اسحاق ڈار کو سب سے پہلے کیا کرنا چاہیے؟

’اسحاق ڈار وقت آنے پر تھانیدار بھی بن جاتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ کہاں پیار سے کام لینا ہے اور کہاں سختی دکھانی ہے۔‘

وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو بے پناہ معاشی چیلنجز کا سامنا ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)

امجد ایک نجی کمپنی میں 20 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ پر ملازمت کرتے ہیں۔ چار بچے، بوڑھے ماں باپ اور ایک بیوی کا خرچہ ان کے سر پر ہے۔ ان کی ایک بہن دادو میں رہتی تھی۔ سیلاب میں گھر بہہ جانے کے بعد وہ امجد کے پاس لاہور آ کر رہ رہی ہیں۔

ہر پاکستانی کی طرح امجد بھی مہنگائی اور بے روزگاری سے بری طرح متاثر ہیں۔ وہ پہلے ہی گھر کا خرچ نہیں چلا پا رہے تھے۔ اس پر بہن اور ان کے بچوں کا خرچہ اٹھانا بہت مشکل ہو گیا ہے۔ امجد نے سن رکھا ہے کہ جب اسحاق ڈار وزیر خزانہ بنتے ہیں تو مہنگائی میں کمی آ جاتی ہے۔ اسحاق ڈار صاحب کے آنے کی خبر سن کر وہ خوش ہیں لیکن وہ یہ سوچ رہے ہیں کہ ڈار صاحب معاشی بحالی کی شروعات کیسے کریں گے۔ وہ کن ایشوز کو پہلے حل کرنے کی کوشش کریں گے۔

امجد کے مطابق مہنگائی سب سے بڑا مسئلہ ہے اور اس میں سب سے پہلے کمی آنی چاہیے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’میں اسحاق ڈار صاحب کو اس وقت بہترین وزیر خزانہ مانوں گا جب مہنگائی کم ہو گی، میرے گھر کے اخراجات میری تنخواہ سے پورے ہو سکیں گے اور مجھے قرض نہیں لینا پڑے گا۔ اگر اسحاق ڈار صاحب مہنگائی میں کمی نہ لا سکے تو میرے لیے وہ ناکام وزیر خزانہ ہوں گے۔‘

’کرونا سے زیادہ نقصان سیلاب سے ہوا‘

یہ جاننے کے لیے کہ ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کے لیے اسحاق ڈار کو کن اقدامات کو اولین ترجیح دینی چاہیے، انڈپینڈنٹ اردو نے سابق وزیر خزانہ حفیظ پاشا صاحب سے رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ اسحاق ڈار کو سب سے پہلے آئی ایم ایف سے قرض اور امداد بڑھانےas پر بات کرنی چاہیے۔ ’کرونا میں پاکستان کا اتنا معاشی نقصان نہیں ہوا تھا جتنا سیلاب سے ہوا ہے۔

’کرونا میں آئی ایم ایف نے پاکستان کے قرض بھی ملتوی کر دیے تھے اور اضافی فنڈز بھی جاری کیے تھے، لیکن اس مرتبہ حالات مشکل دکھائی دیتے ہیں۔ اسحاق ڈار نے بطور وزیرخزانہ پہلی میٹنگ آئی ایم ایف سے کر لی ہے۔ اس میٹنگ میں بجلی اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے کی شرائط کو ملتوی کرنے پر بات ہوئی ہے لیکن آئی ایم ایف نے اس پر مثبت رد عمل نہیں دیا ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق امریکہ میں آئی ایم ایف کی ایم ڈی نے وزیراعظم شہباز شریف سے آئی ایم ایف شرائط ملتوی کرنے کے حوالے سے کی گئی درخواست پر غور کرنے کی بات کی تھی، لیکن انہیں عمل درآمد کی یقین دہانی نہیں کروائی گئی تھی۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ ’نئے وزیر خزانہ کو آئی ایم ایف قرضوں میں ریلیف کے حوالے سے موثر اقدامات کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ اطلاعات ہیں کہ آئی ایم ایف نے نئی شرائط عائد کر دی ہیں۔ آئی ایم ایف نے اسحاق ڈار سے پہلی میٹنگ میں کہا ہے کہ پہلے پیرس کلب سے لیے گئے قرضوں پر ریلیف حاصل کریں۔ اس وقت پیرس کلب کے واجب الادا قرضے 9.7 ارب ڈالرز ہیں، جن میں سے تقریباً 1.1 ارب ڈالرز اس سال ادا کرنے ہیں۔

