’لڑکیوں والا گھر‘: بنا مرد کے گھر میں بستی خواتین کی کہانی

یہ ویب سیریز ایک بار تو ضرور چونکاتی ہے۔ آپ کافی دیر تک سکتے کے عالم سے نہیں نکلتے۔

مصنف فصیح باری خان کا ڈارما ’لڑکیوں والا گھر‘ یوٹویب پر ہفتہ وار نشر ہو رہا ہے (سکرین گریب یوٹیوب چینل کباڑ خانہ)

یہ وہ لڑکیاں ہیں جو کبھی ہمارے ٹی وی ڈراموں میں نظر نہیں آتیں مگر آپ کو ہر دوسرے تیسرے گھر میں ملتی ہیں۔

مطلب آج کل کی پڑھی لکھی لڑکیاں جو خودمختار ہیں، جو گھروں سے کام کرنے نکلتی ہیں اور جن کی اپنی زندگی کی اپنی انفرادیت ہے۔ 

مصنف فصیح باری خان کی سکرپٹ اور ہدایت کاری میں بننے والی سیریز ’لڑکیوں والا گھر‘ آج کل یوٹیوب پر چینل کباڑ خانہ سے نشر ہو رہی ہے جس میں سفاک سماج کے سفاک رنگ بہت آرٹسٹک انداز میں پیش کیے گئے ہیں۔ 

کہانی اور انسان کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ یہ رنگ بدل بدل کے انسان کے ذوق کو تسکین پہنچاتی ہے۔

ہم کہانی کی معلوم تاریخ پتھروں سے، آوازوں سے ہوتے زبان تک اور اس کے بعد راتوں کی داستان گوئی کے دور سے ہوتے ہوئے سٹیج، فلم، ڈراما اور اب ویب سیریز تک ترقی کر چکے ہیں۔

ویب سیریز نے کہانی کو نیا رنگ دے دیا ہے جو بات ہم ڈراموں فلموں میں نہیں کر سکتے تھے وہ ویب سکرین پہ بہت دبنگ انداز سے ہونے لگی ہے۔ 

ایسی ایسی سچائیاں جن پہ بات کرنا کبھی معیوب سمجھا جاتا تھا اس کو دیکھنا اب ایک با ذوق مزاج کا حصہ بن گیا ہے کیونکہ اس کو بہت سلیقے سے پیش کیا جا رہا ہے۔

ٹی وی ڈراما اپنی طوالت اور غیر ضروری گلیمر کی وجہ سے ایک بار زوال کی طرف جا رہا ہے۔ اس کمی کو یہ ویب چینلز پورا کرنے لگے ہیں۔

سیریز ’لڑکیوں والا گھر‘ کا نام ہی بہت متاثر کن ہے۔ ایک ایسا گھر جس میں کسی بھی رشتے کا مرد نہیں ہوتا وہاں لڑکیاں اور طرح سے پروان چڑھتی ہیں۔

ان کی ایک الگ نفسیات ہوتی ہے کیونکہ انہیں ایک طرف اپنا نسائی پن سنبھالنا ہوتا ہے، دوسری طرف مرد بن کر سماج کے سامنے بھی خود ہی کھڑا ہونا ہوتا ہے۔

ان لڑکیوں کے حالات اور مسائل ایسے گھروں کی لڑکیوں سے بہت مختلف ہوتے ہیں جہاں مردانہ رشتے موجود ہوتے ہیں۔

ایسی ہی لڑکیوں کے مسائل پہ مبنی یہ چھ اقساط کی سیریز ہے جس میں لڑکیوں اور خواتین کا ایک خاص زنانہ ماحول دکھایا گیا ہے۔

ان کی جاب، گھریلو زندگی، سماجی زندگی، شادیوں، اور روز مرہ زندگی کے داخلی وخارجی مسائل اور ان تمام شعبہ جات سے منسلک خواتین کے رنگ ڈھنگ اور مزاج یہاں مل جاتے ہیں۔

کسی دور میں ادب میں زنانہ زبان کا تنقیدی و فکری ذکر ہوتا تھا تو وہ زنان خانے کی محاوروں اور منفرد تشبیحاتی زبان کی بات ہوتی تھی۔

یونہی اگر ہم آج کے ڈرامے میں زنان خانے کی بات کریں تو ’لڑکیوں والا گھر‘ ایک بہترین مثال ہے۔  

لڑکیاں زمانے کو اپنے ہم جنس میں بیٹھ کر کیسے ڈسکس کرتی ہیں، اپنا مشاہدہ اپنی ہم جنس کے ساتھ کیسے شیئر کرتی ہیں، زندگی کے میل ملاپ اور پروفیشن سے ان کی نفسیات اور لسانیات کیسے متاثر ہوتی ہے، یہ سب پہلی ہی قسط میں دکھائی دے رہا ہے۔

دو بیوہ عورتوں کی کہانی میں دونوں کی بیوگی کے باوجود مزاج میں بہت فرق ہے۔ عورت بیوہ ہونے کے بعد کس طرح اندر سے گھل جاتی ہے اسے ایک سفاک مکالمے بولنے والے کردار سے ہی بیان کیا جا سکتا تھا۔

مسز ایثار، جو رشتے کرواتی ہیں، ایسا ہی ایک کردار ہے۔ وہ اپنی سہیلی کی بیٹی کا رشتہ لے کر جاتی ہیں تو اسے کہتی ہیں: ’تیرے اندر کڑواہٹ پیدا ہو گئی ہے۔ میں نے تجھے 10 سال پہلے ہی کہا تھا شادی کر لے۔‘

دوسری طرف ایک مکالمہ، ’تمہاری امی مجھے بڑی سوشل لگتی ہیں، میری امی تو بیوہ ہونے کے بعد صرف گھر کی ہو کر رہ گئی ہیں، بیوؤں بیوؤں میں فرق ہوتا ہے۔‘

کوئی بھی بچہ اپنی ماں کو بیوگی کی سفید چادر جیسا نہیں دیکھنا چاہتا۔ خواہش یا حسرت کب کس رنگ میں مکالمہ بن جائے، زندگی ویب سیریز میں بول پڑتی ہے۔ 

مسز ایثار جب ایک جگہ کہتی ہیں کہ شادی کے وقت عورت اور مرد کی عمر میں 12، 13 سال کا فرق ہوتا ہی ہے گویا وہ بتا رہی ہیں کہ سماج کے مطابق اس کو معیوب نہیں سمجھنا چاہیے اور کچھ دیکھے بنا شادی کر دینی چاہیے۔

اگرچہ زندگی و موت انسان کے اختیار میں نہیں لیکن مشاہدہ بتاتا ہے کہ ایسے رشتے طے ہوتے ہی بچیاں بیوہ ہو جاتی ہیں۔

میاں بیوی اپنی طبعی عمر تو گزارتے ہی ہیں مگر شوہر 10، 15 برس بڑے ہونے کی وجہ سے بیوی سے 10، 15 برس پہلے ہی جدا بھی جاتے ہیں۔ 

مکالمہ زندگی کے نشیب و فراز کی طرح کڑوا، ترش نمکین اور میٹھا ہے۔ موسیقی بہت ہی اعلیٰ ہے۔ بیک گراؤنڈ میوزک نے ایک ایک سین کا ساتھ دیا ہے۔ 

بیوہ ہو جانے والی نسل کے مسائل سے جوان اولاد اور خصوصی جوان بیٹیاں کیسے متاثر ہوتی ہیں۔

ان کے اندر کا شوخ و چنچل پن زندگی کی نہ ہموار روانی کیسے کھا جاتی ہے۔

اگلی اقساط ہی نہیں اگلے سیزنز میں بھی ان مسائل کی عکس بندی دکھائی دے گی۔

ڈرامے کے آغاز میں آرٹ ورک بہت عمدہ ہے اور لوکیشن کے لیے جس ماحول کا انتخاب کیا گیا ہے، وہ مسائل، ماحول اور مزاج سب کا خود عکاس ہے۔ 

ڈرامے کی انفرادیت نے ہمیں اس کے مصنف اور ڈائریکٹر فصیح باری خان صاحب سے رابطے پہ مجبور کر دیا۔

ہم نے اس ویب سیریز کے حوالے سے کچھ سوالات کیے تو انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اسے ایک ٹیلی فلم کے طور پر لکھا تھا مگر دو سال تک یہ چینلز پر نہیں لگ سکی تو انہوں نے سوچا کہ اسے خود سیزیر بنا دیں تو پھر انہوں نے اس کی اقساط لکھیں اور خود ہی سیریز بنائی۔ 

انہوں نے بتایا: ’بطور لکھاری مجھے لگتا ہے کہ بعض اوقات سکرپٹ کی روح، اس میں موجود مخفی باتیں، اس کی جو گہرائی وگیرائی ہوتی ہے وہ ڈائریکٹر بالکل نہیں سمجھ  پاتے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس کو نظر انداز کر کے آگے بڑھ جاتے ہیں یوں جو آپ نے لکھا ہوتا ہے اس کا تاثر معدوم ہو جاتا ہے۔ میں نے بطور ڈائریکٹر اس روح کو زندہ رکھنے کی کوشش کی۔‘

’مجھے لگتا ہے کہ میں جو ڈراما لکھ رہا ہوتا ہوں، اس میں گرد و پیش کی کہانی ہوتی ہے۔ ہم دکھانا وہی چاہ رہے ہیں جو آپ کے سماج میں آپ کے ارد گرد پھیلا ہوا ہے۔‘

انہوں نے کہ کہانی میں وہ خواتین کردار ہیں جو آپ کو ڈراموں میں نہیں ملتے مگر ہر دوسرے گھر میں موجود ہوتے ہیں، خودمختار لڑکیاں جن کی زندگی کی اپنی انفرادیت ہوتی ہے۔ 

’ہمارے ڈرامے سے عام زندگی والا فلیور، عام زندگی کی چھوٹی چھوٹی تفصیلات و جزیات، زندگی کی چھوٹی چھوٹی باتیں مس ہوتی جا رہی ہیں۔ اب بڑی بڑی باتیں ہوتی ہیں۔

’اگر آپ مجھے کہیں کہ ایک جملے میں کہانی بیان کروں تو یہ روز مرہ زندگی کی کہانی ہے کیونکہ روز مزہ کی زندگی ٹی وی اور فلم والوں کو متاثر نہیں کرتی۔‘

انہوں نے بتایا کہ اب تک ڈائریکٹنگ اور ایڈیٹنگ کا تجربہ اچھا رہا ہے جبکہ انہوں نے اداکاروں اور اپنی ٹیم کی بھی تعریف کی۔ 

’سب اداکار لاہور ہی کے تھے۔ سب نے بہت ساتھ دیا۔ سب میں جذبہ تھا۔ سب نے کام جذبے سے کیا تو مجھے بھی بہت مزا آیا۔ جذبہ، جنون پیشن نہ ہو تو کام کا لطف نہیں آتا۔‘

ہم بس اتناہی کہیں گے ’لڑکیوں والا گھر‘ ایک بار تو آپ کو ضرور چونکاتا ہے۔ کافی دیر آپ سکتے کے عالم سے ہی نہیں نکلتے۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی ٹی وی