زلزلہ امداد میں غبن کا الزام، برطانوی ادارے کی تردید اور سیاسی بھونچال

سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے 2005 کے زلزلہ متاثرین کے لیے دی گئی برطانوی امداد میں غبن کرنے کے الزامات پر مبنی خبر شائع کرنے پر برطانوی اخبار ’ڈیلی میل‘ کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا اعلان کردیا۔

شہباز شریف نے برطانوی اخبار ’ ڈیلی میل ‘ کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا اعلان کردیا (فائل: اے ایف پی)

پاکستانی سیاست میں ان دنوں خبروں اور ویڈیوز کی گونج سنائی دے رہی ہے۔ حکومت اور حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ ن کے درمیان ایک دوسرے پر الزامات کے ساتھ مبینہ ثبوت منظر عام پر لانے کا سلسلہ جاری ہے۔

 ایک طرف سابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز اپنے والد کو سزا سنانے والے احتساب عدالت کے سابق جج ارشد ملک کے خلاف مبینہ ویڈیو منظر عام پر لائیں جبکہ دوسری جانب حکمران جماعت پی ٹی آئی کی جانب سے سابق حکمرانوں کے خلاف کرپشن، منی لانڈرنگ کے الزامات اور مبینہ طور پر ثبوت سامنے لانے کے دعوے کیے جارہے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان بھی سابق جج سے متعلق معاملے پر لیگی قیادت کو ’سیسلین مافیا‘ سے تشبیہ دے چکے ہیں۔ دوسری جانب نیب اور عدالتوں سے شریف برادران کے خلاف ہونے والی کارروائیوں پر بھی حکومتی وزراء اپوزیشن کو آڑے ہاتھوں لے رہے ہیں۔

ایسے میں آج (بروز اتوار) برطانوی اخبار ’ڈیلی میل‘ میں 2005 کے زلزلہ متاثرین کے لیے دی گئی برطانوی امداد میں سے سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف پر رقم غبن کرنے کے الزامات پر مبنی خبر شائع ہونے کے بعد دونوں سیاسی حریف جماعتوں کے رہنماؤں میں لفظی جنگ شدت اختیار کرگئی، تاہم برطانوی حکومت کے امدادی ادارے نے اس خبر کو مسترد کردیا ہے، جس کے بعد شہباز شریف نے ڈیلی میل کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا اعلان کردیا۔ 

خبر کی اشاعت اور وضاحت

برطانوی اشاعتی ادارہ ’ڈیلی میل‘، جو اس سے پہلے بھی کئی متنازع خبریں نشر کرنے پر موضوع بحث رہ چکا ہے، میں اتوار کے روز صحافی ڈیوڈ روز کی ایک خبر کو نمایاں طور پر شائع کیا گیا۔ جس کے مطابق ’تحقیقات میں پتہ چلا ہے کہ برطانیہ کی جانب سے پاکستان میں آنے والے زلزلے کے متاثرین کے لیے 500 پاؤنڈ سے زائد کی رقم بطور امداد فراہم کی گئی اور یہ امداد ڈیپارٹمنٹ فار انٹرنیشنل ڈیویلپمنٹ، جو کہ برطانیہ کا ایک سرکاری ادارہ ہے، کے ذریعے دی گئی۔‘

ڈیوڈ روز کے مطابق ’اس امدادی رقم سے سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے دس لاکھ پاؤنڈ کی رقم اپنے فرنٹ مین پاکستانی نژاد برطانوی شہری آفتاب محمود کو منی لانڈرنگ کے ذریعے بھجوائی اور انہوں نے یہ رقم شہباز شریف کی فیملی کو فراہم کر دی۔‘

خبر میں بتایا گیا کہ شہباز شریف اور ان کے خاندان نے برطانوی شہریوں کے ٹیکسوں سے دی گئی امدادی رقم میں غبن کیا۔ ڈیلی میل کی جانب سے شہباز شریف کے مختلف برطانوی عہدیداروں کا بھی تذکرہ کیا گیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تاہم برطانوی ادارے ڈیپارٹمنٹ فار انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ (ڈی ایف آئی ڈی) کے ترجمان اور شہباز شریف کے بیٹے سلمان شہباز نے اس خبر کی تردید کردی۔

ڈی ایف آئی ڈی کے ترجمان کی جانب سے اپنی آفیشل ویب سائٹ پر اس خبر کو ’بے بنیاد‘ اور ’من گھڑت‘ قرار دے کر مسترد کردیا گیا۔

وضاحتی بیان میں کہا گیا کہ پاکستان میں 2005 میں آنے والے زلزلے کے متاثرین کے لیے امدادی رقم اُس وقت قائم کی گئی ارتھ کوئیک ری کنسٹرکشن اینڈ ری ہیبلیٹیشن اتھارٹی (ایرا) کو فراہم کی گئی تھی، جس سے شہباز شریف کا کوئی تعلق نہیں تھا۔

برطانوی ادارے نے یہ امدادی رقم ’ایرا‘ کی جانب سے تعمیر کیے جانے والے سکولوں کا منصوبہ مکمل ہونے پر فراہم کی۔ ترجمان کے مطابق خبر میں وزیراعظم کے مشیر شہزاد اکبر کے نام سے منسوب بیان میں امدادی فنڈز میں غبن سے متعلق کوئی ثبوت فراہم نہیں ہوا۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں تعلیم کے شعبے میں غریب بچوں کی تعلیم کے لیے فنڈز فراہم کیے گئے، جس کے تحت دس ملین سے زائد بچوں کو تعلیم کے مواقع فراہم کیے گئے۔ وضاحت میں کہا گیا کہ برطانیہ کی جانب سے ایرا کو دی گئی مالی امداد کا آڈٹ بھی کرایا جاچکا ہے۔

سیاسی محاذ آرائی

ڈیلی میل میں خبر شائع ہوتے ہی اتوار کی صبح حکومتی نمائندوں نے اس خبر کی بنیاد پر شہباز شریف کے خلاف بیان بازی شروع کردی۔

وزیراعظم کے مشیر برائے ریکوری یونٹ شہزاد اکبر نے کہا کہ ’نیب تحقیقات کے دوران شہباز شریف پر منی لانڈرنگ کا یہ معاملہ سامنے آیا ہے اور تحقیقات کے دوران معلوم ہوا ہے کہ شہباز شریف زلزلہ زدگان کے لیے دی گئی برطانوی امداد کی رقم میں غبن کرکے منی لانڈرنگ کے ذریعے دس ملین پاؤنڈز برطانیہ بھجوا چکے ہیں۔ یہ سارا کام ان کے فرںٹ مین آفتاب محمود اور اکرم کے ذریعے کیا گیا، جن کا خبر میں ذکر ہے۔‘

انہوں نے اعلان کیا کہ اگر خبر جھوٹ ہے تو شہباز شریف کے بیٹے خبر شائع کرنے والے اخبار یا صحافی کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے برطانوی عدالتوں سے رابطہ کریں لیکن وہ ایسا نہیں کریں گے کیونکہ یہ سچ ہے۔

وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان نے بھی اس معاملے پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ’شہباز شریف نے زلزلہ زدگان کے لیے آنے والی امدادی رقم بھی نہ چھوڑی، ان کی اس حرکت سے ملک عالمی سطح پر بدنام ہوا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’حکومت کرپٹ عناصر کو کسی صورت نہیں چھوڑے گی، ایک ایک پائی کا حساب ہوگا۔‘

دوسری جانب مسلم لیگ ن کی مرکزی ترجمان مریم اورنگزیب نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ’ڈیلی میل میں خبر منصوبہ بندی کے تحت شہباز شریف کو بدنام کرنے کے لیے شائع کرائی گئی تھی۔‘

انہوں نے الزام عائد کیا کہ ’پلانٹڈ خبر دینے والے صحافی ڈیوڈروز کو وزیر اعظم کے مشیر شہزاد اکبر نے پاکستان بلوایا، انہیں لاہور میں ٹھہرایا گیا اور بنی گالہ میں وزیر اعظم عمران خان سے بھی ملاقات کرائی گئی۔‘

مریم اورنگزیب نے واضح کیا کہ 2005 سے لے کر 2012 تک شہباز شریف جلاوطن تھے، وہ وزیراعلیٰ پنجاب تھے ہی نہیں۔ وہ پرویز مشرف کا دور تھا اور 2013 سے 2016 تک ایرا وفاق کے ماتحت ادارہ تھا، لہذا شہباز شریف اس امدادی رقم میں کیسے غبن کر سکتے ہیں۔

انہوں نے اعلان کیا کہ مسلم لیگ ن نے فیصلہ کیا ہے کہ اس خبر کی اشاعت پر ڈیلی میل اور متعلقہ صحافی کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

اس تمام معاملے پر سینیئر صحافی ندیم رضا نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’ڈیلی میل ایک غیر معیاری ادارہ ہے اور کئی اداروں میں تو اس کی خبر بھی زیر غور نہیں لائی جاتی۔‘

انہوں نے کہا کہ ’برطانیہ کے معروف ادارے وکی پیڈیا اور دیگر نے 2017 میں ڈیلی میل کی خبر کا حوالہ دے کر معلومات فراہم کرنے پر پابندی عائد کی تھی اور ان کی خبروں کو غیر مصدقہ قرار دیا تھا۔‘

ندیم رضا کے مطابق ’اس طرح کے من گھڑت سکینڈلز کے ذریعے اصل مسائل کو چھپانے کی کوشش ہو رہی ہے۔ عوام کو ان خبروں سے کوئی دلچسپی نہیں۔ وہ مہنگائی، بے روزگاری، ٹیکسوں اور امن وامان سے متعلق حکومتی کارکردگی میں بہتری چاہتے ہیں، لیکن سیاسی پروپیگنڈے کے ذریعے لوگوں کو ان کے مسائل سے توجہ ہٹانے کی ترغیب دی جا رہی ہے۔‘

ڈیلی میل کی خبر پر اٹھنے والے بھونچال کا اثر سوشل میڈیا پر بھی دکھائی دیا اور بیشتر شہریوں نے اسے ’حقائق سے چشم پوشی‘ کا موجب قرار دیا تو کسی نے شریف خاندان کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست