فیک نیوز پر آگہی: ’انڈی اردو ان کیمپس‘ کے تحت پہلا سیمینار

انڈپینڈنٹ اردو نے طلبہ تک اپنی بات پہنچانے کے لیے ’انڈی اردو ان کیمپس‘ کے تحت اسلام آباد کی زیبسٹ یونیورسٹی میں ’فیک نیوز‘ کے حوالے سے جمعرات کو ایک سیشن کا انعقاد کیا۔

انڈی اردو ان کیمپس کے تحت طلبہ تک اپنی بات پہنچانے کے لیے اسلام آباد کی زیبسٹ یونیورسٹی میں فیک نیوز کے حوالے سے سیشن منعقد ہوا۔ 

سیمینار میں انڈپینڈنٹ اردو کے مینیجنگ ایڈیٹر ہارون رشید اور پروڈیوسر جویریہ حنا سمیت صحافی محمد کامران خان نے طلبہ کو فیک نیوز پر آگہی دی۔

’انڈی اردو ان کیمپس‘ کا مقصد میڈیا کے بدلتے ہوئے رجحانات اور ضروریات کو براہ راست پاکستان کی یونیورسٹیوں کے طلبہ تک پہنچا کر میڈیا کی تعلیم اور فیلڈ میں عمل کے درمیان فرق کو ختم کرنا ہے۔ 

انڈپینڈنٹ یوکے کی اردو سروس انڈپینڈنٹ اردو ’انڈی اردو ان کیمپس‘ کے تحت یونیورسٹی کے طلبہ کے ساتھ ان کے سٹڈی ہالز میں اپنے فیلڈ اور نیوز روم کے تجربے شیئر کرے گی۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انڈپینڈنٹ اردو کے مینیجنگ ایڈیٹر ہارون رشید نے جعلی خبروں اور غلط معلومات کا مقابلہ کرنے اور پاکستان میں حقائق پر مبنی اور غیر جانبدارانہ صحافت کو فروغ دینے کے بارے میں بات کی۔ 

اس سیشن میں انڈپینڈنٹ اردو نیوز روم کی ایک ٹیم نے بھی حصہ لیا اور فیک نیوز کے حوالے سے پریزنٹیشن دی۔

زیبسٹ اسلام آباد کے میڈیا سٹڈیز ڈیپارٹمنٹ کے طلبہ کی بڑی تعداد سیمینار میں موجود تھی جنہوں نے اسے سراہا۔

ایک طالب علم نوید علی نے کہا کہ ’پہلے بھی فیک نیوز کے حوالے سے کچھ معلومات میرے پاس موجود تھیں لیکن اس سیمینار کی وجہ سے ان کے علم میں اضافہ ہوا ہے۔‘

سید علی حسن نقوی نے بتایا کہ ’مجھے یہ مسئلہ تھا کہ فیک نیوز کو حقیقی نیوز سے الگ کیسے کر سکتے ہیں۔ اس سیمینار سے مجھے یہ معلومات ملی ہیں کہ فیک نیوز کو کیسے پہچانا جا سکتا ہے۔‘

نفیسہ باجوہ نے انڈپینڈنٹ اردو کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ ’مجھے پتہ چلا کہ فیک نیوز کیا ہوتی ہے اور فیک نیوز پھیلانے والوں سے ہم کیسے بچ سکتے ہیں۔‘

انڈی اردو ان کیمپس کا یہ پروگرام دیگر جامعات اور تعلیمی اداروں میں بھی جاری رہے گا۔

زیادہ پڑھی جانے والی کیمپس