت کی درمیانی مدت کی سٹریٹجک ترجیحات کے ساتھ پوری طرح ہم آہنگ ہونا چاہیے۔ 

3۔ قومی ترقی کی ضروریات کو کم لاگت اور مربوط انداز میں پورا کرنے کی خاطر کیپیٹل بجٹنگ کا بہتر فریم ورک تیار کیا جائے۔ 

4۔ بجٹ دستاویزات، دستاویزات اور ڈیٹا عوام کو دستیاب، شفاف اور قابل رسائی ہونا یقینی بنایا جائے۔ 

5۔ بجٹ میں انتخاب کی گئی چوائسز پر ایک جامع، شرکت پر مبنی اور حقیقت پسندانہ بحث کا بندوبست کیا جانا چاہیے۔ 

6۔ بجٹ میں قومی آمدن اور اخراجات کی جامع، درست اور قابل اعتماد تفصیلات موجود ہونا چاہیے۔ 

7۔ بجٹ پر عمل درآمد، انتظام اور نگرانی کی منصوبہ بندی فعال طریقے سے کی جانا چاہیے۔ 

8۔ کارکردگی، جائزہ اور پیسے کی قدر کو بجٹ کی تیاری کے عمل میں لازمی بنانے کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔ 

9۔ طویل مدتی پائیداری اور دیگر مالیاتی خطرات کی شناخت، اندازہ اور انتظام احتیاط سے کیا جانا چاہیے۔ 

10۔ بجٹ کی سالمیت اور بجٹ میں بیان شدہ پیشنگوئیوں، مالیاتی منصوبوں اور بجٹ پر عمل درآمد کو سخت کوالٹی اشورنس بشمول آزاد آڈٹ کے ذریعے فروغ دینا چاہیے۔ 

بجٹ کا جائزہ لینے کے لیے اہم سوالات 

بین الاقوامی بجٹ پارٹنرشپ نامی تنظیم اور کینیا کے کمیشن فار امپلیمینٹیشن آف کانسٹیٹیوشن نے 20 سوالات ترتیب دیے، جنہیں عوام حکومتی بجٹ کا جائزہ لینے کے لیے استعمال کر سکتی ہے۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہی سوالوں میں سے کچھ متعلقہ سوالات یہاں پیش کیے جا رہے ہیں، جن کی مدد سے عام شہری کسی بھی حکومتی یا صوبائی بجٹ کے اچھے یا برے ہونے کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ 

1۔ کیا میرے رہنماؤں نے بجٹ کی تیاری کے دوران جن فیصلوں کا انتخاب کیا ہے ان کی وجوہات اور وضاحتیں بجٹ میں بیان کی گئی ہیں؟ 

2۔ کیا بجٹ میں ایسے جدول (ٹیبل) موجود ہیں جو تمام وزارتوں/محکموں کے کل مجوزہ اخراجات کا آسانی سے موازنہ کرنے میں سہولت فراہم کرے؟ 

3۔ بجٹ میں کن شعبوں کو ترجیح دی گئی ہے؟ 

4۔ کیا بجٹ میں پروگرام، ذیلی پروگرام اور ذیلی پروگرام کی سطح سے نیچے حکومتی اخراجات کی مزید تقسیم کا ذکر موجود ہے؟ 

5۔ کیا بجٹ میں موجود پروگراموں اور ذیلی پروگراموں کے لیے ضروری انڈیکیٹرز اور اہداف کا ذکر موجود ہے؟ 

6۔ کیا بجٹ میں عملے کے اخراجات کے بارے میں تفصیلی معلومات شامل ہیں، بشمول وزارت کی طرف سے کارکنوں کی تنخواہیں اور مراعات، خصوصاً جاب کلاس، گروپ، یا انفرادی عہدوں کے لحاظ سے؟ 

7۔ کیا بجٹ میں موجود ترجیحات میرے ملک کے ترقیاتی منصوبوں کے مطابق ہیں؟ 

8۔ کیا صحت جیسی بنیادی خدمات کی موجودہ سطح کو برقرار رکھنے کے لیے بجٹ میں رقم موجود ہے؟ 

9۔ کیا بجٹ مجھے بتاتا ہے کہ ترقیاتی منصوبے کس کس علاقے، ضلعے یا وارڈ میں ہوں گے؟ 

10۔ کیا بجٹ میں شہری تعلیم کے لیے، یا علاقے کی فیصلہ سازی میں عوام کی شرکت کو آسان بنانے کے لیے کوئی فنڈز موجود ہیں؟ 

11۔ کیا بجٹ میں کوئی خسارہ ہے اور اگر ہے تو اسے کیسے ادا کیا جائے گا؟ 

12۔ حکومت اپنے ٹیکسوں اور فیسوں سے کتنی رقم جمع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، اور کیا یہ معقول ہدف ہے؟ 

13۔ کیا حکومت کی ماہانہ تخمینہ شدہ آمدن اور اخراجات کی تفصیلات ٹیبل اور گراف کی شکل میں بجٹ میں موجود ہے؟ 

14۔ کیا بجٹ میں کسی قدرتی آفت کی صورت میں ایمرجنسی فنڈ رکھا گیا ہے؟ 

15۔ کیا بجٹ میں مختلف خریداریوں (جیسے گاڑیاں، جنریٹر اور دیگر چیزوں) کے لیے فی یونٹ لاگت کا ذکر شامل ہے اور کیا یہ تمام محکموں میں یکساں ہیں؟ 

16۔ کیا بجٹ میں ہر چیز کا مطلب واضح ہے، اور کیا وہ تمام محکموں میں یکساں ہیں؟ 

کیا پاکستان کا بجٹ اچھا بجٹ ہوتا ہے؟ 

سابق وزیر خزانہ سلمان شاہ کا کہنا تھا کہ اچھا بجٹ ایک پھلتی پھولتی معیشت میں ہی پیش کیا جا سکتا ہے، اور پاکستان میں ایسی کوئی صورت حال موجود نہیں ہے۔ 

ان کا کہنا تھا: ’پاکستان میں بجٹ کا سب سے بڑا مقصد معاشی استحکام کو یقینی بنانا ہی ہو سکتا ہے نہ کہ ترقی یا گروتھ۔‘ 

انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ کمزور معیشت میں بجٹ کا مقصد اسے سہارا دینا ہوتا ہے، اور ایسی صورت حال میں عوام کی زندگیوں میں آسانیاں ممکن بنانا مشکل ہو جاتا ہے۔ 

ان کا کہنا تھا كہ پاكستان میں ادائیگیوں کا تناسب خطرناک حد تک بگڑ چکا ہے، اور اس پر قابو نہ پانا ملکی معیشت کے لیے مضر ہو سکتا ہے۔ 

سلمان شاہ کا کہنا تھا کہ پاکستان میں عام طور پر بجٹ کے نتیجے میں قیمتوں میں کمی کی امید اور توقع کی جاتی ہے، جو ان کے خیال میں موجودہ حالات میں ممکن نہیں ہے۔ 

دنیا میں حکومتی بجٹوں کا تجزیہ کرنے والی بین الاقوامی تنظیم انٹرنیشنل بجٹ پارٹنرشپ نے 2020 میں پاکستان سمیت تقریباً 120 ممالک کے بجٹس کا عوامی شرکت، بجٹ کی نگرانی (اوورسائٹ) اور شفافیت کی بنیاد پر جائزہ لیا۔ 

تنظیم کی رپورٹ کے مطابق پاکستان نے بجٹ اور بجٹ بنانے کے عمل میں عوامی شرکت کی مد میں 100 میں سے نو سکور حاصل کیا جو بجٹ بنانے کے عمل میں عوام کی شرکت ’بہت کم‘ ہونے کا ثبوت ہے۔ 

اسی طرح پاکستان میں مقننہ اور آڈٹ ادارے (آڈیٹر جنرل آف پاکستان) مل کر بجٹ کے عمل کے دوران 100 میں سے 39 سکور کے ساتھ کمزور نگرانی فراہم کرتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں مقننہ بجٹ ’كمزور‘ جبكہ آڈیٹر جنرل آف پاكستان ’تسلی بخش‘ نگرانی فراہم كرتے ہیں۔ 

انٹرنیشنل بجٹ پارٹنرشپ كی رپورٹ كے مطابق پاكستان میں بجٹ بنانے كے عمل میں شفافیت كا عنصر ’محدود‘ ہے۔ 

رپورٹ كے مطابق پاكستان نے بجٹ میں شفافیت كے زمرے میں 100 میں سے 46 سكور حاصل كیا۔ 

رپورٹ میں پاكستان كے بجٹ بنانے كے عمل میں عوامی شركت، شفافیت اور نگرانی بڑھانے كے لیے مندرجہ ذیل اقدامات كی سفارشات پیش کی گئی ہیں۔ 

1۔ عوامی شرکت کو بڑھانے کے لیے بجٹ کی تشکیل کے دوران میکانزم کو وسعت دی جائے تاکہ کسی بھی سول سوسائٹی کی تنظیم یا خواہش مند شہریوں کی شرکت میں اضافہ ہو۔ 

2۔ کمزور اور کم نمائندگی والی کمیونٹیز کو براہ راست یا ان کی نمائندگی کرنے والی سول سوسائٹی تنظیموں کے ذریعے شریک کیا جائے۔ 

3۔ پاکستان کی پارلیمان عوامی یا سول سوسائٹی کی تنظیموں کو بجٹ کی تجاویز کی منظوری کے دوران موجودگی کی اجازت دے۔ 

4۔ عوامی یا سول سوسائٹی کی تنظیموں کے اراکین کو آڈٹ رپورٹ کی سماعت کے دوران اپنی سفارشات دینے کی اجازت دی جائے۔ 

5۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان آڈٹ پروگرام کو تیار کرنے اور متعلقہ آڈٹ تحقیقات میں عوامی شرکت کو یقینی بنانے کے لیے طریقہ کار واضع کرے۔ 

6۔ ایگزیکٹو کی بجٹ تجاویز بجٹ سال کے آغاز سے کم از کم دو ماہ قبل قانون سازوں کو پیش کی جائیں، تاکہ وہ ان کا جائزہ لے سکیں اور اپنے تجزیے کے ساتھ آن لائن رپورٹ شائع کریں۔ 

7۔ ایک قانون ساز کمیٹی کو سال بھر کے بجٹ کے نفاذ کا جائزہ لینا چاہیے اور اپنے نتائج کے ساتھ آن لائن رپورٹ شائع کرنا چاہیے۔ 

8۔ انتظامی اکائیوں کے درمیان قانون سازی کے بجٹ میں بیان کردہ فنڈز کو منتقل کرنے سے پہلے مقننہ سے مشاورت کو یقینی بنایا جائے۔ 

9۔ ایک قانون ساز کمیٹی کو آڈٹ رپورٹ کی جانچ کرنا چاہیے اور اپنے نتائج کے ساتھ آن لائن رپورٹ شائع کرنا چاہیے۔ 

10۔ آڈیٹر جنرل کے دفتر کی طرف سے آزادی کو مزید مضبوط بنانے اور آڈٹ کی نگرانی کو بہتر بنانے کے لیے ادارے کے سربراہ کی تقرری کے لیے قانون سازی یا عدالتی منظوری درکار ہے۔ 

11۔ اس بات کو یقینی بنائیں کہ آڈٹ کے عمل کی رپورٹ ایک آزاد ایجنسی کے ذریعے سال کے آخر میں بروقت آن لائن شائع کریں۔ سال کے بقیہ حصے کے لیے نظرثانی شدہ اخراجات اور محصولات کے تخمینے کو وسط سال کے جائزے میں شامل کیا جانا چاہیے۔ 

پاکستان میں بجٹ کیسے بنتا ہے؟ 

پاکستان میں حکومت وقت آئندہ مالی سال کا بجٹ تیار کرتی ہے اور کابینہ کی منظوری کے بعد اسے مجوزہ مالیاتی بل کی شکل میں قومی اسمبلی میں پیش کرتی ہے۔ 

قومی اسمبلی سے سادہ اکثریت سے منظور ہونے کے بعد صدر مملکت بجٹ کی منظوری دیتے ہیں، جس کے بعد یہ ایک ایکٹ بن جاتا ہے۔ 

1973کے آئین کے باب دوئم کی بیشتر شقوں میں بجٹ سازی کا ذکر موجود ہے، جہاں بجٹ کو سالانہ مالیاتی سٹیٹمنٹ اور قومی اسمبلی میں پیش کیے جانے والے بل کو منی بل کہا گیا ہے۔ 

سالانہ بجٹ کی تیاری وفاقی وزارتِ خزانہ کی ذمہ داریوں میں شامل ہے، جہاں فنانس ڈویژن میں قائم بجٹ ونگ یہ کام سرانجام دیتا ہے۔ 

وفاقی وزارت خزانہ کی ویب سائٹ کے مطابق اکتوبر میں آئندہ مالی سال کے بجٹ پر کام شروع کر دیا جاتا ہے۔ بجٹ کال سرکلر کے ذریعے وزارتوں اور ڈویژنوں سے آئندہ مالی سال کے اخراجات اور آمدنی کے اندازے طلب کیے جاتے ہیں، جو فروری تک موصول ہوتے ہیں۔ 

مارچ سے اپریل میں ان کی جانچ پڑتال کر کے بجٹ تجاویز مرتب کی جاتی ہیں۔ مئی اور جون میں تجاویز کو حتمی شکل دے کر سالانہ بجٹ پلان کا حصہ بنا دیا جاتا ہے۔ 

سالانہ بجٹ پلان کابینہ سے منظوری کے بعد وفاقی وزیر خزانہ عموماً جون کے دوسرے ہفتے میں قومی اسمبلی کے سامنے پیش کرتے ہیں، جس کے کچھ ہفتوں بعد اسے منظور کرا لیا جاتا ہے۔ 

ماہر معاشیات ثاقب شیرانی لکھتے ہیں: ’پاکستان میں بجٹ بنانے کے عمل میں زیادہ توجہ اثاثوں (کتنے روپے مختص ہوئے) اور پیداوار(کتنے سکول یا کتنی کلومیٹر سڑک بنے گی) پر دی جاتی ہے۔ نہ کہ نتائج یا سارے عمل کے اعلیٰ معیار پر۔‘

’کسی ملک میں بجٹ سازی کا عمل شفاف، شراکت پر مبنی، ذمہ داراور عوام اور ریاست کی ضروریات کے مطابق ہونا چاہیے۔ (پاکستان میں) یہ مقاصد حاصل کرنے کے لیے وسیع تر ادارتی اصلاحات کی ضرورت ہے۔‘ 

بجٹ کی تیاری اور منظوری میں پارلیمان کا کردار 

قومی اسمبلی میں پیش ہونے کے دو روز بعد منی بل پر بحث شروع ہوتی ہے اور عموماً 12 سے 17 دن میں بجٹ منظور کر لیا جاتا ہے۔ 

تھینک ٹینک پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف لیجسلیٹیو ڈیولپمنٹ اینڈ ٹرانسپرنسی (پلڈاٹ) کے مطابق پاکستان میں بجٹ بنانے کے عمل میں پارلیمنٹ کی راہ میں اہم رکاوٹیں مثلاً وقت کی کمی، قائمہ کمیٹیوں کی عدم شمولیت اور پارلیمنٹ کے ادارے میں تحقیق کی استعداد کا فقدان ہیں۔ 

قومی اسمبلی کی مجموعی طور پر 41 قائمہ کمیٹیاں ہیں جبکہ سینیٹ کمیٹیوں کی تعداد 28 ہے لیکن بجٹ تجاویز کسی بھی کمیٹی کے سامنے نہیں رکھی جاتیں۔ 

ثاقب شیرانی لکھتے ہیں: ’بجٹ بنانے کے عمل میں پارلیمنٹ کو مکمل طور پر نظر انداز کیا جاتا ہے، حتیٰ کہ فنانس کی قائمہ کمیٹی اور کابینہ کو بھی بہت دیر سے مجوزہ بجٹ کی معلومات دی جاتی ہیں۔‘ 

پلڈاٹ کی ایک رپورٹ میں پاکستان کے بجٹ عمل کا موازنہ بھارت اور کینیڈا سے کرتے ہوئے نتیجہ اخذ کیا گیا کہ بھارت اور کینیڈا کی پارلیمانی کمیٹیاں بجٹ کے عمل میں نمایاں کردار ادا کرتے ہوئے حکومتی تجاویز کا جائزہ لینے میں پارلیمنٹ کو مدد فراہم کرتی ہیں۔

دوسرا فرق یہ کہ بھارت اور کینیڈا کے ایوان پورے بجٹ بشمول دفاعی اخراجات کا جائزہ لیتے اور جانچ پڑتال کرتے ہیں۔ 

بجٹ کے پاس کرنے میں سینیٹ کا کردار بہت محدود ہے، جہاں بجٹ پر بحث بھی ہوتی ہے اور تجاویز بھی دی جاتی ہیں۔ تاہم حکومت ان پر عمل درآمد کی پابند نہیں ہوتی۔ 

حزب اختلاف کا کردار 

مغربی جمہوریتوں میں حزب اختلاف کی شیڈو حکومتیں ہوتی ہیں، جو حکومتی کارکردگی اور پالیسیوں کا ناقدانہ تجزیہ کرتے ہوئے متبادل پالیسیاں پیش کرتی ہیں۔ 

