جنوبی وزیرستان: سیاہ شیشوں والی گاڑیوں کی پھر بھرمار

پہلے صرف گڈ طالبان سیاہ شیشوں والی گاڑیوں میں پھرتے نظر آتے تھے لیکن اس دفعہ پولیس اور عام شہریوں نے بھی شیشے سیاہ کر رکھے ہیں۔

21 مارچ، 2004 کو پاکستان کے نیم فوجی دستے جنوبی وزیرستان کے ضلع وانا میں ایک علاقے کو محفوظ بناتے ہوئے ایک بکتر بند گاڑی پر نظر رکھے ہوئے ہیں (اے ایف پی/نور محمد)

افغان سرحد کے ساتھ واقع قبائلی ضلعے جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا گذشتہ دنوں جانے کا ایک اور موقع ملا۔

جنوبی وزیرستان کا علاقہ وانا میرا آبائی گاؤں ہے لیکن خراب حالات کی وجہ سے میں اکثر پشاور میں ہی رہتا ہوں۔

اس مرتبہ زیادہ بارشوں کی وجہ سے وانا کا موسم بہت زیادہ خوش گوار تھا۔

گرمیوں میں ویسے بھی ہر کسی کا دل چاہتا ہے کہ وہ ٹھنڈے علاقے میں رہے اور وہ بھی اپنے بچپن کے دوستوں کے درمیان  تو مزہ دوبالا ہوجاتا ہے۔

تاہم اس دفعہ حالات پہلے کی نسبت بہت زیادہ خوف ناک نظر آرہے تھے۔

پورے علاقے میں تھری اور جی فور جی موبائل سروس مکمل طورپر بند تھی۔

وانا بازار اور قریبی علاقوں میں صرف یوفون بہت زیادہ کمزور سگنلز کے ساتھ کام کر رہا تھا۔

کمزور سگنلز کی وجہ سے کوئی بھی اپنی بات کو مکمل نہیں کرسکتا تھا۔ اس کے علاوہ سیاہ شیشوں والی گاڑیوں کی بھرمار نظر آئی۔

ان مشکوک گاڑیوں سے چند ہی دنوں میں نامعلوم افراد کی جانب سے کئی شہریوں کو نشانہ بنایا گیا۔

یہی نان کسٹم پیڈ اور سیاہ شیشوں والی گاڑیاں جنوبی سے لے کر شمالی وزیرستان تک پھیلی ہوئی تھیں۔

شمالی اور جنوبی دونوں وزیرستانوں میں نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی استعمال کی سرکاری طور پر اجازت ہے۔ 

ان کو نہ صرف شدت پسند طالبان بلکہ عام لوگ اپنے ذاتی استعمال کے ساتھ ساتھ مزدوری کے لیے نجی ٹرانسپورٹ کے طور پر بھی استعمال کرتے ہیں۔

اس سے پہلے صرف گڈ طالبان سیاہ شیشوں والی گاڑیوں میں پھرتے نظر آتے تھے لیکن اس دفعہ پولیس اور عام شہریوں نے بھی شیشے سیاہ کر رکھے تھے۔

ڈپٹی کمشنر امجد معراج نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ وزیرستان میں امن وامان برقرار رکھنے کے لیے قومی امن کمیٹی کی ضرورت ہے اور 2007 امن معاہدے کو دوبارہ یقینی بنانا ہوگا۔

ڈپٹی کمشنر کے مطابق 2007 کے امن معاہدے کے تحت علاقے میں سازشی عناصر کی نشاندہی میں آسانی ہو، کمیٹی غیر مسلح ہوگی اور حکومت کے ماتحت کام کرے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ شہریوں کی بہتر ذمہ داری کے لیے ضروری ہے کیوں کہ قبائلی مشیران کے تعاون کے بغیر امن و امان برقرار رکھنا مکمن نہیں۔

امجد معراج کے مطابق پولیس کو سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ وہ سیاہ شیشوں والی گاڑیوں کے خلاف کارروائی کرے۔

انہوں نے کہا کہ عوام اور عسکری ادارے ایک ساتھ کھڑے ہیں اور اس کی بدولت علاقے میں امن قائم ہوگا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دوسری جانب معروف مقامی شخصیت ملک انور نے بتایا کہ عوام کسی بھی صورت میں 2007 معاہدے کے لیے تیار نہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اس معاہدے کے تحت اس وقت جو لوگ لشکر یا امن کمیٹی کا حصہ بنے ان کو نامعلوم افراد کے ہاتھوں ایک ایک کرکے گولیوں کا نشانہ بنایا گیا لیکن حکومت نے ان کی قربانیوں کو کوئی اہمیت نہیں دی۔

ان کا کہنا تھا کہ اب عوام میں شعور آگیا ہے اور لوگ جانتے ہیں کہ امن کی ذمہ داری سکیورٹی فورسز اور پولیس کی ہے۔

ملک انور نے بتایا کہ البتہ اگر حکومت امن و امان برقرار رکھنے میں دلچسپی رکھتے ہے تو عوام پولیس کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے، لیکن امن کمیٹی اور لشکر بنانے کے لیے کسی بھی صورت میں تیار نہیں۔

انہوں نے بتایا کہ افغان سرحد کے قریب شدت پسند اعظم ورسک کے علاقے میں رات کے وقت سکیورٹی فورسز اور پولیس کی چوکیوں کو بھاری اسلحے سے نشانہ بنا رہے ہیں جس کی وجہ سے بدامنی پھیلی ہوئی ہے اور علاقے میں خوف پایا جاتا ہے۔

دوسری طرف شدت پسند دن کے وقت کھلے عام پھرتے نظر آتے ہیں۔

ایک عرصے سے شمالی اور جنوبی وزیرستان میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی موجودگی اور ان کے خلاف غیراعلانیہ کارروائیوں کے بعد سے پورے علاقے میں بدامنی پھیلی ہوئی ہے جس کے خلاف علاقے میں امن وامان برقرار رکھنے کے لیے نہ صرف احتجاجی مظاہرے ہوئے بلکہ سکیورٹی فورسز کے اعلیٰ اہکاروں اور مقامی انتظامیہ سے کئی بار جرگے بھی ہوئے لیکن یہ ملاقاتیں نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوئیں۔

حکومت کا موقف ہے کہ قومی امن کمیٹیوں سے امن قائم ہوگا جبکہ لوگوں کا کہنا ہے کہ امن کمیٹیاں غیرفعال ہیں اور یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ پائیدار قیام امن کے لیے اقدامات اٹھائے۔

ادھر کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے تنظیم میں اہم عہدوں پر نئی تقرریوں کا اعلان کیا ہے۔

یہ اعلان گذشتہ شب ٹی ٹی پی کے ترجمان محمد خراسانی نے ٹوئٹر پر کیا۔ ان کے جاری بیان میں کہا گیا کہ پشاور، ملاکنڈ، مردان، کوہاٹ، بنوں اور ڈی آئی خان ڈویژنز کو ولایات کا نام دے کر اس کے لیے گورنر، ڈپٹی گورنر اور استخبارات یا انٹیلیجنس کے لیے ذمہ دار لگائے گئے ہیں۔

اس کے علاوہ شمالی و جنوبی زونز کے نظامی یا ملٹری کمیشنز کے لیے بھی تقرریاں ہوئی ہیںـ

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان