درگاہ لواری شریف: گدی نشینی پر قتل کے 15 ملزمان 39 سال بعد بری

جسٹس عمر سیال نے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے ریمارکس دیے کہ کیس کا ریکارڈ غیر ضروری طور پر طویل بنایا گیا۔ کیس میں غیر ضروری طور پر بار بار طویل جرح کی گئی۔

تنازعے کے بعد 37 سال تک مکمل طور پر بند رہنے  کے بعد 2020 میں جب درگاہ کو کھولا گیا تو عقیدت مند لمبی قطاریں بناکر اس کی زیارت کو آئے (درگاہ لواری شریف فیس بک گروپ)

سندھ ہائی کورٹ نے بدھ کو ضلع بدین کی درگاہ لواری شریف کی گدی نشینی کے تنازع کے دوران 1983 میں سات افراد کے قتل میں نامزد کل 32 میں سے زندہ بچ جانے والے 15 ملزمان کو بری کر دیا ہے۔

کیس کے وکیل محمود اے قریشی ایڈووکیٹ کے مطابق تنازعے کے دوران قتل ہونے والے سات اور زخمی ہونے والے تین افراد کے مقدمے میں کل 32 افراد کو بطور ملزم نامزد کیا گیا تھا۔

انڈپینڈنٹ اردو کو ملنے والے عدالتی حکم نامے کی نقل کے مطابق 1983 میں درگاہ لواری شریف کے گدی نشین پیر گل حسن کے انتقال کے بعد دو گروہوں میں تناؤ پیدا ہوگیا تھا۔

مقدمے کے ملزمان کا گروہ پیر فیض محمد کو گدی نیشن بنانا چاہتا تھا جبکہ مقدمے کا مدعی گروپ اس کا مخالف تھا۔

28 جنوری 1983 کی دوپہر دو بجے ہونے والے ایک حملے میں مدعی گروپ کے سات افراد قتل اور تین زخمی ہوگئے تھے۔ واقعے کا مقدمہ بدین تھانے میں دائر کیا گیا تھا۔ تحریری فیصلے کے مطابق مقدمہ 17 سال ٹرائل کورٹ میں زیر سماعت رہا۔

عدالتی فیصلے کے مطابق مقدمے کے ملزم گروپ کے 32 افراد کو کیس میں نامزد کیا گیا تھا۔ مقدمے میں نامزد 32 افراد میں سے دو مفرور تھے جبکہ دو ملزمان کو مقدمے کے دوران بری کردیا گیا تھا۔ تین ملزمان سماعت شروع ہونے سے پہلے انتقال کرگئے تھے جبکہ آٹھ ملزمان سماعت کے دوران انتقال کرگئے۔ باقی 17 افراد کو سزا ہوگئی تھی۔ سزا کے دوران دو ملزمان کا انتقال ہوگیا۔ کچھ عرصے بعد باقی 15 ملزمان نے ضمانت لے کر سزا کے خلاف اپیل دائر کی تھی۔

ملزمان کی اپیل پر فیصلہ آتے آتے مزید 22 سال لگ گئے۔ آخرکار 39 سال کے بعد بدھ کو مقدمے کا حتمی فیصلہ سنا دیا گیا۔

جسٹس عمر سیال نے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے ریمارکس دیے کہ کیس کا ریکارڈ غیر ضروری طور پر طویل بنایا گیا۔ کیس میں غیر ضروری طور پر بار بار طویل جرح کی گئی۔ اپیل کنندہ میں سے کوئی بھی شواہد کی روشنی میں سات افراد کے قتل میں ملوث نہیں پایا گیا اور پراسکیوشن ملزمان کے خلاف کیس ثابت کرنے میں ناکام رہی ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے محمود اے قریشی ایڈووکیٹ نے فیصلے پر خوشی کا ظہار کرتے ہوئے کہا عدالتی نظام کے تحت یہ کیس 26 سال ہائی کورٹ میں چلتا رہا اور ملزمان 26 سال تک مسلسل پیشیوں پر آتے رہے۔

محمود اے قریشی ایڈووکیٹ کے مطابق: ’اس طرح اتنے سالوں تک بار بار آنا تو اصل سزا سے بھی زیادہ سزا ہوگئی۔ مگر خوشی ہے کہ آخرکار اس کیس کا فیصلہ ہوگیا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

1983 میں ہونے والے تنازعے کے بعد صوبہ سندھ کی انتہائی اہم روحانی درگاہوں میں سے ایک ’لاڑ‘ میں واقع یہ قدیمی درگاہ 37 سال تک مکمل طور پر بند رہی۔

اس دوران دونوں مخالف گروہوں بشمول پیر فیض محمد کے حامیوں کے گروپ اے اور پیر گل حسن کے حامیوں کے گروپ بی میں مسلسل تناؤ رہا۔

دو سال قبل جنوری 2020 میں درگاہ کو 37 سال کے بعد زائرین کے لیے کھولا گیا۔ اس وقت کرونا وائرس کی پابندیوں کے باوجود بڑی تعداد میں عقیدت مند درگاہ پہنچے تھے۔

ضلع بدین میں واقع یہ درگاہ روحانیت کے مشہور سلسلے نقش بندیہ سے تعلق رکھنے والے سلطان اولیا خواجہ محمد زمان لواری شریف کی ہے۔

جنوبی سندھ کے اضلاع ٹھٹھہ، بدین، سجاول اور ٹنڈو محمد خان کا شمار زیریں سندھ میں ہوتا ہے جسے اس نسبت سے لاڑ پکارا جاتا ہے۔ درگاہ لواری شریف کے نام سے مشہور یہ درگاہ بدین شہر سے تقریباً 12 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع لواری شریف شہر میں واقع ہے۔

بدین شہر سے تعلق رکھنے والے صحافی ہارون گوپانگ کے مطابق: ’کچھ لوگوں نے افواہیں پھیلائیں کہ اس درگاہ پر عقیدت مند حج ادا کرتے ہیں ایسے الزامات کے بعد ہر سال نو اور 10 ذوالحج کو لواری شریف میں کرفیو لگایا جاتا ہے اور کسی بھی فرد کو ان دو دنوں کے دوران شہر میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوتی اور یہ کرفیو کے نفاذ کا سلسلہ اب بھی جاری رہتا ہے۔‘

کرفیو کے دوران لواری شریف شہر کی دیگر درگاہوں کو بھی سیل کر دیا جاتا ہے اور وہاں کسی کو نماز بھی ادا کرنے کی اجازت نہیں ہوتی۔

کراچی کے صحافی صلاح الدین عباسی کے مطابق جو خود اس درگاہ کے مُرید ہیں، درگاہ لواری شریف کے مرید نہ صرف سندھ میں ہیں بلکہ بلوچستان، سرائیکی پٹی اور بھارت میں بھی ان کی بہت بڑی تعداد آباد ہے۔

اس کے علاوہ لواری شریف کے مریدوں میں نہ صرف مسلمان بلکہ ہندو اور دیگر مذاہب کے افراد بھی شامل ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان