اب درد اور خون کے بغیر خود ٹیٹو بنانا آسان

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ان ٹیٹوز کو ابتدا میں طبی اور جلد کی دیکھ  بھال کے لیے استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔

بنگلور کے نواح میں ایک شخص 11 اپریل، 2022 کو سالانہ کار میلے میں ٹیٹو بنوا رہا ہے (اے ایف پی)

امریکی سائنس دانوں نے سستے ٹیٹو تیار کیے ہیں جنہیں از خود بھی جلد پر بنایا جا سکتا ہے۔

جارجیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے محققین ابتدائی طور پر انتہائی چھوٹی سوئی والے ان ٹیٹوز کے پیچز کو مویشیوں کی دیکھ بھال اور خصی کیے گئے جانوروں کی نگرانی کے لیے استعمال کریں گے۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ مستقبل میں ان ٹیٹوز کو طبی اور جلد کی دیکھ  بھال کے لیے استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔

منصوبے کے مرکزی محقق پروفیسر مارک پراسنٹز کے بقول: ’ہم نے سوئی انتہائی باریک بنا دی ہے تاکہ درد محسوس نہ ہو لیکن اس کے باوجود سوئی روشنائی کو جلد میں منتقل کر سکتی ہے۔

’اس طرح نہ صرف طبی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والے ٹیٹوز کو زیادہ قابل رسائی بنا جا سکتا ہے بلکہ استعمال میں آسانی کی بدولت آرائشی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والے ٹیٹوز کے لیے نئے مواقعے بھی پیدا کیے جا سکتے ہیں۔‘

’ایسے میں جب بعض لوگ ٹیٹو بنوانے کے لیے درکار وقت اور درد قبول کرنے پر تیار ہو جاتے ہیں، ہم نے سوچا ہو سکتا ہے دوسرے لوگ ایسے ٹیٹو کو ترجیح دیں جو سیدھا سادہ جلد پر لگایا جاتا ہے اور اس سے تکلیف نہیں ہوتی۔‘

عام طور پر ٹیٹو بنانے کے لیے بڑی سوئی استعمال کی جاتی ہے جو بار بار جلد میں داخل ہوتی ہے لیکن اب سائنس دانوں نے مائیکرو سوئی تیار کی ہے جو ریت کے ذرے سے بھی چھوٹی ہے۔

یہ سوئی ٹیٹو کی روشنائی سے بنی ہوتی ہے جو حل ہو جانے والے خول میں بند ہوتی ہے۔

تحقیق کے شریک مصنف سونگ لی کا کہنا ہے ’چوں کہ باریک سوئیاں ٹیٹو کی روشنائی سے بنی ہوتی ہیں اس لیے وہ روشنائی کو باآسانی جلد میں جمع کر دیتی ہیں۔‘

نتیجتاً حل ہونے سے پہلے مائیکرو سوئیوں کو دبا کر جلد میں داخل کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح درد ہو گا اور نہ ہی خون نکلے گا۔

ٹیٹو کو اکثر طبی تناظر میں استعمال کیا جاتا ہے تاکہ زخموں کا نشان چھپایا جا سکے اور سرطان کے شعاؤں کے ذریعے بار بار کیے جانے والے علاج میں رہنمائی کی جا سکے یا چھاتی کے آپریشن کے بعد نپلز کو بحال کیا جا سکے۔

ان ٹیٹوز کو طبی حوالے سے چوکنا کرنے کے لیے بازوبند  کی جگہ بھی استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔ اس عمل کا مقصد ذیابیطس، مرگی یا الرجی جیسے امراض کی صورت میں صحت کے حوالے سے سنگین نوعیت کی صورت حال کے بارے میں معلومات کی فراہمی ہے۔

یہ تحقیق جریدے’آئی سائنس‘میں شائع ہوئی۔ پروفیسر پراسنٹز کا کہنا تھا کہ ’مقصد تمام ٹیٹوز کی جگہ لینا نہیں جو اکثر خوبصورت دکھائی دینے کے لیے بنائے جاتے ہیں جنہیں ٹیٹو آرٹسٹ بناتے ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’ہمارا مقصد ان مریضوں، پالتو جانوروں اور لوگوں کے لیے نئے مواقعے پیدا کرنا ہے جو ایسا ٹیٹو چاہتے جسے بنانے میں درد نہ ہو اور جو آسانی سے بن جائے۔‘

یہ خبر اس کے بعد  سامنے آئی جب ملکہ برطانیہ کی موت کے بعد بینی ڈورم (سپین) میں ٹیٹو آرٹسٹ نے انکشاف کیا کہ انہوں نے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے پیڈنگٹن بیئر (بچوں کے ادب میں افسانوی کردار) کے ساتھ چلتے ہوئے ملکی الزبتھ دوم کو خراج عقیدت پیش کیا۔

جان میلورن نامی فن کار نے 12 ستمبر کو بینی ڈروم، سپین میں واقع اپنے سٹوڈیو’ٹیٹو سینٹرل‘ میں خاکے میں روشنائی بھر کر ٹیٹو بنایا۔

وال سنڈ، نیو کاسل سے تعلق رکھنے والے میلورن کا کہنا تھا کہ ایک گاہک روشنائی بھرنے کے لیے ڈرائنگ ان کے پاس لے کر آئے۔ انہوں نے کہا کہ ’کسی معروف شخصیت کی وفات کے بعد خراج عقیدت والے ٹیٹو بنانے کی درخواستیں ان کے شعبے میں عام سی بات ہے۔‘

انہوں نے کہا ’میں عام طور پر اس سے اجتناب کرتا ہوں کیوں کہ میں دوسرے لوگوں کی بدقسمتی سے پیسہ بنانا پسند نہیں کرتا۔‘

ٹیٹو آرٹسٹ کا کہنا تھا کہ وہ کم قیمت پر ٹیٹو بنانے سے حاصل ہونے والی رقم کو دکان کے باہر پھول رکھنے کے لیے استعمال کریں گے اور ملکہ کی آخری رسومات والے دن دکان بند رکھیں گے۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی ٹیکنالوجی