شیڈو حکومتیں بجٹ کی تیاری کے عمل پر بھی نظر رکھتی ہیں اور عوامی مفادات کے پیش نظر اپنا بجٹ بھی پیش کرتی ہیں۔ 

پاکستان میں اس قسم کی کوئی پریکٹس موجود نہیں۔ حزب اختلاف کی جماعتوں کا بجٹ کی تیاری میں کوئی عمل دخل نہیں ہوتا۔ انہیں منی بل اور دوسری متعلقہ دستاویزات اُس دن ملتی ہیں جب وزیر خزانہ قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کرتے ہیں۔ 

منی بل پیش ہونے کے دو دن کے وقفے سے ایوان میں اس پر بحث شروع کی جاتی ہے۔ حزب اختلاف کی جماعتوں کے پاس یہی دو دن ہوتے ہیں جس دوران وہ پارلیمانی پارٹیوں کے اجلاسوں میں منی بل پر غور کر سکتی ہیں۔ 

اس حوالے سے مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال کہہ چکے ہیں کہ بہتر ہے پاکستان میں حزب اختلاف کو بجٹ بنانے کے عمل میں شامل کیا جائے اور کم از کم قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کو اس عمل کا حصہ ضرور بنایا جانا چاہیے۔ 

حکومتی بجٹ کی اقسام 

حکومتی بجٹ کی تین قسام ہو سکتی ہیں، جن میں متوازن بجٹ، سرپلس بجٹ اور خسارے کا بجٹ شامل ہیں۔ 

متوازن بجٹ:

متوازن حکومتی بجٹ ایک ایسے بجٹ کو کہا جاتا ہے جس میں حکومت کے کسی ایک مخصوص مالی سال کے لیے تخمینہ شدہ اخراجات اسی مالی سال میں متوقع حکومتی آمدن کے برابر ہوں۔ 

اکثر ماہرین اقتصادیات متوازن بجٹ کو ایک بہتر مالیاتی سٹیٹمنٹ قرار دیتے ہیں، اور اسے وسائل کے اندر رہنے کے اصول پر مبنی گردانتے ہیں۔ 
اگرچہ اس قسم کا بجٹ متوازن معیشت کے حصول اور مالیاتی نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے ایک مثالی بجٹ قرار دیا جاتا ہے، تاہم معاشی کساد بازاری یا افراط زر کی صورت میں متوازن بجٹ مالی استحکام کو یقینی نہیں بناتا۔ 

تخمینہ شدہ اخراجات اور متوقع آمدنی میں توازن قائم کرنا آسان ہے، تاہم عملی طور پر ایسا توازن حاصل کرنا مشکل ہوتا ہے۔ 

سرپلس بجٹ:

حکومتی بجٹ کو اضافی بجٹ کہا جاتا ہے اگر متوقع حکومتی محصولات کسی خاص مالی سال کے دوران تخمینہ شدہ سرکاری اخراجات سے زیادہ ہوں۔ یعنی لگائے گئے ٹیکسوں سے حکومت کی آمدن اس رقم سے زیادہ ہے جو حکومت عوامی بہبود پر خرچ کرتی ہے۔ 

سرپلس یا فاضل بجٹ کسی ملک میں دولت کی فراوانی کو ظاہر کرتا ہے، اور اس سے افراط زر پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ 

خسارے کا بجٹ:

حکومتی بجٹ کو خسارے کا یا ڈیفیسٹ بجٹ کہا جاتا ہے اگر تخمینہ شدہ حکومتی اخراجات کسی مخصوص مالی سال کے دوران متوقع حکومتی آمدن سے زیادہ ہو۔ 

اس قسم کا بجٹ ترقی پذیر معیشتوں، جیسے پاکستان کے لیے بہترین ثابت ہوتا ہے۔ 

خسارے کا بجٹ اضافی مانگ پیدا کرنے اور اقتصادی ترقی کی شرح کو بڑھانے میں مدد فراہم کرتا ہے کیونکہ حکومت روزگار کی شرح بہتر بنانے کے لیے ضرورت سے زیادہ خرچ کرتی ہے، جس کے نتیجے میں اشیا اور خدمات کی مانگ میں اضافہ ہوتا ہے جو معیشت کو بحال کرنے میں مدد کرتا ہے۔ 

تاہم خسارے کے بجٹ کی صورت میں حکومت کی طرف سے بے جا اخراجات کی حوصلہ افزائی ہو سکتی ہے، اور ملکی و غیر ملکی قرضوں کے بوجھ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان