مسابقتی کمیشن کے 70 ارب روپے کے جرمانے، وصول آٹھ کروڑ ہوئے

مسابقتی کمیشن کی دستاویز کے مطابق پچھلے 15 سالوں میں 189 کمپنیوں پر جرمانے عائد ہوئے لیکن ان میں سے صرف 28 نے انہیں ادا کیا۔

30 اپریل 2008 کی اس تصویر میں کراچی کی ایک مارکیٹ میں مزدور چینی کا تھیلا اٹھائے دیکھا جا سکتا ہے۔ پاکستان کے مسابقتی کمیشن نے کاروباری بے ضابطگیوں پر چینی کی صعنت پر کروڑوں روپے کا جرمانہ عائد کیا ہے(اے ایف پی)

پاکستان میں نجی کمپنیوں و کاروباری اداروں کے گٹھ جوڑ اور غیرقانونی سرگرمیوں پر نظر رکھنے والے سرکاری ادارے مسابقتی کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) نے پچھلے 15 سالوں میں ان اداروں پر مجموعی طور پر تقریباً 70 ارب روپے کے جرمانے عائد کیے جن کی ادائیگی نہ ہونے کے برابر ہے۔

اس کی بڑی وجہ بڑی کمپنیاں اور کارٹلز کی جانب سے عدالتوں سے سی سی پی کے فیصلوں کے خلاف باآسانی حکم امتناعی حاصل کر لینا ہیں جو سالوں چلتے ہیں۔ ان سرگرمیوں کے نتیجے میں صارفین سے من مانی قیمتیں وصول کی جاتی ہیں۔

سی سی پی کی دستاویز کے مطابق 2007 سے 2022 کے دوران 189 کمپنیوں و کاروباری اداروں کو مسابقت دشمن سرگرمیوں پر مجموعی طور پر تقریباً 70 ارب روپے کے جرمانے کیے گئے لیکن ان میں سے صرف 28 کمپنیوں سے آٹھ کروڑ روپے جرمانے کی وصولی ممکن ہوئی ہے۔

پاکستان میں چینی بنانے کے کارخانوں کی نمائندہ تنظیم آل پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن پر بھی گذشتہ چند سالوں کے دوران گٹھ جوڑ کرنے والا ایک کارٹل بننے اور مبینہ طور پر مارکیٹ میں اپنی مرضی سے قیمتیں اوپر اور نیچے کرنے کا الزام ہے۔ مل مالکان اس سے تاہم انکار کرتے ہیں۔

سی سی پی کی تحقیقات کے نتیجے میں گذشتہ سال 63 شوگر ملوں اور ان کی نمائندہ تنظیم کو مجموعی طور پر 43 ارب روپے سے زیادہ کا جرمانہ ہوا، جس کے خلاف بھی عدالت سے حکم امتناعی حاصل کیا گیا۔

شوگر ملز مالکان اور ان کی نمائندہ تنظیم (اے پی ایس ایم اے) کی طرح گذشتہ 14 سالوں کے دوران کارٹلائزیشن کے جرم کے تحت سزا پانے والے کاروباری اداروں یا تنظیموں میں سے محض چند ایک کے علاوہ کسی نے جرمانے ادا نہیں کیے۔

ترجمان سی سی پی کا کہنا تھا کہ ’مسابقتی کمیشن کا مقصد کاروباری اداروں پر صرف جرمانے عائد کرنا نہیں بلکہ یہ تعین بھی کرنا ہے کہ کون صاف ستھرا کاروبار کر رہا ہے اور کون مسابقت دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہے۔‘

سی سی پی چینی کارخانوں کے علاوہ پاکستان آٹو موبائل اسمبلرز ڈیلرز ایسوسی ایشن، پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن، پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن سمیت کاروباری وصنعتی شعبے کی 15 ایسوسی ایشنوں کو کارٹلز قرار دے کر 87 کروڑ 60 لاکھ روپے جرمانے عائد کر چکا ہے۔

سی سی پی نے کس شعبے کو کتنا جرمانہ کیا؟

سی سی پی کی حاصل کی گئی ایک دستاویز کے مطابق 2007 میں کمیشن کے قیام سے لے کر 2022 کے دوران سب سے زیادہ 43 ارب 59 کروڑ روپے جرمانہ شوگر انڈسٹری کو کیا گیا۔ جن دیگر شعبوں پر جرمانے عائد کیے گئے ان کی فہرست یہ ہے:

کمیشن نے کاروباری اداروں و صنعتوں کو سب سے زیادہ 63 ارب 77 کروڑ 41 لاکھ روپے جرمانہ گٹھ جوڑ اور غیرقانونی معاہدوں کے ذریعے کارٹلز بنانے پر یعنی مسابقت ایکٹ 2010 کی شق نمبر چار کے تحت کیا، بالادستی و اجارہ داری قائم کرنے پر شق نمبر تین کے تحت تین ارب 50 کروڑ 71 لاکھ روپے جرمانہ کیا جبکہ بالادستی قائم کرنے کے لیے کمپنیوں کے انضمام پر یعنی شق نمبر 10 کے تحت ایک ارب 64 کروڑ 20 لاکھ روپے جرمانہ کیا۔

مسابقت دشمن سرگرمیوں پر سب سے زیادہ جرمانہ 2021 میں 43 ارب 74 کروڑ 50 لاکھ روپے کیا گیا۔ اس کے علاوہ 2013 میں 14 ارب 75 کروڑ 54 لاکھ روپے، 2009 میں چھ ارب 78 کروڑ 65 لاکھ روپے، 2012 میں ایک ارب 22 کروڑ 45 لاکھ روپے، 2022 میں ایک ارب 10 کروڑ روپے، 2019 میں 29 کروڑ پانچ لاکھ روپے، 2010 میں 27 کروڑ 52 لاکھ 50 ہزار روپے، 2008 میں 20 کروڑ 60 لاکھ روپے، 2016 میں 15 کروڑ 20 لاکھ روپے، 2015 میں 14 کروڑ 33 لاکھ 50 ہزار روپے، 2011 میں 10 کروڑ 90 لاکھ روپے، 2017 میں 9 کروڑ 85 لاکھ روپے، 2018 میں تین کروڑ 77 لاکھ روپے اور 2020 میں 12 لاکھ 50 ہزار روپے جرمانہ کیا گیا جبکہ 2014 میں کوئی جرمانہ نہیں ہوا۔

کارٹلز کی تاریخ

پورڈیو یونیورسٹی آف ویسٹ لافائیٹ انڈیانا (امریکہ) سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کرنے والے جان کونر کے مطابق فری مارکیٹ میں مختلف کاروباری حضرات یا کمپنیوں کے گروپ کو کارٹل کہتے ہیں جو خفیہ گٹھ جوڑ کر لیں تاکہ مصنوعات کی طلب و رسد کو کنٹرول کرکے قیمتوں پر اثر انداز ہو سکیں۔

کارٹلز عہد قدیم میں بھی پائے جاتے تھے، یورپی عہد وسطیٰ کے گلڈز اس کی واضح مثال ہیں، جہاں کاریگروں اور مرچنٹس کی ایسوسی ایشنز بنا کر ایک مخصوص علاقے میں مصنوعات کی تجارت کو کنٹرول کیا جاتا تھا۔

اس کے علاوہ عہد وسطیٰ کے آخر میں کان کنی کے شعبے میں زیادہ منظم انداز میں کام کرنے والے کارٹلز دیکھے جاسکتے ہیں۔

1301 میں فرانس اور اٹلی میں نمک کے سنڈیکیٹ بنے جبکہ 1470 میں (پاپائیت کے عہد میں) اٹلی میں ایلیومینیم کے شعبے میں کارٹلز تشکیل پائے۔ تاہم جدید کارٹلز کی باقاعدہ تشکیل پہلی عالمی جنگ کے بعد 1930 سے 1945 کے دوران نازی جرمنی، اٹلی، سپین اور جاپان میں ہوئی جہاں حکومتی سرپرستی میں باقاعدہ کارٹلز بنائے گئے تاکہ کارپوریٹ اکانومی کو بڑھاوا دیا جا سکے۔

دوسری عالمی جنگ کے دوران امریکہ نے کارٹلز سے منہ موڑ لیا اور 1945 کے بعد امریکی حمایت یافتہ مارکیٹ لبرلائزیشن کی وجہ سے دنیا بھر میں کارٹلائزیشن پر پابندی لگ گئی کیونکہ کارٹلز دنیا میں ملکوں کے تعداد کے بڑھنے اور معیشت کے فروغ میں رکاوٹ بن رہے تھے۔

پاکستان میں مسابقت دشمن سرگرمیوں میں ملوث کمپنیاں

شوگر انڈسٹری کے علاوہ جن بڑی کمپنیوں کو بھاری جرمانے ہوئے ان میں پی ٹی سی ایل کو اپریل 2013 میں آٹھ ارب 31 کروڑ روپے جرمانہ ہوا، جنوری 2013 میں اینگرو فرٹیلائزر کو تین ارب 14 کروڑ روپے روپے، اگست 2009 میں لکی سیمنٹ کو ایک ارب 27 کروڑ 20 لاکھ، ڈی جی خان سیمنٹ 93 کروڑ 30 لاکھ ، میپل لیف سیمنٹ 58 کروڑ 60 لاکھ روپے جرمانہ ہوا۔ تاہم ان میں کسی بھی کمپنی نے جرمانہ ادا نہیں کیا۔

نیز سی سی پی نے فوجی فرٹیلائزر لمیٹڈ کو جنوری 2013 میں ساڑھے پانچ ارب روپے کا جرمانہ کیا مگر ایف ایف سی کی درخواست پر کمیشن معاملے کا دوبارہ جائزہ لے رہا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مسابقتی کمیشن کے ترجمان کا مزید کہنا ہے، ’سی سی پی نے 2007 میں اپنے قیام کے فوراَ بعد معیشت میں مقابلے کے فروغ اور مسابقتی مخالف سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے ٹھوس اقدامات کا آغاز کیا۔ بالادستی کے غلط استعمال، ممنوعہ معاہدوں یعنی کارٹلائزیشن اور دھوکہ دہی پر مبنی تشہیر یا مارکیٹنگ کے خلاف انکوائریاں کیں اور آرڈر جاری کیے۔‘

انہوں نے بتایا کہ ’سی سی پی کے قیام کے پہلے تین سالوں میں مجموعی طور پر کم و بیش چھ ارب کے جرمانے عائد کیے گئے۔ بعد ازاں 2013 تک ان جرمانوں کی مجموعی رقم 29 ارب روپے تک پہنچ گئی جبکہ 2021 میں شوگر ملز پر ریکارڈ 44 ارب روپے جرمانے کے ساتھ جرمانے کی مجموعی رقم  تقریبا 70 ارب تک پہنچ گئی۔‘

’ان جرمانوں کے سلسلے میں دائر کردہ اپیلوں پر سماعت مختلف عدالتوں میں جاری ہے اور کمیشن بھرپور طریقے سے مقدمات کا دفاع کر رہا ہے۔‘

کون سی کمپنی نے تمام جرمانہ ادا کیا؟

  سی سی پی نے بحریہ ٹاؤن کو جنوری 2017 میں غیرمسابقتی سرگرمیوں پر 20 لاکھ روپے جرمانہ کیا جو اس نے 100 فیصد ادا کردیا۔

اسی طرح کراچی و لاہور سٹاک ایکسچینجز کو مارچ 2009 میں (فی کس) دو لاکھ روپے جرمانہ ہوا، فروری 2011 میں پاکستان جیوٹ ملز ایسوسی ایشن کو 50 لاکھ روپے، سرگودھا جیوٹ ملز کو 20 لاکھ روپے، امین فیبرکس لمیٹڈ کو 10 لاکھ روپے، کریسنٹ جیوٹ پراڈکٹس لمیٹڈ کو 20 لاکھ،  تھل لمیٹڈ کو 20 لاکھ، پائنیر جیوٹ ملز کو 20 لاکھ ، سہیل جیوٹ ملز کودس لاکھ روپے، مدینہ جیوٹ ملز کو 20 لاکھ روپے، انڈس جیوٹ ملز کو20 لاکھ روپے اور وائٹ پرل جیوٹ ملز کو 20 لاکھ روپے جرمانہ ہوا جبکہ مئی 2011 میں کریٹیو انجینیئرنگ پرائیویٹ لمیٹڈ کو20 لاکھ  روپے، جون 2011 میں پاکستان شپس ایجنٹس ایسوسی ایشن کو 10 لاکھ روپے، اگست 2010 میں ایس گروپ آف انسٹری کو اڑھائی لاکھ روپے، دسمبر 2012 میں مسٹر عذیر کوپانچ لاکھ روپے، جون 2015 میں تارا کراپ سائنس پرائیویٹ لمیٹڈ کو 10 لاکھ روپے، اگست 2018 میں عامر کلاتھ  ہاؤس کو پانچ لاکھ روپے جبکہ مارچ 2021 میں پولی فائن کیم فارما کو ایک لاکھ روپے جرمانہ ہوا، جبکہ مذکورہ بالا کمپنیوں و افراد نے جرمانے کی سوفیصد رقم ادا کی ہے۔

جنہوں نے پورا جرمانہ ادا نہیں کیا

حبیب جیوٹ ملز کو فروری 2011 میں سی سی پی نے 20 لاکھ روپے جرمانہ کیا جس میں سے اس نے 10 لاکھ روپے ادا کیے۔ ایم آر الیکٹرک کنسرن پرائیویٹ لمیٹڈ کو مئی 2011 میں 20 لاکھ روپے جرمانہ ہوا جس میں سے دو لاکھ روپے ادا ہوئے، پراکٹر اینڈ گیمبل پاکستان (پرائیویٹ) لمیٹڈ کو جولائی 2017 میں ایک کروڑ روپے جرمانہ ہوا جس میں سے 30 لاکھ روپے ادا ہوئے، ویژن ڈویلپرز پرائیویٹ لمیٹڈ کو دسمبر 2017 میں ایک کروڑ روپے جرمانہ ہوا جبکہ 68 لاکھ 49 ہزار روپے ادا کیے، ڈارئی اینڈ ایسیڈ لیڈ بیٹری مینوفیکچررز کو مارچ 2018 میں 50 لاکھ روپے جرمانہ ہوا مگر 30 لاکھ روپے ادا کیے، الیکٹرک کیبل مینوفیکچررز کو مارچ 2019 میں ایک کروڑ 80 لاکھ روپے جرمانہ ہوا مگر پانچ لاکھ روپے ادا کیے ہیں۔

ترجمان سی سی پی نے بتایا کہ کمیشن مختلف شعبوں بشمول آئل، چینی، سیمنٹ، پولٹری فیڈ، بناسپتی گھی، ٹریکٹرز، ٹرانسپورٹ اور پاور سیکٹر میں مسابقت مخالف سرگرمیوں کے خلاف انکوائریوں پر تیزی سے کام کر رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ’جولائی 2020 سے لے کر اب تک سی سی پی نے 38 انکوائریوں پر کام شروع کیا جن میں سے 29 انکوائریاں مکمل کرلی ہیں۔‘

’سی سی پی اپنے محدود وسائل کے باوجود باقی مانندہ انکوائریز کو جلد نمٹانے کا عزم رکھتا ہے جبکہ اسی عرصے میں کمیشن نے 132 مرجرز اور 105 ایگزمشن آرڈرز جاری کیے ہیں۔‘

کس چیئرپرسن کے دور میں زیادہ جرمانے ہوئے؟

سی سی پی نے سب سے زیادہ یعنی 65 ارب 37 کروڑ روپے کے جرمانے (موجودہ) چیئرپرسن راحت کونین حسن کی سربراہی میں (جولائی 2010 تا اگست 2013 اور جولائی 2020 تا جون 2022 کے دوران) کیے۔

سابق چیئرمین سی سی پی خالد مرزا کی سربراہی میں (اکتوبر 2007 تا جولائی 2010 کے دوران) سات ارب چار کروڑ روپے سے زائد اور چیئرپرسن سی سی پی ودیعہ خلیل کی سربراہی میں (دسمبر 2017 تا مئی 2020 کے دوران) 73 کروڑ 7 لاکھ روپے کے جرمانے کیے گئے۔

قائم مقام چیئرمین سی سی پی ڈاکٹر جوزف ولسن کی سربراہی میں (2013 تا دسمبر 2014 کے دوران) مسابقتی کمیشن نے کوئی جرمانہ نہیں کیا۔

مسابقتی قانون کیا کہتا ہے؟

مسابقتی ایکٹ 2010 اداروں کے ذریعے مارکیٹ کی طاقت کے غلط استعمال کو روکتا ہے۔ یہ قانون تجارتی انجمنوں کے کاروباری اقدامات اور فیصلوں کے معاہدوں پر پابندی لگاتا ہے جو مارکیٹ میں مسابقت کو بگاڑ سکتے ہیں۔

کارٹلز اور تجارتی بدسلوکی (C&TA) ڈیپارٹمنٹ کو ان پابندیوں کو نافذ کرنے کا کام سونپا گیا ہے۔ سی اینڈ ٹی اے ڈیپارٹمنٹ ممکنہ خلاف ورزیوں کی تحقیقات کرتا ہے، خاص طور پر وہ جو کہ ملی بھگت اور کارٹیلائزیشن میں ملوث ہیں اور کمیشن کو خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی سفارش کرتا ہے۔ 

یہ پالیسی کا جائزہ بھی لیتا ہے اور ایسے حالات میں کمیشن کی طرف سے پالیسی نوٹس جاری کرنے کی سفارش کرتا ہے جہاں حکومتی پالیسی یا قانون سازی مسابقت کی حوصلہ شکنی کرتی ہو یا مارکیٹ کے کھلاڑیوں کے ذریعے غلبے کے غلط استعمال میں سہولت فراہم کرتی ہو، یا ان کے درمیان ملی بھگت کی مدد کرتی ہو۔ یہ قومی معیشت میں مقابلے کے عمومی مسائل کا بھی جائزہ لیتا ہے اور جہاں ضروری ہو، کمیشن کو کھلی سماعت کرنے اور اس معاملے میں عوامی طور پر اپنی رائے کا اظہار کرنے کی سفارش کرتا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان