سعودی عرب سے سرمایہ کاری تعاون بڑھانا چاہتے ہیں:وزیراعظم

’اب وقت آ گیا ہے کہ ایک روڈ میپ تیار کیا جائے جس کے ذریعے نہ صرف ہم اپنی تجارت کو فروغ دے سکیں بلکہ سرمایہ کاری کو بھی بڑھا سکیں۔‘

وزیراعظم شہباز شریف نے اپنی تقریر میں کہا کہ پاکستان قدرتی وسائل سے مالا مال ملک ہے اور یہاں کم لاگت والی افرادی قوت بھی موجود ہے (سکرین گریب: پی ٹی وی)

وزیراعظم شہباز شریف نے آج اسلام آباد میں سعودی وفد سے ملاقات کے دوران بیان دیا ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری میں تعاون بڑھانا چاہتے ہیں۔

اتوار کو سعودی کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں کے وفد سے خطاب میں وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ سعودی وفد سے ملاقات کرکے خوشی ہوئی ہے۔

’اب وقت آ گیا ہے کہ ایک روڈ میپ تیار کیا جائے جس کے ذریعے نہ صرف ہم اپنی تجارت کو فروغ دے سکیں بلکہ سرمایہ کاری کو بھی بڑھا سکیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’پاکستان اور سعودی عرب یک جان اور دو قالب ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ سعودی سرمایہ کاری سے پاکستانی عوام کے لیے روزگار، پیداوار اور آمدن کی سہولت ہوگی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اپنی تقریر میں کہا کہ پاکستان قدرتی وسائل سے مالا مال ملک ہے اور یہاں کم لاگت والی افرادی قوت بھی موجود ہے۔

وزیراعظم کے مطابق ’پاکستان میں ایک بلین ڈالر سرمایہ کاری کی پیشکش پر ہمیں ساتھ بیٹھ کر لائحہ عمل تیار کرنا ہوگا۔‘

پاکستان میں آئل ریفائنری لگانے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ’جہاں تک مجھے یاد ہے 2019 میں آئل ریفائنری کی بات ہوئی تھی تو ہم اس پر بات کرنے کے لیے تیار ہیں۔‘

سعودی پاک بزنس کونسل کے چیئرمین فہد بن محمد کی قیادت میں پیر کو 15 رکنی سعودی تجارتی وفد پاکستان میں مشترکہ منصوبوں اور سرمایہ کاری کے مواقع دیکھنے اسلام آباد پہنچا ہے۔

پاکستان کے دورے پر آئے سعودی سرمایہ کاروں کے وفد کے سربراہ اور سعودی پاکستان بزنس کونسل کے چیئرمین فہد بن محمد الباش نے کہا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے پاس باہمی تجارتی تعاون کو فروغ دینے اور ایک دوسرے کے ملک میں سرمایہ کاری کے علاوہ کوئی آپشن موجود نہیں۔

فہد بن محمد الباش کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کی معیشت میں کیمیکل انڈسٹری، رئیل اسٹیٹ، سیاحت میں پاکستانی سرمایہ کاروں کے لیے اچھے مواقع ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے بہت مواقع دیکھے ہیں، ہم دونوں ممالک کے سفارت خانوں کے ساتھ مل کر زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک میں برآمدات کے مواقع کے حوالے سے پاکستان میں سعودی مصنوعات اور سعودی عرب میں پاکستانی مصنوعات کی نمائش کا انعقاد کیا جائے گا۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان