آئی پی ایل دنیا کی امیر ترین لیگز میں شامل

بھارت کے کرکٹ بورڈ نے تین روزہ نیلامی کا انعقاد کیا جس کے نتیجے میں والٹ ڈزنی کے سٹار انڈیا اور بھارتی میڈیا گروپ ویاکوم18 نے 27-2023 کے لیے آئی پی ایل کے نشریاتی اور سٹرینمگ حقوق چار کھرب سے زائد بھارتی روپے میں حاصل کر لیے ہیں۔

بھارتی سپر سٹار  اور کولکتہ نائٹ رائیڈرز کے شریک مالک شاہ رخ خان  30 مئی 2012 کو ممبئی میں آئی پی ایل کی ٹرافی کے ساتھ (اے ایف پی)

بھارتی کرکٹ بورڈ نے انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کے ٹی وی براڈکاسٹنگ اور سٹریمنگ کے حقوق کی فروخت کا چھ ارب ڈالر (تقریباً پانچ ارب پاؤنڈ یعنی چار کھرب سے زائد بھارتی روپے) کا معاہدہ کیا ہے، جس کے بعد یہ لیگ دنیا میں کھیلوں کی امیر ترین لیگوں میں سے ایک بن گئی ہے۔

بھارت کے کرکٹ بورڈ نے تین روزہ نیلامی کا انعقاد کیا جس کے نتیجے میں والٹ ڈزنی کے سٹار انڈیا اور بھارتی میڈیا گروپ ویاکوم18 نے 27-2023 کے لیے اس ٹی 20 کرکٹ ٹورنامنٹ کو نشر کرنے کے حقوق حاصل کیے۔

ویاکوم 18 کو ریلائنس انڈسٹریز کی حمایت حاصل ہے جو بھارت کے امیر ترین شخص مکیش امبانی کی ملکیت ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ ان انڈیا (بی سی سی آئی) کے سکریٹری جے شاہ نے ٹویٹ ایک کیا کہ اس نیٹ ورک نے تقریباً 3.05 ارب ڈالر (2.53 ارب ڈالر) میں سٹریمنگ کے حقوق حاصل کیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سٹار انڈیا نے اسی مدت کے لیے 3.02 ارب ڈالر (2.4 ارب ڈالر) کی بولی لگا کر میڈیا رائٹس لیے۔

آئی پی ایل کے نشریاتی حقوق کی قیمت اس کے پچھلے پانچ سیزن کے لیے ادا کیے گئے 2.4 ارب ڈالر سے بھی دگنی تھی۔

ریکارڈ توڑ معاہدے نے آئی پی ایل کو فی میچ لاگت کے لحاظ سے انگلش پریمیئر لیگ اور یو ایس کی این ایف ایل کے برابر لا کھڑا کیا ہے۔

الیکٹرانک نیلامی فی میچ کی بنیاد پر کی گئی، جس کا مطلب ہے کہ نشریاتی حقوق خریدنے والی کمپنیاں بھارتی کرکٹ بورڈ کو فی میچ 73 لاکھ ڈالر (61 لاکھ پاؤنڈ) ادا کیے۔

آئی پی ایل میں اس وقت فی سیزن 74 میچ ہیں لیکن یہ تعداد ممکنہ طور پر بڑھ جائے گی۔

جے شاہ نے لکھا: ’اس کے آغاز سے ہی آئی پی ایل کا مطلب ترقی رہا ہے اور آگ بھاتی کرکٹ لیے یادگار ہے۔‘

انہوں نے دعویٰ کیا کہ آئی پی ایل اب فی میچ قیمت کے لحاظ سے دنیا کی دوسری سب سے زیادہ مہنگی سپورٹنگ لیگ ہے۔

آئی پی ایل کی عالمی مقبولیت ٹی 20 کرکٹ فارمیٹ کی وجہ سے ہے جس میں ہر ٹیم صرف 20 اوورز کھیلتی ہے۔

یہ فارمیٹ 2018 میں شروع ہونے کے بعد مقبولیت کی بلندیوں پر ہے جس میں دنیا کے سب سے بڑے کرکٹ سٹار بھاری رقم کے معاہدوں پر ٹیموں کے لیے کھیلتے ہیں۔

کرکٹ کی بڑے پیمانے پر مقبولیت کے ساتھ ساتھ اس فارمیٹ نے اس لیگ کی بھارت میں میڈیا ویلیو کو بہت بڑھا دیا ہے۔

انٹرنیشنل کنٹینٹ اینڈ آپریشنز کی چیئرپرسن ربیکا کیمبل نے کہا: ’آئی پی ایل بھارت میں ہمارے ٹیلی وژن چینلز کے پورٹ فولیو کا ایک اہم جزو ہے، جو ہمیں والٹ ڈزنی کمپنی کے طاقتور عالمی برانڈز اور کہانیوں کو، اور ڈزنی سٹار کے بہترین مقامی کنٹینٹ کو بھارت میں لاکھوں ناظرین کو دکھانے کا ناقابل یقین موقع فراہم کرتا ہے۔‘

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی کھیل