’پرندے میرے بزنس پارٹنر ہیں‘

فیصل آباد کے رہائشی اعجاز جازی قدرت کی حسین مخلوق پرندوں کو درپیش بقا کے خطرات میں کمی کے لیے کوشاں ہیں۔

اعجاز جاری 15 سال سے شہر کے مختلف پارکوں، سڑکوں اور دیگرعوامی مقامات پر پرندوں کے لیے گھونسلے بنانے کے علاوہ انہیں دانہ اور پانی فراہم کرنے کے لیے برڈ فیڈرز لگا رہے ہیں (فوٹو: ویڈیو سکرین گریب/نعیم احمد)

دور حاضر کی مشینی زندگی اورمصروفیات نے اگرچہ ہمیں قدرت کی بہت سی نعمتوں سے بے نیاز کر دیا ہے لیکن اب بھی کچھ لوگ ایسے ہیں جو دن کا آغاز چڑیوں کی چہچہاہٹ اور مینا و بلبل کے سریلے گیتوں سے کرنے کے متمنی ہیں۔

فیصل آباد کے رہائشی اعجاز جازی ایک ایسی ہی شخصیت ہیں، جو قدرت کی حسین مخلوق پرندوں کو درپیش بقا کے خطرات میں کمی کے لیے کوشاں ہیں۔

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وہ گذشتہ 15 سال سے شہر کے مختلف پارکوں، سڑکوں اور دیگرعوامی مقامات پر پرندوں کے لیے گھونسلے بنانے کے علاوہ انہیں دانہ اور پانی فراہم کرنے کے لیے برڈ فیڈرز لگا رہے ہیں۔

’ہمارے یہاں پر کنکریٹ ورک ہو رہا ہے، بڑی بڑی عمارتیں بن رہی ہیں، درخت کٹ رہے ہیں، جس سے پرندوں کے گھر ختم ہو رہے ہیں، انہیں کھانے کا مسئلہ آ رہا ہے، ان کو پانی نہیں مل رہا، یہ مر رہے ہیں۔ یہ ہمارے ماحول سے نکلتے جا رہے ہیں، انہیں اپنے ماحول میں واپس لانے کے لیے میں نے یہ مہم شروع کی ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ وہ یہ کام اپنی مدد آپ کے تحت کرتے ہیں اور اس کے لیے انہوں نے پرندوں کو باقاعدہ اپنا بزنس پارٹنر بنا کر ان کے لیے ایک خاص شرح منافع مقرر کی ہوئی ہے، جس سے وہ برڈ ہاؤس اور برڈ فیڈرز بنا کر شہر میں مختلف مقامات پر لگاتے رہتے ہیں۔

مزید پڑھیے: پاکستان میں پرندوں کو شکاریوں سے بچانے والا گمنام ہیرو

بقول اعجاز: ’انسان اپنی تکلیف بتا سکتے ہیں، ان کی زبان ہے وہ اپنا مسئلہ دوسرے کو بتا سکتے ہیں۔ اس کو حل بھی کر سکتے ہیں۔ یہ پرندے بے زبان ہوتے ہیں اور یہ بڑے نازک ہوتے ہیں، انہیں تھوڑی سی گرمی زیادہ لگے، کھانا نہ ملے یا پانی نہ ملے تو یہ مرجاتے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ایکوسسٹم کو بچانے کے لیے درخت اورپرندے بہت ضروری چیزیں ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ شروع میں وہ خود یا ان کی ٹیم کے لوگ برڈ فیڈرز میں دانہ پانی ڈالتے تھے لیکن اب پارکوں میں سیر کے لیے آنے والے افراد خود ہی ان میں پرندوں کے لیے خوراک اور پانی ڈال جاتے ہیں۔

’آپ نے دیکھا ہوگا کہ ہمارے برڈ فیڈرز کے اوپر بہت اچھی باتیں لکھی ہوئی ہیں۔ خالہ، باجی، ماموں، چاچو، تاؤ، ہم نے یہ سارے رشتے ان کے اوپر لکھے ہوئے ہیں۔ یہ پرندے سیر کرنے والے لوگوں سے درخواست کر رہے ہیں کہ ہمیں پانی پلا دیں، ہمیں کھانا کھلا دیں اوران چیزوں سے لوگوں میں دلچسپی پیدا ہوتی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ وہ یہ سب دوسروں کی آگاہی کے لیے کرتے ہیں تاکہ لوگوں میں دلچسپی پیدا ہو اور وہ اپنے گھروں میں یا کہیں اورپرندوں کے لیے جو بھی کر سکتے ہیں وہ کریں۔

انہوں نے بتایا کہ انہیں دیکھ کر بہت سارے لوگوں نے اپنے گھروں میں پرندوں کو پانی پلانے اور دانہ ڈالنے کے لیے برڈ فیڈرز یا مٹی کے برتن رکھ لیے ہیں۔

اعجاز جازی کے مطابق اب تک وہ ہزاروں کی تعداد میں برڈ ہٹ اور برڈ فیڈرز لگا چکے ہیں۔

انہوں نے بتایا: ’پہلے میرے بچے چھوٹے تھے تو وہ میرے ساتھ  جاتے تھے اور اب وہ میرے ساتھ برڈ فیڈرز لگوانے کے لیے آ رہے ہیں۔‘

یہ بھی پڑھیے: نئی دہلی: زخمی پرندوں کا علاج کرنے والے دو بھائی

اس موقع پر موجود ان کے بیٹے حمزہ جازی نے بتایا کہ وہ بچپن سے اپنے والد کو پرندوں، درختوں اور ماحولیات کی بہتری کے لیے کچھ نہ کچھ کرتے ہوئے دیکھ رہے ہیں اور اب انہیں بھی اس کام میں بہت زیادہ دلچسپی پیدا ہو گئی ہے۔

انہوں نے بتایا: ’پہلے جب ہم سکول جاتے تھے تو پرندے ہر وقت آوازیں نکال رہے ہوتے تھے لیکن اب لگتا ہے وہ چیز کم ہو گئی ہے۔ ہم اس  کو بحال کرنا چاہتے ہیں، اس کے لیے لوگوں کو بتا رہے ہیں تاکہ وہ اس کو فالو کریں۔‘

حمزہ کا کہنا تھا کہ وہ ذاتی طور پر یہ چاہتے ہیں کہ جہاں بھی کوئی رہائشی کالونی بنے اس کے لیے حکومت کی طرف سے یہ لازمی قرار دیا جائے کہ ایک مخصوص حصے میں اتنے درخت ہونے چاہییں اور پرندوں کے لیے قدرتی مسکن ہونا چاہیے۔

بقول حمزہ: ’بیرون ملک ہم دیکھتے ہیں کہ وہاں سب سے پہلی ترجیح جانداروں کے لیے ہے۔ انسان ہو یا جانور، اس کے بعد وہ بلند و بالاعمارتیں بنا رہے ہیں اور اچھے طریقے سے ان کا انتظام چلا رہے ہیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی میری کہانی