’امریکہ پیرس کلب کا حصہ ہے اور امریکہ نے پاکستان سے کہا ہے کہ وہ پہلے چین سے قرضوں میں ریلیف حاصل کرے، اس کے بعد امریکہ اور پیرس کلب اس پر سوچیں گے اور چین کی صورت حال یہ ہے کہ قرضوں پر ریلیف دینے کی بجائے انہوں نے پرانے قرض واپس مانگ لیے ہیں۔ یہ صورت حال تشویش ناک ہے اور اسحاق ڈار کے لیے بڑا امتحان ہے۔‘

سب سے پہلے آئی ایم ایف

سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر سلیمان شاہ صاحب نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’نئے وزیر خزانہ کو سب سے پہلے آئی ایم ایف کے ساتھ تعلقات بہتر کرنا ہوں گے۔ کسی بھی قیمت پر آئی ایم ایف پروگرام ڈی ریل نہیں ہونا چاہیے۔ ماضی میں اسحاق ڈار کے آئی ایم ایف سے اچھے تعلقات رہے ہیں۔ اگر ایک اچھا مذاکراتی ماحول پیدا ہو جاتا ہے تو پاکستان کے لیے بہت سے فائدے حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ سیلاب متاثرین کے لیے اس بجٹ میں سے حصہ نکالنا بھی نئے وزیر خزانہ کے لیے بڑا چیلنج ہو گا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے کہا کہ ’پاکستان کی مالی حالت تو بہت پتلی ہے، اس لیے عالمی مالیاتی اداروں اور دوست ممالک سے مطلوبہ مالی امداد لینا ایک بڑا مشکل مرحلہ ہے۔ عالمی برادری کا پاکستان کی مدد نہ کرنا بہت بڑی زیادتی ہے۔ اسحاق ڈار کو دوست ممالک کو قرض، ریلیف دینے اور مالی امداد کرنے پر راضی کرنا ہو گا۔ بصورت دیگر پاکستانی میں معاشی بحران شدت اختیار کر جائے گا۔ کسانوں نے احتجاج شروع کر دیے ہیں۔ اگر بروقت بہتر فیصلے نہ کیے گئے تو امن و امان کی صورتحال خراب ہو سکتی ہے۔

’اس کے علاوہ ڈار صاحب کو مہنگائی کم کرنے کے لیے موثر اقدامات کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ اسحاق ڈار نے شرح سود میں کمی لانے کا دعویٰ کیا ہے اور یہ ان کی اولین ترجیحات میں شامل دکھائی بھی دیتا ہے۔ اس طرح کے دعوے مفتاح اسماعیل بھی کر چکے ہیں لیکن ان کی تکمیل نہیں ہو سکی۔‘

آئیڈیل صورتِ حال

اگر تصویر کا دوسرا رخ دیکھیں تو موجودہ صورت حال اسحاق ڈار کے لیے آئیڈیل ہے۔ دنیا میں تیل اور گیس کی قیمتیں گر رہی ہیں، جس کے باعث درآمدات پر بوجھ کم ہو سکتا ہے۔ پاکستانی معیشت کا انحصار درآمدات پر ہونے کی وجہ سے اشیائے خوردونوش اور خوردنی تیل کی قیمتیں بھی کم ہو سکتی ہیں۔ مہنگائی میں کمی آسکتی ہے۔ جس کا اثر شرح سود پر بھی پڑ سکتا ہے۔ جس سے شرح نمو میں اضافے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔ اگر اس صورت حال میں بھی مہنگائی کم نہ ہوئی، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم نہ کی گئیں اور شرح سود میں کمی نہ ہوئی تو اسحاق ڈار کے لیے عوامی سطح پر مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔

کرنسی ایکسچینج ایسوسی ایشن آف پاکستان کے جنرل سیکریٹری ظفر پراچہ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ اسحاق ڈار کے لیے ڈالر کی قدر کو متوازن رکھنا سب سے پہلی ترجیح ہونا چاہیے، کیونکہ پاکستان درآمدات پرانحصار کرتا ہے۔ ’ڈالر ریٹ کم ہو گا تو تقریباً ہر چیز کی قیمت کم ہو جائے گی اور مہنگائی کم کرنے کا ہدف بھی حاصل ہو جائے گا۔‘

ڈالر کیسے کنٹرول ہو گا؟

اس سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا: ’اب حالات مختلف ہیں۔ سٹیٹ بینک آزاد ہے۔ وزرات خزانہ سٹیٹ بینک کی پالیسیوں میں مداخلت نہیں کر سکتی۔ آئی ایم ایف کے مطابق ڈالر ریٹ کو فکس نہیں کیا جا سکتا۔ سٹیٹ بینک براہ راست مارکیٹ سے ڈالرز نہیں خرید سکتی۔ ماضی کی طرح قرض بھی نہیں مل رہے۔ ایسی صورت حال میں ڈالر ریٹ کم رکھنا مشکل ہے، لیکن اسحاق ڈار پرانے کھلاڑی ہیں۔ بینکوں میں بھی نوکریاں کر چکے ہیں۔ منی چینجروں کے ساتھ بھی کام کر چکے ہیں اور وزیر خزانہ بھی رہے ہیں، اس لیے انہیں مسئلے کی جڑ تک پہنچنے میں زیادہ دیر نہیں لگے گی۔‘

انہوں نے بتایا کہ ’اسحاق ڈار وقت آنے پر تھانیدار بھی بن جاتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ کہاں پیار سے کام لینا ہے اور کہاں سختی دکھانی ہے۔ ماضی میں ڈالر کی قیمت ایک روپیہ بڑھنے پر اسحاق ڈار نے گورنر سٹیٹ بینک کو نوکری سے فارغ کر دیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے آتے ہی بینکوں اور ہنڈی حوالہ والوں کو خبر دار کر دیا ہے، جس کی وجہ سے ڈالر ریٹ مسلسل گر رہا ہے۔

’اس کے علاوہ ایران اور افغانستان کے راستے جو زرمبادلہ ملک سے باہر جا رہا ہے اس مسئلے پر بھی کام کرنے کی ضرورت ہے۔ پچھلے وزرا خزانہ نے اس پر کوئی کام نہیں کیا۔ ڈالرز کو ملک سے جانے سے روکنا ڈالرز کمانے کے مترادف ہے۔ اگر اسحاق ڈار اس پر توجہ دیں تو تقریباً چار ارب ڈالرز ضائع ہونے سے بچایا جا سکتا ہے۔‘

مارکیٹ میں ڈالر پھینکنا اچھی حکمتِ عملی ہے؟

میاں عبدالحنان پاکستان میٹ ایکسپورٹرز اینڈ پروسیسرز ایسوسی ایشن کے صدر ہیں۔ انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’اسحاق ڈار کو ڈالر مارکیٹ میں پھینک کر اس کی قدر کم نہیں کرنی چاہیے۔ پاکستان کی معاشی حالت انتہائی نازک ہے۔ آئی ایم ایف سے ملنے والے تقریباً 1.2 ارب ڈالرز ایک ماہ میں ہی ختم ہو گئے ہیں۔ چین سے ملنے والے تقریباً دو ارب ڈالرز صرف ایک ہفتے میں خرچ کر دیے گئے تھے۔

’نئے وزیر خزانہ کو اس بارے بھی سوچنا ہو گا کہ کب تک صرف قرضوں پر ملک چلے گا۔ ملک چلانے کے لیے برآمدات بڑھانا بھی اولین ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے۔ درآمدات کا لائسنس ترجیحی بنیادوں پر انہیں دیا جائے جو برآمدات کر رہے ہیں۔ یا درآمدات کرنے والوں کے لیے لازم قرار دیا جائے کہ وہ 30 فیصد برآمدات بھی کریں۔ اس کے علاوہ برآمدات کرنے والوں کو سہولتیں فراہم کی جائیں۔‘

بقول میاں عبدالحنان: ’یہ کام اسحاق ڈار بہتر کر سکتے ہیں کیونکہ وہ صرف وزارت خزانہ تک محدود نہیں رہتے بلکہ تمام وزارتوں میں ان کا عمل دخل رہتا ہے اور ماضی میں اس حوالے سے کچھ کام بھی کیا ہے۔ یہ معاملات ان کی اولین ترجیحات میں شامل ہونے چاہییں۔‘

ماہرین اور سٹیک ہولڈرز کی رائے کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کے لیے ترجیحات کا فیصلہ اسحاق ڈار نے خود کرنا ہے، لیکن ڈالر کی قدر کو قابو میں رکھنا اسحاق ڈار کی اولین ترجیح ہے۔ اس کے بعد آئی ایم ایف پروگرام میں رہنا، سیلاب زدگان کے لیے مالی امداد اکٹھا کرنا اور مہنگائی میں کمی لانا ان کے مقاصد میں شامل ہو سکتا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