سیلاب: ’گھر جاکر صندوق دیکھتا ہوں شاید کچھ کپڑے بچے ہوں‘

ضلع نوشہرہ میں دریائے کابل کے کنارے رہائشی مکانات، ہوٹلز، ہسپتال اور دیگر تعمیرات مکمل طور پر زیر آب ہے جبکہ گلی محلوں میں پانی ہی پانی ہے۔

تصویر: انڈپینڈنٹ اردو

’رات گھر والوں کے ساتھ چھت پر گزاری اور صبح جب دیکھا تو پورا گھر پانی میں ڈوب گیا تھا۔ نکلنے کا راستہ بھی نہیں تھا لیکن بڑی مشکل سے گھر والوں کو نکالا اور ابھی ایک رشتہ دار نے ایک کمرہ دیا ہے وہاں پر رہائش پذیر ہیں۔‘

یہ کہنا تھا نوشہرہ کے علاقے پیر سباق کے علاقے قاضی عنایت کا جن کا گھر پورا پانی میں ڈوبا ہوا ہے اور رات بڑی مشکل سے گزار کر صبح محفوظ مقام پر پہنچے ہیں۔

قاضی عنایت نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’ابھی گھر دیکھنے جا رہا ہوں کیوں کہ صرف ایک جوڑا کپڑا جو پہنے تھے، اسی میں نکل گئے تھے۔ صندوق دیکھنے جاتا ہوں شاید کپڑے بچے ہوں تو اس کو اٹھا کر لے آتا ہوں کیوں کہ ہمارے سارے کپڑے گندے ہوگئے ہیں۔‘

قاضی عنایت کی طرح نوشہرہ کے مختلف علاقوں میں لاکھوں لوگ متاثر ہوگئے ہیں جو گھر بار چھوڑ کر یا تو عزیز واقارب اور یا حکومت کی طرف سے بنائے گئے ریلیف کیمپ میں منتقل ہوگئے ہیں۔

ضلع نوشہرہ میں دریائے کابل کے کنارے رہائشی مکانات، ہوٹلز، ہسپتال اور دیگر تعمیرات مکمل طور پر زیر آب ہے جبکہ گلی محلوں میں پانی ہی پانی ہے۔

پانی کی سطح میں لمحہ بہ لمحہ اضافہ ہو رہا اور آبادی کے اندر بھی پانی کی سطح بلند ہورہی ہے۔

لیکن نوشہرہ کلاں، پیر سباق اور دیگر ملحقہ علاقوں میں مکانات مکمل طور پر زیر آب ہیں جہاں پانچ سے چھ فٹ تک پانی موجود ہے۔

نوشہرہ دریا کے کنارے واقع ہے جبکہ جی ٹی روڈ کے دونوں اطراف میں زیادہ تر دکانیں، مارکیٹیں بند اور کاروباری سرگرمیاں معطل ہیں۔

جی ٹی روڈ پر ریور ویوہوٹل کے پاس پانی جی ٹی روڈ میں داخل ہوگیا لیکن ابھی تک پانی کی سطح اتنی بلند نہیں ہے جس سے ٹریفک کی روانی متاثر ہو سکے۔

متاثرہ علاقوں میں کچھ لوگوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ حالیہ سیلاب کی وجہ سے تعمیرات کو نقصان تو پہنچے گا لیکن ہم نے گھروں ست قیمتی سامان اور دیگر اشیا محفوظ مقامات پر منتقل کی ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

نوشہرہ کلاب کے ایک رہائشی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ 2010 کے سیلاب میں بھی یہ گاؤں ڈوب گیا تھا لیکن اس وقت نقصان زیادہ ہوا تھا کیوں کہ وہ اچانک آیا تھا۔

نوشہرہ جی ٹی روڈ پر ہم نے بعض خاندانوں کو خیمے لگاتے ہوئے بھی دیکھا جبکہ جی ٹی روڈ کے ایک جانب مال مویشی حفاظت کے پیش نظر باندھے گئے ہیں اور مویشی منڈی جیسا منظر دکھ رہا ہے۔

ضلع نوشہرہ کے تحصیل پبی کے پٹواری گوہر ایوب نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’حالیہ سیلاب میں ایک بات یہ ضرور ہوئی ہے کہ پہلے سے انتظامیہ نے علاقہ مکینوں کو خبردار کیا تھا اور زیادہ تر محفوظ مقامات پر منتقل ہوگئے ہیں۔‘

انہوں نے بتایا کہ پانی کا اخراج 2010 والے سیلاب جتنا ہے تاہم یہ ضرور ہے کہ انسانی جانوں کو نقصان کا خطرہ نہ ہونے کے برابر ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ریلیف کیمپس میں تمام تر انتظامات موجود ہیں اور متاثرہ خاندانوں کو کھانا، چائے، پانی، واش روم اور دیگر ضررورت کی اشیا کا انتظام کیا گیا ہے۔

ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریلیف نوشہرہ قرۃ العین وزیر نے بتایا کہ گذشتہ رات سے ایک ہزار سے زائد خاندانوں کو پہلے سے محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے اور دریائے کابل کے مختلف جگہواں پر پروٹیکشن والز میں شگاف پڑ گئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ محفوظ مقامات پر منتقلی کا سلسلہ اب بھی جاری ہے اور ’ہماری اولین ترجیح رسیکیو آپریشن ہے تاکہ انسانی جانوں کو بچایا جا سکے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان