اسلام آباد کی واحد سرائے کس حال میں ہے؟

انڈپینڈنٹ اُردو کی نشاندہی پر چیف کمشنر اسلام آباد اور چیئرمین سی ڈی اے کیپٹن عثمان یونس کا دورہ اور تاریخی ورثے کی حامل سرائے کی بحالی کے احکامات۔

سرائے خربوزہ موجودہ جی ٹی روڈ سے مشرق کی جانب تین کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے (تصویر سجاد اظہر)

سرائے خربوزہ اسلام آباد  میں ایرانی طرز تعمیر کی واحد عمارت ہے جسے مغل عہد میں تعمیر کیا گیا تھا۔ اسے ثقافتی ورثے کی حامل ان جگہوں میں شامل کیا گیا ہے جسے قانون کے تحت تحفظ حاصل ہے۔

مگر گذشتہ عرصے میں اسلام آباد میں غیرقانونی آبادیوں کی بھرمار ہو چکی ہے جن کا نشانہ اب یہ ثقافتی ورثہ بھی بن چکا ہے۔ لگتا ہے کہ اس پر توجہ نہ دی گئی تو یہ اہم ثقافتی ورثہ مٹ جائے گا۔

اسلام آباد کے نئے چیف کمشنر کیپٹن محمد عثمان یونس جن کے پاس چیئرمین سی ڈ ی اے کا اضافی چارج بھی ہے، انہوں نے عہدہ سنبھالتے ہی انڈپینڈنٹ اُردو کی نشاندہی پر سرائے خربوزہ کا دورہ کیا اور موقعے پر ہی اس کی بحالی اور اسے ناجائز قابضین سے واگزار کرا نے کے احکامات جاری کیے۔

انڈپینڈنٹ اُردو سے گفتگو کرتے ہوئے چیف کمشنر کیپٹن محمد عثمان یونس نے کہا کہ وہ اسلام آباد کو ایک تہذیبی اور تاریخی شناخت بھی دینا چاہتے ہیں اور اس مقصد کے لیے تاریخی ورثے کی بحالی کو کم سے کم وقت میں مکمل کیا جائے گا۔

’سرائے خربوزہ ایک ایسا تہذیبی ورثہ ہے جو اسلام آباد کا دنیا سے ابتدائی رابطہ تھا۔ آج دنیا بھر میں یہ شہر اپنی خوبصورتی کے حوالے سے پہچانا جاتا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ ایک نیا شہر ہے تاہم جس جگہ یہ شہر آباد ہوا ہے وہ کئی قدیم تہذیبوں کا مرکز رہا ہے۔ اسلام آباد میں جہاں جہاں آرکیالوجی سائیٹس موجود ہیں انہیں بحال کیا جائے گا۔

سرائے خربوزہ کیوں معدوم ہو رہی ہے؟

اس حوالے سے سینیٹر فار کلچر اینڈ ڈویلپمنٹ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ندیم عمر تارڑ کا کہنا ہے کہ سرائے خربوزہ کو پنجاب حکومت کے پی ایس پی ایکٹ 1985 کے تحت  تحفظ حاصل ہے جسے 18ویں ترمیم کے بعد وفاقی حکومت کے ڈیپارٹمنٹ آف آرکیالوجی کے حوالے کر دیا گیا۔

’مگر انہوں نے کبھی اسے پلٹ کر نہیں دیکھا۔‘

ان کا کہنا ہے کہ وہ گذشتہ دس سال سے اس تاریخی ورثے کو درپیش خطرات کے حوالے سے حکومت کو آگاہ کرتے رہے ہیں اور انہوں نے اس کی بحالی کا ایک جامع پروگرام بھی دیا مگر اس پر عمل نہیں کیا گیا، نتیجتاً آج اس سرائے کے 90 فیصد رقبے پر تجاوزات قائم ہو چکی ہیں اور جو تھوڑا حصہ باقی بچ گیا ہے وہ بھی مافیا کے نشانے پر ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس کا عمارتی ڈھانچہ ایرانی طرز تعمیر لیے ہوئے ہے۔ مربع شکل میں یہ قلعے سے مشابہہ ہے جس کے شمال اور جنوب کی طرف محرابی دروازے تھے۔ اس کے چاروں کونوں پر گول گنبد تھے جن میں سے سیڑھیاں اوپر کی طرف جاتی تھیں۔

’ہر دیوار 420 میٹر لمبی اور 15 میٹر اونچی تھی جس پر چھوٹے چھوٹے چبوترے بنے ہوئے تھے۔ درمیان میں ایک کھلا میدان تھا جس کے ارد گرد سینکڑوں کمرے بنے ہوئے تھے۔

’سرائے خربوزہ میں قافلے کے امیروں کے لیے الگ، ان کے نوکروں اور جانوروں کے لیے الگ الگ چیمبرز موجود تھے۔‘

وہ بتاتے ہیں کہ اس کے شمال کی جانب ایک مسجد بھی ہے جس کی تعمیر نو کی گئی ہے مگر پرانا حصہ ابھی بھی موجود ہے۔ محرابوں کے اندر نیلے اور نارنجی رنگ کے پھول اب بھی موجود ہیں۔

’مسجد میں قدیم دور کا پانی کو گرم کرنے کا نظام ابھی تک کام کر رہا ہے۔ اسی طرح سرائے میں ایک کنواں اور اس کے ساتھ باتھ بھی موجود تھے، جنہیں گرم ترین دوپہروں میں نہانے کے ساتھ ساتھ آرام کے لیے بھی استعمال کیا جاتا تھا۔‘

سرائے خربوزہ کب تعمیر کی گئی؟

اس کا پہلا تذکرہ تو ہمیں ’تذکِ جہانگیری‘ میں ملتا ہے۔ مغل بادشاہ جہانگیر(1569-1627) لکھتے ہیں کہ ’ہمارا قیام سرائے خربوزہ میں ہے جسے گکھڑوں نے اپنے ابتدائی دور میں قافلوں سے ٹول لینے کے لیے بنایا تھا، چونکہ اس کا گنبد دور سے خربوزے کی طرح نظر آتا ہے اس لیے یہ سرائے خربوزہ کے نام سے موسوم ہو گئی۔‘

عہد قدیم میں جب تجارتی قافلے چلنا شروع ہوئے تو شاہراہوں پر ہر تھوڑے تھوڑے فاصلے پر سرائیں تعمیر کی جاتی تھیں جہاں قافلے اپنی تھکن اتار سکیں اور اپنے مال بردار جانوروں کو تازہ دم کر سکیں۔

شاہراہ ریشم اور جی ٹی روڈ کی تاریخ تو ہزاروں سال قدیم بیان کی جاتی ہے۔

عالمی ادارہ یونیسکو کے مطابق شاہراہ ریشم جو چین کو گندھارا اور سینٹرل ایشیا سے ملاتی تھی وہ ایرانی بادشاہ دارا اوّل (جس کا دور 522 سے 486 قبل مسیح کا ہے ) کے عہد سے موجود ہے۔

یہ حسن ابدال کے مقام پر جی ٹی روڈ سے ملتی ہے۔ جی ٹی روڈ جو کابل سے کلکتہ تک جاتی ہے وہ بھی پانچویں صدی قبل مسیح میں بنائی گئی تھی اور اس کا قدیم سنسکرت نام ’اتر پاتھا‘ ہے یعنی اوپر سے آنے والا راستہ۔

اس کا مطلب ہے کہ اس شاہراہ پر جو قافلے چین اور وسطی ایشیا سے دلی اور آگے تک جاتے تھے وہ اسی سرائے میں قیام کرتے تھے۔

یہ سرائے کسی نہ کسی شکل میں اڑھائی ہزار سال پہلے بھی موجود رہی ہو گی۔ تاہم اس کی تعمیر کو دیکھا جائے تو اس کی بیرونی دیواروں کا نچلا حصہ پتھر کا اور اوپر کا چھوٹی اینٹ کا بنا ہوا ہے۔

پتھر کے حصے کو دیکھا جائے تو یہ اتنا ہی قدیم نظر آتا ہے جتنا کہ اسلام آباد میں پھروالہ قلعہ ہے۔ جسے گکھڑوں سے منسوب کیا جاتا ہے اور ان کی کتاب کائی گوہر نامہ کے مطابق اس کی تعمیر 1008 سے 1012 کے درمیان کی گئی ہے۔ جبکہ تاریخِ فرشتہ کے مطابق یہ قلعہ گکھڑوں نے نہیں ہندوؤں نے تعمیر کیا تھا جس کی وجہ یہ تھی کہ یہاں رامائن کے مصنف رام چندر کی پیدائش ہوئی تھی۔

اینٹ کا اوّلین استعمال تو موہنجو دڑو اور ہڑپہ میں ہوا، تاہم گندھارا میں چھوٹی اینٹ کا استعمال نویں صدی عیسوی میں ملتا ہے۔

اس سرائے میں چھوٹی اینٹ کب لگائی گئی؟

تاریخ اس کو شیر شاہ سوری سے منسوب کرتی ہے جس کا عہد 16ویں صدی کا ہے۔ شیر شاہ سوری نے ہی جی ٹی روڈ کی تعمیر نو کی یہاں سرائے تعمیر کیں اور رسد کا ایک مربوط نظام قائم کیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سرائے خربوزہ موجودہ جی ٹی روڈ سے مشرق کی جانب تین کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ پرانا جی ٹی روڈ سرائے خربوزہ سے گزرتا تھا جو شاہ اللہ دتہ سے ہوتا ہوا کینتھلا سے ٹیکسلا جاتا تھا۔

کینتھلا میں شیر شاہ سوری کے عہد کی بنی ہوئی ایک باؤلی بھی موجود ہے اور پتھروں سے بنے ہوئے پرانے جی ٹی روڈ کے نشانات بھی ہیں۔

سرائے خربوزہ کو بحال کرنا ایک مشکل کام ہے، تاہم ناممکن نہیں۔ اسلام آباد کے نئے چیف کمشنر اور چیئرمین سی ڈی اے کیپٹن محمد عثمان یونس نے جس طرح چھٹی کے دن جا کر یہاں کا جائزہ لیا ہے اور اس کے بحالی کے احکامات جاری کیے ہیں اس سے لگتا ہے کہ اسلام آباد کو ایک اور تاریخی اور تہذیبی شناخت ملنے والی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی تاریخ