تعلیمی اداروں کے ’چھچھورے‘

ہمارے تعلیمی اداروں میں کیسے کیسے ’چھچھورے‘ مفت کی کیا کیا آفرز کرتے رہتے ہیں۔

چار ستمبر، 2013 کو لی گئی اس تصویر میں طلبا اسلام آباد کی قائد اعظم یونیورسٹی میں گروپوں میں تبادلہ خیال کر رہے ہیں (اے ایف پی/ عامر قریشی)

’ارے سنبھل کر چلیے کہیں گر نہ جائیں۔‘

ہم سیڑھیوں سے اتر رہے تھے کہ ہمارے انگلش کے ٹیچر نے انتہائی فکرمندی کا مظاہرہ کیا۔ ’سر آپ پریشان مت ہوں۔ میں گرنے والوں میں سے نہیں۔ اور مجھے گر کر سنبھلنا بھی خوب آتا ہے۔‘

میرا یہ انداز دیکھ کر ٹیچر ہکا بکا رہ گئے اور ہم یہ کرارا سا جواب دے کر وہاں سے واپس مڑ گئے۔ ہم نے سوچا آج کا ڈوز کافی تھا۔ آئندہ سر کو سمجھانے کو ضرورت نہیں پڑے گی لیکن یہ توصرف ہماری خام خیالی تھی۔

ایک روز ہم بریک ٹائم میں اپنے کلاس روم میں بیٹھے تھے کہ ہمارے وہی ٹیچر چلے آئے۔ کہنے لگے ’کہیں یہ آپ کی ڈائری تو نہیں؟ اس دن جب آپ سیڑھیوں سے اتر رہیں تھیں اور بہت غصے میں بول رہیں تھیں تو اس دوران آپ کو پتا ہی نہیں چلا کہ آپ کی ڈائری ہاتھوں سے پھسل چکی ہے۔‘

یہ سن کر ہم پریشان ہوگئے۔ ہماری یہ ڈائری ہمیں جان سے زیادہ عزیز تھی۔ پکار پڑے: ’ارے ارے ہماری ڈائری دیجیے۔‘ جس پر استاد صاحب نے کہا کہ ’نہیں ایسے کیسے واپس کر دیں۔ آپ چاہیں تو میں شاعری میں آپ کی اصلاح بھی کرسکتا ہوں۔‘

ہمارے ٹیچر زبردستی شاعری میں طبع آزمائی کرنا چاہتے تھے۔ ’سر اس کی کوئی ضرورت نہیں۔ یہ شاعری میں صرف اپنے لیے کرتی ہوں۔ یہ سن کر ٹیچر اصرار کرنے لگے کہ ’اگر یہ ڈائری آپ کو چاہیے تو آپ کو مجھ سے اپنی شاعری کی اصلاح کروانی پڑے گی۔‘

استاد صاحب نے بلاوجہ کی آفر کی۔ عجیب زبردستی ہے۔ جب میں نے کہہ دیا کہ مجھے اصلاح نہیں کروانی تو کیوں آپ ایک بات کے پیچھے پڑگئے ہیں۔

اس بار میں نے تقریباً چیختے ہوئے بولا۔ آواز نیچی رکھیے۔ بہرحال یہ ڈائری آپ کو ایسے تو نہیں ملنے والی، یہ کہہ کر ٹیچر وہاں سے چلے گئے۔

اگلے دن ہم سر کے آفس میں موجود تھے۔ ’جی محترمہ تو آگئیں آپ۔ لائے اپنا ہاتھ دکھایے‘، ہمارے انگلش کے ٹیچر نے حکمیہ انداز میں کہا۔

’کیا مطلب ہے ہاتھ کیوں دکھاؤں آپ تو شاعری میں اصلاح کرنے والے تھے۔ یہ ہاتھ دکھانے والی بات بیچ میں کہاں سے آگئی‘، میں نے اپنے غصے کو کنٹرول کرتے ہوئے پوچھا۔

’ارے بھئی آپ کے مستقبل کا حال بتاؤں گا۔ اچھا چلیے میں فیس ریڈنگ سے ہی آپ کو بتاؤں گا۔ آپ بہت حساس طبعیت کی مالک ہیں۔ آپ چاہتی ہیں کہ لوگ آپ کی تعریف کرتے رہیں۔‘

یہ سن کر ہم تلملا اٹھے اور کہا: ’آپ میری نفسیات سے نہ کھیلیں۔ ظاہر ہے ہر شاعر ہی حساس ہوتا ہے۔ اور تعریف کس کو پسند نہیں ہوتی؟‘

یہ کہہ کر ہم نے ان کے ہاتھ سے اپنی ڈائری جھپٹ لی اور یہ جا وہ جا۔ اس کے بعد ہم نے کالج ختم ہونے تک ان ٹیچر کی کلاس کا بائیکاٹ کیا۔ (شاید اسی لیے ہماری انگریزی انتہائی کمزور ہے)

کالج کے بعد ہم یونیورسٹی میں داخلہ لینے کے لیے پر تولنے لگے لیکن جلالی طبعیت کے ابو جی جامعہ میں پڑھانے کے قائل نہیں تھے۔ ’اب تم لڑکوں کے درمیان پڑھوگی؟‘ ابا جی گرج کر بولے۔

’نہیں ابو مجھے لڑکوں سے کیا لینا دینا۔ مجھے تو صرف پڑھنا ہے،‘ ہم نے بڑے التجائیہ انداز سے کہا۔ ابو جی کا دل پسیج گیا۔

انہوں نے نصیحتوں کا پلندہ تھما دیا۔ کہنے لگے: ’کسی لڑکے سے بات کرنے کی ضرورت نہیں۔ اگر کام کے سلسلے میں بھی بات کرنا پڑے تو بھی دوسری جانب دیکھ کر بات کرنا۔‘

یہ بات سن کر دل چاہا زور سے ہنسوں۔ میں نے دل میں سوچا اس طرح بات کی تو لڑکے مجھے بھینگی سمجھیں گے۔ لیکن مرتا کیا نہ کرتا کے مصداق یہ بات بھی ماننی پڑی۔

ہم یونیورسٹی میں پڑھنے کے لیے بہت پرجوش تھے۔ پہلے دن صبح چھ بجے ہی اٹھ گئے (آخر تیاری بھی تو کرنی تھی) لیکن بھلا ہو ہمارے والد صاحب کا جو ہم سے پہلے ہی اٹھ بیٹھے تھے۔

یونیورسٹی جانے کے لیے ہماری تیاریوں کو کڑی نظروں سے جانچ رہے تھے۔ فیس واش سے منہ دھونے پر کہنے لگے: ’ضروری ہے یونیورسٹی جانے سے پہلے فیشل کر کے جاؤ۔‘

بڑی مشکل سے ان کو سمجھایا کہ یہ فیشل کٹ نہیں بلکہ فیس واش ہے جس سے منہ دھویا جاتا ہے۔ پھر لپ گلوز لگانے پر انہوں نے ٹوک دیا۔ کہنے لگے، ’میک اپ نہیں کر کے جاؤگی تو کیا یونیورسٹی میں آنے نہیں دیں گے؟‘

نہ چاہتے ہوئے بھی میک اپ کرنے سے ہاتھ  روک لیا۔ ابھی نکل ہی رہے تھے کہ ایک اور ہدایت ملی کہ دوپٹہ نماز کی طرح اوڑھ کر جانا ہے۔

جامعہ پہنچے تو ایک لڑکے نے شرارتاً پوچھ لیا۔ اس وقت کون سی نماز کا وقت ہو رہا ہے؟ ہم جواب دینے کی بجائے دوسری طرف منہ پھیر لیا۔ ’او میڈم میں آپ سے بات کر رہا ہوں۔‘

اس ڈھیٹ لڑکے نے زبردستی بات کرنے کی کوشش کی لیکن ہم چپ کھڑے رہے۔ ’لگتا ہے گونگی ہیں۔‘ ہمارے خاموش رہنے کے باوجود وہ باز نہ آیا اور جملہ کس کر وہاں سے کھسک گیا۔

کلاس میں آئے تو وہاں بھی اک نیا ڈراما تیار تھا۔ ٹیچر نے کہا سب اپنا اپنا تعارف کروائیں۔ ہماری باری آئی تو کہنے لگے بڑا مشکل نام ہے آپ کا۔ ایسا کرتے ہیں آپ کا کوئی نک نیم رکھ لیتے ہیں۔

ہمیں یہ تجویز پسند نہیں آئی اور کہا: ’آپ مجھے آپ کہہ کر مخاطب کرسکتے ہیں۔‘ سر نے میری بات کو سنی ان سنی کر کے ہمارا نک نیم رکھ دیا اور پوری کلاس ہمیں اسی شارٹ نام سے پکارنے لگی۔ مان نہ مان میں تیرا مہمان۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یونیورسٹی میں طلبہ تنظیموں کے جھگڑوں کے دوران بھی الگ ہی سین دیکھنے کو ملتے۔ جھگڑے کے دوران ڈرنے والی لڑکیوں کو ہر کوئی ہاتھ تھام کر تسلیاں دینے کی تگ و دو میں لگا رہتا۔ اور موقع ملنے پر نمبر بھی مانگ لیا جاتا۔

اگر مطلوبہ لڑکی کا نمبر نہ ملتا تو یہ مرد مجاہد ہار نہ مانتے اور لڑکی کی دوست کا نمبر مانگتے۔ اور اگر کوئی لڑکی ان کے جال میں آجاتی تو ان کی خوشی کا بھی الگ ہی عالم ہوتا۔

وہ خود کو راجہ اندر سمجھ لیتے اور اپنے دوستوں کے درمیان اسے تیری بھابھی سے مشہور کرتے۔ ہوش تو تب آتا جب محبوبہ اس سے بہتر آپشن ملنے پر اپنا قبلہ ہی بدل لیتی۔

جامعہ کے یہ نرم دل حضرات اپنی جنس کے لیے سخت دل بنے پھرتے۔ لڑکی ان سے کوئی کام کہتی تو یہ دنیا جہان کے کام چھوڑ کر ان کی خدمت کے لیے دل و جاں سے حاضر ہو جاتے۔

یونیورسٹی میں کوئی لڑکا ان سے فون مانگتا تو وہ بیلینس نہ ہونے کا بہانہ بناتے لیکن کوئی لڑکی چاہے وہ دوسری کلاس یا ڈپارٹمنٹ کی ہوتی اسے فوراً فون کیا اپنا دل نکال کر بھی حاضر کر دیتے۔

یہ ویسے تو یونیورسٹی کا رخ نہ کرتے لیکن لڑکیوں کو متاثر کرنے کے لیے صبح سویرے کلاس پہنچ جاتے اور رجسٹر پر لکھنے کی ایکٹنگ کرتے رہتے۔

جامعہ کے باہر بھی ان جیسے نرم دل حضرات کم نہ تھے۔ انٹرن شپ اور نوکری کے لیے جانے والی لڑکیوں سے یہ یوں بات کرتے جیسے صدیوں سے آشنا ہوں۔

انہیں یہ بار بار کہتے کہ یہ ہمارا نمبر رکھ لیجیے کام کے دوران کوئی بھی تکلیف پیش آئے تو ہمیں یاد کر لیجیے گا۔  بس یوں ہی یہ دن بھی گزر جاتے۔                         

زیادہ پڑھی جانے والی کیمپس