اسحاق ڈار وطن واپس روانہ: ڈالر تین روپے نیچے کیوں گرا؟

لندن میں پانچ برس سے خودساختہ جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے اسحاق ڈار پیر کو پاکستان پہنچ رہے ہیں، لیکن کیا وہ ملک کی معاشی تقدیر بدل سکتے ہیں؟

ماہرین کے مطابق اسحاق ڈار کے صرف ملک واپس آنے ڈالر کی قیمت میں بہتری نہیں آئے گی (اے ایف پی)

ماضی میں پاکستان میں امریکی ڈالر کی قیمت کو متنازعہ طریقوں سے استحکام دینے اور معشیت کو بہتر بنانے کے حوالے سے شہرت رکھنے والے سابق وزیر خزانہ اور پاکستان مسلم لیگ ن کے مالیاتی ٹیم کے اہم رکن اسحاق ڈار کو ایک بار پھر وزیر خزانہ بنانے کی خبر کے سامنے آنے کے بعد پاکستان میں ڈالر کی قیمت تین روپے گر گئی۔

کاروباری ہفتے کے آغاز پر پیر کو مارکیٹ کھلنے کے بعد امریکی ڈالر کی قیمت تین روپے کی کمی کے بعد 136.5 تک پہنچ گئی۔ جبکہ دوپہر کے ساڑھے 12 بجے تک سٹاک ایکسچینج 400 انڈیکس کے اضافے کے ساتھ 41000 پوائنٹس پر پہنچ گئی تھی۔

برطانیہ سے سینیئر صحافی زاہد خٹک کے مطابق اسحاق ڈار بدھ کی بجائے اب پیر کو وزیراعظم پاکستان کے ہمراہ وطن واپس روانہ ہوں گے۔

پاکستان مسلم لیگ ن کے سربراہ نواز شریف کی زیرِ صدارت لندن میں گذشتہ روز بلائے جانے والے اجلاس کے دوران وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے اپنا استعفیٰ دے دیا۔ پارٹی کی جانب سے ان کی جگہ گذشتہ پانچ سالوں سے لندن میں مقیم سینیئر پارٹی رہنما اسحاق ڈار کو وزیرِ خزانہ کے طور پر نامزد کردیا گیا۔

کیا سابق دور حکومت کی طرح اس بار بھی اسحاق ڈار کے بطور وزیر خزانہ آنے کے بعد ڈالر کی قیمت میں کمی ہوگی؟ یہ جاننے کے لیے ہم مختلف معاشی ماہرین سے رابطہ کیا۔

کراچی میں مالیاتی امور کے صحافی اور تجزیہ نگار تنویر ملک کے مطابق اسحاق ڈار کی بطور وزیر خزانہ واپسی کی خبر پر ڈالر کی قیمت میں کمی صرف مارکیٹ کی جانب سے ان کو خوش آمدید کہنے کا ایک اشارہ ہے کیوں کہ مارکیٹ میں ہر نئے واقعے کے رونما ہونے پر اپنا ردعمل دیتی ہے۔

ملک تنویر کے مطابق ’اسحاق ڈار کے پاکستان آنے تک ڈالر میں قیمت میں مزید چھ سے سات روپے کمی ہو سکتی ہے، مگر اس کے بعد ڈالر کی قیمت میں مزید کمی ہوتی ہے یا نہیں، یہ بتانا مشکل ہے۔‘

انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے تنویر ملک نے کہا: ’پاکستانی معشیت میں بہتری، ڈالر کی قیمت میں کمی اور روپے کی قدر میں اضافہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک ملک میں انٹرنیشنل فنائنسنگ نہیں آتی۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ گذشتہ دور حکومت میں اسحاق ڈار کی کون سی معاشی پالیسی تھی جس کے باعث ڈالر کی قیمت مستحکم رہی؟ اس کے جواب میں ملک تنویر نے بتایا کہ اس وقت پاکستان کے 16 سے 17 ارب ڈالر کے اپنے مالیاتی ذخائرموجود تھے۔ ان ذخائر میں سے حکومت نے سات ارب ڈالر اوپن مارکیٹ دیے تاکہ ڈالر کی قدر میں کمی ہو اور اس طرح ڈالر کی قیمت میں اضافہ نہ ہو۔

’مگر نئے وزیر خزانہ کے لیے ماضی کی طرح ایسا کرنا ممکن نہیں ہو گا، کیوں کہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی جانب سے انتہائی سخت شرائط ہیں جس کے باعث حکومت مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت پر کوئی جوڑ توڑ نہیں کر سکتی۔ اب ہر صورت میں مارکیٹ کو آزاد چھوڑنا ہے اور ریٹ کا تعین مارکیٹ کا اپنا نظام کرے گا۔‘

انہوں نے کہا کہ ’موجودہ وقت میں حکومت کے پاس ماضی کی طرح اپنے ذخائر نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ قرضہ کی رقم بھی سر پر ہے۔ سعودی عرب نے قرضی کی قسط تین ارب ڈالر کو اگلے سال تک موخر کیا ہے اور آئی ایم ایف کی جانب سے 29 اگست کو 1.1 ارب ڈالر دیے ہیں، تو اس کے باعث کچھ بہتری ہوئی ہے۔

’تو اسحاق ڈار کے صرف ملک واپس آنے ڈالر کی قیمت میں بہتری نہیں آئے گی۔ جب تک وہ موجودہ حالات کے حساب سے کوئی نئی پالیسی نہیں لاتے اور جب تک بیرون میں ڈالر نہیں آتے تب تک صورت حال میں بہتری آتی نظر نہیں آ رہی۔‘

لیکن اسحاق ڈار کے ناقدین کا ماننا ہے کہ ان کی پالیسیوں کی وجہ سے روپے کی قیمت تو مستحکم رہی لیکن ملک کو معاشی طور پر شدید نقصان پہنچا۔

ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے جنرل سیکرٹری ظفر پراچہ نے بھی ملک تنویر کی بات کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ اسحاق ڈار کی بطور وزیر خزانہ کی تقریری پر مارکیٹ نے اپنا ردعمل دیا کیوں کہ ان کے لیے یہ مشہور ہے کہ انہوں نے اپنے گذشتہ دور میں ڈالر کی قیمت کو مستحکم رکھا تھا۔

ظفر پراچہ کے مطابق: ’ہر واقعے پر مارکیٹ اپنا ردعمل دیتی ہے، جیسے سابق اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد کی جانب سے عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کا ووٹ کامیاب ہونے پر مارکیٹ کا ردعمل آیا تھا اور ڈالر کی قیمت میں کمی آ گئی تھی۔ مگر اس کے بعد دوبارہ ڈالر کی قیمت میں اضافہ دیکھا گیا۔ تو اب بھی یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اب ڈالر مزید نیچے جائے گا۔

’ڈالر کی قیمت میں کمی میں کچھ اثر اس بات کا بھی ہو سکتا ہے کہ حالیہ سیلاب کے بعد عالمی بینک، آئی ایم ایف، ایشین ڈیولپمنٹ بینک اور دیگر مالیاتی اداروں کی جانب سے پاکستان کو کو تنہا نہ چھوڑنے کا اعلان کیا ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

گذشتہ دور حکومت کے دوران اسحاق ڈار کی پالیسیوں پر بات کرتے ہوئے ظفر پراچہ نے کہا: ’اس وقت اسحاق ڈار کی پالیسیوں سے ڈالر کی قیمت تو مستحکم رہی، درآمدات بھی سستی رہیں مگر برآمدات مہنگی ہو گئی اور ان میں کمی بھی دیکھی گئی، جس پر انہیں تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔‘

ظفر پراچہ کے مطابق: ’ملک کی بگڑتی معاشی صورت حال میں بہتری لانا نئے وزیر خزانہ کے لیے بڑا چیلینج ہو گا اور یہ ان کو کرنا بھی ہو گا کیوں کہ حکومت پر شدید تنقید ہو رہی ہے۔ مگر معاشی استحکام اسی وقت ممکن ہے جب حکومت 50 فیصد تک خرچے کم کرے، کرپشن پر قابو پائے اور مزید قرضے نہ لے۔ تب تک یہ کسی صورت ممکن نہیں۔‘

اسحاق ڈار پاکستان کے لیے روانہ

لندن میں مسلم لیگ کے رہنما اور سابق وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف اور موجودہ وزیر اعظم پاکستان میاں شہباز شریف کے درمیان دو دفعہ طویل ملاقاتیں ہوئیں جس میں پارٹی کے قائد نواز شریف نے اسحاق ڈار کو وزیراعظم کے ساتھ پاکستان جانے کا مشورہ دیا۔

اسحاق ڈار نے وطن واپسی کے لیے بدھ کی نشت بک کرائی ہوئی تھی مگر اب وہ پیر کے روز وزیراعظم پاکستان کے ہمراہ روانہ ہوں گے۔

اسحاق ڈار پاکستان پہنچ کر سینٹ اور وزیر خزانہ کے عہدوں کے حلف اٹھائیں گے۔ وہ پانچ برس سے لندن میں خودساختہ جلاوطنی کی زندگی بسر کر رہے تھے۔

وزیراعظم پاکستان کے دورہ برطانیہ کے موقعے پر لیگی قیادت نے پاکستان میں حالیہ صورت حال کی روشنی میں فصیلہ کیا گیا کہ اسحاق ڈار کو اب واپس پاکستان جانا چاہیے جس پر فصیلہ کیا گیا کہ اب طور اسحاق ڈار کو بطور وزیر خزانہ خدمات سرانجام دنیے ضروری ہے جس پر اعلیٰ لیگی قیادت کے اجلاس میں مفتاح اسماعیل نے اپنا استعفیٰ پیش کیا تھا۔

’معاشی جادوگر‘ کہلانے والے اسحاق ڈار کو پاکستان میں مہنگائی میں کمی ڈالر کو قابو میں رکھنے اور معیشت کی ترقی کا ٹاسک دیا گیا ہے مگر اب دیکھنا یہ ہے کہ اسحاق ڈار پاکستان میں مہنگائی میں کمی اور ڈالر کو قابو میں لانے کے لیے کیا کردار ادا کریں گے۔

برطانوی پاؤنڈ کی قدر میں تاریخی گراوٹ

اسی دوران عالمی کرنسی مارکیٹ میں پیر کو ڈالر کے مقابلے پر برطانوی پاؤنڈ اپنی تاریخ کی کم ترین شرح پر پہنچ گیا ہے۔

خبررساں ادارے ایسوی ایٹڈ پریس کے مطابق جمعے کے بعد سے برطانوی پاؤنڈ کی قدر میں ڈالر کے مقابلے پر پانچ فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے۔ اس سے قبل برطانیہ نے ٹیکسوں میں پچھلے 50 برسوں میں سب سے زیادہ کمی کا اعلان کیا تھا۔

تازہ ترین گراوٹ نے پاونڈ سٹرلنگ کو سال میں اب تک کی سب سے خراب کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی جی 10 کرنسی بنا دیا ہے۔

کساد بازاری اور توانائی سے جڑے خدشات کے درمیان یورو نے بھی 20 سال کی کم ترین سطح کو چھوا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت