پاکستان میں حکومت تبدیلی کے الزامات سچ نہیں: امریکی سفیر

ایک انٹرویو میں پاکستان میں تعینات امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم کا کہنا ہے کہ امریکہ ’ایک آزاد، خوشحال اور مضبوط پاکستان دیکھنا چاہتا ہے۔‘

پاکستان میں امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم 29 ستمبر 2022 کو اسلام آباد میں پاکستان امریکہ تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے کے حوالے سے ایک تقریب میں خطاب کر رہے ہیں (امریکی سفارت خانہ)

پاکستان میں تعینات امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم نے ایک بار پھر امریکی موقف دہراتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں حکومت کی تبدیلی میں امریکی کردار کے الزامات میں کوئی سچائی نہیں۔

امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم نے انگریزی اخبار دا نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں پاکستان میں حکومت کی تبدیلی جیسے سازشی نظریات کو ’بدقسمتی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے پاکستان کے ساتھ طویل اور انتہائی اہم تعلقات ہیں اور ’ہم ایک آزاد، خوشحال اور مضبوط پاکستان دیکھنا چاہتے ہیں۔ ہمارا ماننا ہے کہ یہ ہمارے اور خطے کے مفاد میں ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا: ’جہاں تک الزامات کا تعلق ہے تو ان میں کوئی سچائی نہیں۔ ہم، نے ان سے بات کی ہے، میں نے اور واشنگٹن نے بھی۔ مجھے امید ہے کہ ہم اس سے نکل سکتے ہیں اور اس اہم کام میں واپس آسکتے ہیں جو ہمیں کرنا ہے۔ اس وقت دنیا اور ہمارے دونوں ممالک کو درپیش کچھ معاملات پر مل کر کام کرنا ہے۔‘

سابق وزیراعظم عمران خان نے مارچ میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ ان کی حکومت کو بیرونی سازش کے تحت گرانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے ایک جلسے میں ایک مبینہ خط بھی لہرایا تھا جو ان کے مطابق انہیں بیرون ملک سے بھیجا گیا ’دھمکی آمیز‘ خط تھا۔ اس کے چند ہفتے بعد ہی قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں ان کی حکومت ختم ہوگئی، جس کے بعد سے انہوں نے ملک میں جلسوں کا سلسلہ جاری رکھا جس میں وہ یہ الزام دہراتے رہے ہیں۔ انہوں نے حالیہ دنوں میں نے اسمبلی میں اپنی جماعت کی واپسی کو بھی اس خط کی تحقیقات سے مشروط کیا ہے۔ 

اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہ سابق وزیراعظم عمران خان نے پارلیمنٹ میں واپسی کے لیے پیشگی شرط کے طور پر سائفر کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے، امریکی سفیر نے کہا: ’یہ درحقیقت میرا کام نہیں ہے کہ اس بارے میں بات کروں کہ انکوائری ہونی چاہیے یا نہیں۔ میں ان کے بیان پر بات نہیں کر سکتا۔  میرے پاس اس پر بات کرنے کے لیے مزید کچھ نہیں۔ ہم معمول کی سفارتی ملاقاتوں پر بات نہیں کرتے۔ میں یقینی طور پر یہ ضرور کہہ سکتا ہوں کہ یہاں یا واشنگٹن میں ملاقات، کسی بھی سفیر کے سفارتی کام کا معمول ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’مسائل کے بارے میں اس طرح کی بات چیت کرنا، چاہے ہم متفق ہوں یا نہ ہوں، یہ سفارت کاری کا ایک حصہ ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ ہمیں چاہیے کہ اب اس سے آگے بڑھیں۔‘

جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا ان کی کبھی سابق وزیراعظم سے ملاقات ہوئی تو ان کا کہنا تھا کہ ’ایسا نہیں ہوا۔‘

سفیر سے پوچھا گیا کہ پاکستان میں حالیہ معاشی بدحالی کی ذمہ دار کون سی مخصوص سیاسی جماعت ہے، تو ان کا کہنا تھا: ’یہ ایک بہت ہی پیچیدہ سوال ہے۔ دنیا میں بہت سے ممالک کے لیے اس سوال کا جواب دینا آسان نہیں ہے۔ اس میں چند بنیادی چیزیں ایسی ہیں جنہیں درست انداز میں ترتیب دیا گیا ہے جو پاکستان کے معاشی مستقبل پر بہت زیادہ اثر ڈال سکتی ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’ایک تو یہ کہ پاکستان کو اپنے مالی معاملات کو مناسب طریقے سے سنبھالنے کا کوئی راستہ نکالنا ہوگا اور اسے آئی ایم ایف پروگرام کے ساتھ مذاکرات اور دیگر بین الاقوامی قرض دہندگان کے ساتھ کچھ دیگر مذاکرات میں شامل کر لیا گیا ہے۔  میں پاکستانی حکومت کو بہت زیادہ کریڈٹ دیتا ہوں کہ انہوں نے معیشت کو دوبارہ پٹری پر لانے کے طریقے تلاش کیے۔‘

انٹرویو میں امریکی سفیر سے واشنگٹن کی جانب سے پاکستان میں فضائی اڈوں کے مطالبے کے بارے میں پوچھا گیا تو ڈونلڈ بلوم کا کہنا تھا: ’میں آپ کو بتا سکتا ہوں کہ کسی بھی طرح سے فضائی اڈوں کے بارے میں کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔‘

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کی پاکستان میں تعیناتی کے دوران بھی اس حوالے سے کوئی بات نہیں ہوئی ہے۔

امریکی سفیر نے کہا: ’میں پچھلے چار ماہ سے یہاں ہوں اور یہ میرے ایجنڈے میں شامل نہیں ہے۔ یہاں ہمارا ایجنڈا بہت واضح ہے۔ اس کا تعلق اقتصادی، تجارتی اور سرمایہ کاری تعلقات کی تعمیر اور وسعت اور موسمیاتی تبدیلی پر کام کرنے سے ہے۔۔۔ جہاں تک سکیورٹی کا تعلق ہے تو دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مضبوط ہیں۔‘

انخلا کے بعد افغانستان کی صورت حال کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے امریکی سفیر نے کہا: ’اس پر ہمارا پاکستان کے ساتھ بہت اچھا تعاون تھا، نہ صرف گذشتہ سال انخلا تک بلکہ اس کے بعد بھی، ہم ان افغانوں کی مدد کا طریقہ تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جنہوں نے بیرون ملک جانے کی کوشش کی تھی اور ان میں سے بہت سے اب امریکہ میں آباد ہوچکے ہیں۔ یہ دراصل پاکستان کے ساتھ بہت مضبوط تعلقات ہیں اور ہم ان مسائل سے عملی طور پر نمٹتے ہیں۔‘

افغانستان کی سرزمین سے پاکستان میں شدت پسندوں کے حملوں کے بارے میں ڈونلڈ بلوم نے کہا: ’ظاہر ہے، ہمیں افغانستان سے پیدا ہونے والی دہشت گردی کے خطرے کے بارے میں بہت زیادہ تشویش ہے۔ یقیناً پاکستان فرنٹ لائن پر ہے اور اس کے اپنے اہم خدشات ہیں۔‘

انہوں نے کہا: ’پاکستان نے مسلسل دہشت گردی کا خمیازہ بھگتا اور اس کی قیمت ادا کی۔ ہم بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ طالبان دوحہ میں کیے گئے اپنے وعدوں کو سمجھیں اور ان کا احترام کریں۔ ان کے تمام ہمسایوں کو دہشت گردی کے خطرات سے محفوظ رہنا چاہیے۔ یہ ایک بنیادی ذمہ داری اور عزم ہے جو طالبان نے پورا کرنا ہے۔‘

صدر بائیڈن کی جانب سے پاکستان کو ایف 16 طیارے فراہم کرنے کے اعلان کے حوالے سے امریکی سفیر کا کہنا تھا کہ دفاع کے حوالے سے پاکستان امریکہ تعلقات اور روابط بہت مضبوط ہیں۔

 انہوں نے کہا: ’ہم نے دوطرفہ مشقوں کی رفتار میں اضافہ کیا ہے۔ ہم نے مارچ میں فالکن ٹیلون مشق کی تھی۔ ہم نے اپریل میں انسپائرڈ یونین بحری مشقیں کیں۔ گذشتہ سال ہمارے آٹھ بحری جہاز پاکستان آئے تھے۔ یہ سب پاکستان کے ساتھ مسلسل، مضبوط تعلقات اور تعاون کی نشانیاں ہیں۔ ہمارے تربیتی پروگرام کئی دہائیوں تک بہت بھرپور اور مضبوط ہیں۔ بحیرہ عرب میں مشترکہ سمندری افواج نے قزاقوں اور دہشت گردی کے خلاف حفاظت کے لیے بین الاقوامی پانیوں میں ایک ساتھ گشت کیا۔‘

جب ان سے سوال کیا گیا کہ واشنگٹن کو پاکستان اور چین میں تعاون یا سی پیک کے حوالے سے کیا تحفظات ہیں؟ تو ان کا کہنا تھا: ’یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ امریکہ، کسی بھی طرح سے پاکستان یا کسی دوسرے ملک کو یہ نہیں کہتا کہ وہ واحد اقتصادی شراکت دار، بلاک یا اس طرح کی کسی اور چیز کا انتخاب کرے۔ اب یہاں اہم بات یہ ہے کہ ہم اس بات پر زور دیتے ہیں کہ بین الاقوامی تجارت اور سرمایہ کاری شفافیت کے بین الاقوامی معیارات پر مبنی ہونی چاہیے۔‘

اس سوال کے جواب میں کہ اگر عمران خان دوبارہ اقتدار میں آئے تو امریکہ اسے کیسے دیکھے گا، امریکی سفیر نے کہا: ’بالکل، پاکستانی عوام جس بھی حکومت کو منتخب کریں گے ہم اس کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔ یہی وہ اصول ہے جس پر ہم صرف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ ہر جگہ کام کرتے ہیں، لہٰذا جسے پاکستانی عوام منتخب کرتے ہیں ہم اس حکومت کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں۔‘

ڈونلڈ بلوم ایک کیریئر فارن سروس ڈپلومیٹ ہیں، جن کا خطے میں طویل تجربہ ہے۔ وہ کابل میں امریکی سفارت کار کے طور پر کام کر چکے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان