دمشق: بلاول بھٹو کی پاکستانیوں کو فوری واپس لانے کی ہدایات

پاکستان کے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے شام میں موجود پاکستانی سفارت خانے کو ہدایت کی ہے کہ اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں وہاں پھنسے پاکستانیوں کی فوری وطن واپسی کو یقینی بنایا جائے۔

اس تصویر میں دمشق کے بین الاقوامی ہوائی اّڈے پر شام کا پرچم لہرا رہا ہے۔ یہ تصویر یکم اکتوبر 2020 کو  لی گئی تھی (تصویر: اے ایف پی فائل)

پاکستان کے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے شام میں موجود پاکستانی سفارت خانے کو ہدایت کی ہے کہ اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں وہاں پھنسے پاکستانیوں کی فوری وطن واپسی کو یقینی بنایا جائے۔

وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے سنیچر کی شام جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق ’اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں دمشق ائیر پورٹ کو شدید نقصان پہنچا ہے جس کے سبب فلائٹ آپریشن معطل ہو گیا ہے۔‘

بیان کے مطابق فلائٹ آپریشن معطل ہونے کی وجہ سے زیارات کی غرض سے شام موجود 160 پاکستانی محصور ہو گئے ہیں۔

وزیر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ شام میں موجود پاکستانی سفارت خانہ ان پھنسے پاکستانیوں سے رابطے میں ہے۔

اس قبل پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز نے بھی ایک بیان میں بتایا تھا کہ شام کے دارالحکومت دمشق کے ایئرپورٹ پر بمباری کی وجہ سے کراچی سے دمشق پرواز کو منسوخ کر دیا گیا ہے۔

پی آئی اے ترجمان نے سنیچر کو جاری کیے جانے والے بیان میں بتایا کہ جمعے کو دمشق ایئرپورٹ پر اسرائیلی فورسز کی بمباری سے دونوں رن وے ناقابل استعمال ہوگئے ہیں جس سے وہاں فضائی آپریشن مکمل طور پر معطل ہے۔

بیان کے مطابق: ’پی آئی اے کی پرواز پی کے 135 اتوار کی صبح 170 مسافروں کو لے کر روانہ ہونا تھی جبکہ دمشق سے واپسی کی پرواز پی کے 136 نے 169 مسافروں کو لے کر واپس آنا تھا۔‘

بیان میں کہا گیا ہے کہ دمشق ایئرپورٹ کا رن وے مکمل طور پر غیر فعال ہونے کے باعث ان پروازوں کو منسوخ کیا گیا ہے۔

بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ ’رن وے کے بحال ہوتے ہی پرواز دوبارہ روانہ کرنے کی تیاری کی جائے گی بصورت دیگر متبادل ذرائع سے مسافروں کو روانہ کیا جائے گا۔

بیان میں بتایا گیا ہے کہ ادارہ مسافروں کو فون کے ذریعے تازہ صورت حال سے آگاہ بھی کر رہا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق شام نے دمشق کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے رن وے سمیت بڑے نقصان کی تصدیق کی ہے، جسے اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد مرمت کے لیے ہفتے کے روز دوسرے دن بند رکھا گیا ہے۔

وزارت ٹرانسپورٹ نے ایک بیان میں کہا کہ رن وے ناقابل استعمال ہے۔

شام میں 2011 میں خانہ جنگی شروع ہونے کے بعد سے، اسرائیل نے اپنے پڑوسی ملک کے خلاف سینکڑوں فضائی حملے کیے ہیں جس میں سرکاری فوجیوں کے ساتھ ساتھ ایران کی حمایت یافتہ اتحادی افواج اور لبنان کے شیعہ عسکریت پسند گروپ حزب اللہ کے جنگجوؤں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔

لیکن ایسے حملوں کے نتیجے میں فلائٹس آمدورفت کم ہی متاثر ہوئی ہے۔

وزارت ٹرانسپورٹ کا کہنا ہے کہ ’ہوائی اڈے پر ہونے والے بڑے نقصان کی مرمت کے لیے شہری ہوا بازی کا ادارہ اور قومی کمپنیز کام کر رہی ہیں اور ایک ٹرمینل عمارت بھی متاثر ہوئی ہے۔‘

سرکاری خبر رساں ادارے ثنا کے مطابق اسرائیلی بمباری میں ایک شہری بھی زخمی ہوا ہے۔

لندن میں قائم سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے وار مانیٹر کے مطابق جمعے کی صبح ہونے سے پہلے میزائل حملے نے رن وے میں سے ایک کے پاس حزب اللہ اور ایران کے حمایت یافتہ دیگر گروپوں کے ہتھیاروں کے تین ڈپوز کو نشانہ بنایا۔

اسرائیلی ادارے (آئی ایس آئی) کی جانب سے ٹوئٹر پر پوسٹ کی جانے والی سیٹلائٹ تصاویر میں تین الگ الگ علاقوں کو دکھایا گیا ہے جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ حملوں کی وجہ سے ’فوجی اور شہری دونوں رن ویز کو بڑا نقصان‘ پہنچا ہے۔

آبزرویٹری کے مطابق تباہ شدہ رن وے وہ واحد رن وے تھا جو پچھلے سال ایک اسرائیلی حملے کے بعد اب بھی کام کر رہا تھا۔

روس کی مذمت

شام کے اتحادی روس نے ’ضروری شہری انفراسٹرکچر کے خلاف اشتعال انگیز اسرائیلی حملے‘ کی شدید مذمت کی ہے۔

روس کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ایسے حملوں کو ’بین الاقوامی اصولوں کی قطعی طور پر ناقابل قبول خلاف ورزی‘ قرار دیا ہے۔

شام کے سرکاری خبر رساں ادارے ثنا کے مطابق شام کے وزیر خارجہ فیصل مقداد اور ان کے ایرانی ہم منصب حسین امیر عبداللہیان نے فون پر بات کی اور حملے کی مذمت بھی کی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا