جنس کا کیسے پوچھا جائے؟ امریکہ میں لاکھوں ڈالر کا سروے

بیورو خاص طور پر اس بات کا جائزہ لینے میں دلچسپی رکھتا ہے کہ ’پراکسیز‘ جیسے کہ والدین، شریک حیات یا گھر کے کسی اور فرد کی طرف سے جوابات کیسے دیے جاتے ہیں۔

امریکی ادارہ برائے مردم شماری کو احساس ہو چکا ہے کہ لوگوں کو جنسی رجحان کے بارے میں معلومات کی فراہمی پر قائل کرنا مشکل ہے کیوں کہ بہت سے لوگ ایسی معلومات کو حساس خیال کرتے ہیں (پکسلز)

امریکہ میں 2020 کی مردم شماری کے سوالنامے میں لوگوں سے ان کے جنسی رجحان اور صنفی شناخت کے بارے میں براہ راست کوئی سوال نہیں کیا گیا۔ ہم جنس پرست اور خواجہ سرا افراد کے معاملے میں مردم شماری کے دوران صرف ان ہم جنس پرست جوڑوں کے بارے میں پوچھا گیا جو اکٹھے رہ رہے تھے۔

یہ صورت حال جلد ہی تبدیل ہو سکتی ہے۔

امریکی ادارہ برائے مردم شماری کو احساس ہو چکا ہے کہ لوگوں کو جنسی رجحان کے بارے میں معلومات کی فراہمی پر قائل کرنا مشکل ہے کیوں کہ بہت سے لوگ ایسی معلومات کو حساس خیال کرتے ہیں۔

اب امریکی ادارہ برائے مردم شماری نے حکومت سے لاکھوں ڈالر کے فنڈ کی درخواست کی تاکہ یہ سروے کروایا جا سکے کہ لوگوں سے ان کے جنسی میلان اور صنفی شناخت کے بارے میں کیسے پوچھا جائے۔

اس مطالعے کے نتیجے جنسی میلان اور صنفی شناخت کے حوالے سے امریکہ میں ہم جنس پرست اور خواجہ سرا افراد کی تعداد کے بارے میں بہتر معلومات دستیاب ہو سکتی ہیں۔

ان معاملات میں تحقیق کرنے والے یو سی ایل اے سکول آف لا کے ولیمز انسٹی ٹیوٹ کی ڈائریکٹر کیرتھ کنرون کے بقول: ’تبدیلی دکھائی دے رہی ہے۔ یہ حوصلہ افزا ہے۔‘

مردم شماری بیورو کی فنڈ کے لیے درخواست اس وقت کی گئی ہے جب صدر جو بائیڈن نے جون کو ہم جنس پرستوں اور خواجہ سراؤں کے لیے ’فخر کا مہینہ‘ قرار دیا۔

اب امریکی پاسپورٹ میں جنس کے خانوں میں مرد اور خاتون کے لیے مخصوص خانوں کے ساتھ ساتھ تیسرے خانے کا اضافہ کیا گیا ہے جو خواجہ سرا افراد کے لیے ہے۔

یہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب بعض ریاستوں کی مقننہ نے جہاں رپبلکن ارکان کا غلبہ ہے، سکولوں میں جنسی رجحان اور صنفتی شناخت کے بارے میں سوالات کو محدود کر رکھا ہے جب کہ خواجہ سرا لڑکیوں پر لڑکیوں کے لیے مخصوص کھیلوں میں حصہ لینے پر پابندی لگا دی ہے۔ 

اورلینڈو میں خواجہ سراؤں کی تنظیم ایکویلیٹی فلوریڈا سے وابستہ خواجہ سرا خاتون جیناڈنکن کا کہنا ہے کہ ’ہم دیکھ رہے ہیں جب سیاست دان احترام میں کمی لانے اور لوگوں کے خلاف ثقافتی جنگ میں مصروف ہوں تو ہم دیکھتے ہیں کہ تعداد اہمیت اختیار کر جاتی ہے۔‘

ان حالات میں کہ جب امریکہ میں شماریات کے سب سے بڑے ادارے مردم شماری بیورو نے مثال قائم کر دی ہے کہ دوسرے ادارے اور کاروبار یہ سوالات کیسے پوچھیں۔

جنسی رجحان معلوم کرنے کے لیے جو الفاظ عام طور پر استعمال کیے جاتے ہیں وہ ہم جنس پرست، مرد حضرات اور خواتین دونوں میں دلچسپی اور معمول کا جنسی میلان شامل ہے۔ صنفی اصولوں کو عام طور پر مرد یا خاتون یا دونوں کے حوالے سے خیال کیا جاتا ہے۔

کئی سالوں میں مردم شماری بیورو کو ایک کروڑ ڈالر کے فنڈ دیے جائیں گے تاکہ وہ ان مختلف الفاظ کا فیلڈ ٹیسٹ اور سوالات کا تعین کر سکے جو ادارے کے سالانہ کمیونٹی سروے کا حصہ بنیں گے۔

بیورو خاص طور پر اس بات کا جائزہ لینے میں دلچسپی رکھتا ہے کہ ’پراکسیز‘ جیسے کہ والدین، شریک حیات یا گھر کے کسی اور فرد کی طرف سے جوابات کیسے دیے جاتے ہیں۔ یہ لوگ وہ نہیں جن کے بارے میں سوال پوچھا جا رہا ہے۔

دیگر وفاقی ادارے پہلے سے ہی جنسی رجحان کے بارے میں پوچھ رہے ہیں۔ یہ سوالات بنیادی طور پر صحت کے حوالے سے کروائے گئے سروے کے دوران انٹرویو کرنے والا تربیت یافتہ عملہ کرتا ہے۔

سروے میں لوگ خود سوالات کا جواب دیتے ہیں۔ مردم شماری کے بڑے پیمانے پر جاری کیے جانے والے سروے کا زیادہ تر انحصار بالواسطہ طور پر پوچھے گئے سوالات پر ہوتا ہے۔ الفاظ اور طریقہ کار کی اہمیت ہوتی ہے کیوں کہ وہ نتائج کی درستی کو متاثر کرتے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی امریکہ