بھارت میں نائب صدر کے لیے خاتون امیدوار مارگریٹ الوا کون ہیں؟

بھارت میں حزب اختلاف نے نائب صدر کے الیکشن کے لیے تجربہ کار خاتون سیاست دان مارگریٹ الوا کا انتخاب کیا ہے۔

مارگریٹ الوا جمہوریت اور خواتین کے حقوق پر آن لائن خطاب کر رہی ہیں (ٹوئٹر/مارگریٹ الوا )

بھارت میں حزب اختلاف نے نائب صدر کےالیکشن کے لیے تجربہ کار خاتون سیاست دان مارگریٹ الوا کا انتخاب کیا ہے، جو آج اپنے کاغذات نامزدگی جمع کرا دیئے ہیں۔

 کاغذات نامزدگی جمع کروانے کی آج آخری تاریخ ہے اور نائب صدر کا انتخاب چھ اگست کو ہوگا۔ موجودہ نائب صدر وینکیا نائیڈو کی مدت 10 اگست کو ختم ہو جائے گا۔ وہ 2018 میں منتخب ہوئے تھے۔

اپوزیشن جماعتوں نے سابق مرکزی وزیر اور راجستھان کی گورنر مارگریٹ الوا کو نائب صدر کی دوڑ میں اپنا مشترکہ امیدوار بنانے کا فیصلہ اتوار کو کیا تھا۔

ان کا مقابلہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی زیر قیادت نیشنل ڈیموکریٹک الائنس(این ڈی اے)  کے نامزد کردہ امیدوار جگ دیپ دھنکر سے ہوگا۔

مارگریٹ الوا نے ایک ٹویٹ میں کہا: ’نائب صدر جمہوریہ بھارت کے عہدے کے لیے مشترکہ اپوزیشن کے امیدوار کے طور پر نامزد ہونا اعزاز کی بات ہے۔ میں اس نامزدگی کو بڑی عاجزی کے ساتھ قبول کرتی ہوں اور اپوزیشن کے رہنماؤں کا شکریہ ادا کرتی ہوں کہ انہوں نے مجھ پر اعتماد کیا۔‘

نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کے سربراہ شرد پوار نے اتوار کو اعلان کیا: ’ہم نے متفقہ طور پر مارگریٹ الوا کو نائب صدر کے عہدے کے لیے اپنا مشترکہ امیدوار بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔‘

یہ فیصلہ اپوزیشن پارٹی کے رہنماؤں کی نئی دہلی میں شرد پوار کی رہائش گاہ پر ملاقات کے بعد کیا گیا۔

شرد پوار نے کہا: ’اس متفقہ فیصلے کے لیے 17 جماعتیں بورڈ میں شامل ہیں۔ ہماری اجتماعی سوچ یہ ہے کہ مرگریٹ الوا منگل کو نائب صدر کے انتخاب کے لیے درخواست دائر کریں گی۔‘

کانگریس کے سینیئر رہنما اور سابق مرکزی وزیر جے رام رمیش نے ٹویٹ کیا کہ ’مارگریٹ الوا، سابق گورنر، سابق مرکزی وزیر، طویل عرصے سے رکن پارلیمنٹ اور بھارت کے نائب صدر کے لیے مشترکہ اپوزیشن امیدوار ہیں۔‘

مارگریٹ الوا کون ہیں؟

کانگریس کی مارگریٹ الوا اشوز پر کھڑے ہونے اور اپنے دل کی بات کرنے کی صلاحیت کے لیے جانی جاتی ہیں۔

2008 میں انہوں نے ایک سیاسی طوفان کھڑا کیا جب انہوں نے عوامی سطح پر اپنی پارٹی کی کرناٹک یونٹ پر سب سے زیادہ بولی لگانے والے کو ’ٹکٹ فروخت‘ کرنے کا الزام لگایا جب ان کے بیٹے نیوایڈتھ کو اسمبلی انتخابات لڑنے کے لیے نشست سے انکار کردیا گیا تھا۔

اس موقف کی وجہ سے انہیں سیاسی طور پر نقصان اٹھانا پڑا کیونکہ انہیں نہ صرف کانگریس کی قیادت میں متحدہ ترقی پسند اتحاد (یو پی اے) میں وزارتی عہدے سے انکار کیا گیا بلکہ ان کی تنظیمی ذمہ داریاں بھی چھین لی گئیں۔

مارگریٹ الوا تقریباً 30 سال تک رکن پارلیمنٹ رہی ہیں (1999 سے 2004 تک رکن لوک سبھا اور 1974 سے 1998 تک راجیہ سبھا کی رکن رہیں)۔

محترمہ الوا کو 1984 میں اس وقت کے وزیر اعظم راجیو گاندھی نے پارلیمانی امور کی وزیر مملکت بنایا تھا جب وہ صرف 42 سال کی تھیں۔ رکن پارلیمنٹ اور بعد میں وزیر کی حیثیت سے پارلیمنٹ میں اپنی تین دہائیوں کے دوران انہوں نے خواتین کے حقوق، بلدیاتی اداروں میں خواتین کے لیے ریزرویشن، مساوی معاوضہ، شادی کے قوانین اور جہیز کی ممانعت ترمیمی ایکٹ کے بارے میں بڑی قانون سازی کی ترامیم کیں۔

ایک بار پارٹی سربراہ سونیا گاندھی کے قریب سمجھے جانے والی محترمہ الوا مہاراشٹر، پنجاب اور ہریانہ کی اہم ریاستوں کی انچارج آل انڈیا کانگریس کمیٹی (اے آئی سی سی) کی جنرل سکریٹری تھیں۔

لیکن 2008 کے تنازعے کے بعد انہیں اے آئی سی سی کے جنرل سکریٹری اور پارٹی کی انتخابی کمیٹی سے بھی خارج کردیا گیا۔ تاہم بعد میں انہوں نے واپسی کی اور 2014 میں راجستھان کے گورنر کے عہدے سے سبکدوش ہونے سے قبل انہیں اتراکھنڈ، گوا اور گجرات کا گورنر بنایا گیا۔

اپنی سوانح عمری جرات اور عزم میں محترمہ الوا نے سینیئر رہنما اے کے انٹونی کو تنظیمی عہدوں سے ہٹانے کا الزام عائد کیا تھا اور ان کا کہنا تھا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے ایک بار انہیں [مسٹر انٹونی] کو پہلے کیرالہ کے وزیر اعلی کے عہدے سے ہٹانے کی سفارش کی تھی۔

نائب صدارتی انتخابات میں اپنے حریف نیشنل ڈیموکریٹک الائنس کے جگ دیپ دھنکر کی طرح محترمہ الوا بھی سیاست میں آنے سے پہلے قانون کی پریکٹس کر رہی تھیں اور دھنکر کی آبائی ریاست راجستھان کی گورنر کے طور پر خدمات انجام دے رہی تھیں۔

مارگریٹ الوا وائلیٹ الوا اور جواچیم الوا کی بہو ہیں، یہ دونوں بالترتیب 1952 میں اس وقت کی بمبئی ریاست سے راجیہ سبھا اور لوک سبھا کے لیے منتخب ہوئے تھے اور وہ پارلیمنٹ میں اکٹھے منتخب ہونے والے پہلے جوڑے بن گئے تھے۔ اس نے 1964 میں ان کے بیٹے نرنجن سے شادی کی تھی۔

بالآخر وہ کرناٹک کے اس وقت کے وزیر اعلی دیوراج عرس کی رہنمائی میں سیاست میں شامل ہو گئیں جو اس وقت اندرا گاندھی کے قریبی معتمد تھے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وہ کانگریس کی حکومتوں میں مرکزی وزیر اور گوا اور راجستھان سمیت متعدد ریاستوں کی گورنر کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکی ہیں۔

انہوں نے پارلیمنٹ کی چند اہم کمیٹیوں یعنی عوامی اداروں کے متعلق کمیٹی (سی او پی یو)، پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) اور خارجہ امور کی قائمہ کمیٹیوں سمیت دیگر کمیٹیوں میں خدمات انجام دی ہیں۔

1986 میں وہ خواتین کی ترقی کے متعلق پہلے سارک وزارتی اجلاس اور جنوبی ایشیا میں بچوں کے بارے میں یونیسیف کی سرپرستی میں ہونے والی کانفرنس کی چیئرپرسن منتخب ہوئیں جس میں چھوٹی لڑکیوں کی حالت زار پر روشنی ڈالی گئی اور سارک سربراہان حکومت نے 1987 کو ’لڑکیوں کا سال‘ قرار دیا۔

تین سال بعد انہوں نے ایک گروپ کی صدارت کی، جو بھارتی حکومت کی جانب سے خواتین کے ترقیاتی منصوبوں کی حکمت عملی تیار کرنے کے لیے بنایا گیا تھا۔

انہوں نے’خواتین کے لیے دہائی‘ کے دوران اقوام متحدہ کی تمام بڑی کانفرنسوں میں بھارت کی نمائندگی کی۔

زیادہ پڑھی جانے والی دفتر