حملے کے 10 سال: ’پھر ملالہ کے آنسو نکل آئے‘

یہ 2009 کا اوائل تھا جب کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے اس وقت کے سربراہ ملا فضل اللہ نے سوات میں لڑکیوں کی تعلیم اور سکول بند کرنے کا حکم دیا تھا۔

’صبح فجر سے پہلے میں ملالہ کے گھر کے باہر کھڑا تھا۔ ان کے والد ضیاالدین یوسفزئی دروازہ نہیں کھول رہے تھے لیکن میں نے اصرار کیا کہ باہر خطرہ ہے۔ طالبان بھی گھوم رہے ہیں اور تین چار منٹ کی دوری پر خونی چوک بھی ہے۔‘

یہ کہنا تھا پشاور یونیورسٹی کے شعبہ صحافت کے پروفیسر سید عرفان اشرف کا جو سوات میں شدت پسندی کی کوریج کرنے والے ان صحافیوں میں شامل تھے جنہوں نے ملالہ پر حملے سے قبل، پہلی مرتبہ بین الاقوامی  اخبار نیو یارک ٹائمز کے لیے ڈاکیومینٹری بنائی تھی۔

یہ 2009 کا اوائل تھا جب کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے اس وقت کے سربراہ ملا فضل اللہ نے سوات میں لڑکیوں کی تعلیم اور سکول بند کرنے کا حکم دیا تھا۔

عرفان اشرف اس سے پہلے تقریباً تین سال یعنی 2006 سے اس وقت ڈان نیوز جو انگریزی زبان میں تھا اور بعد میں اردو میں نشریات شروع کیں، کے ساتھ بطور رپورٹر وابستہ تھے اور سوات کی کوریج کرتے تھے۔

عرفان اشرف نے انڈپینڈنٹ اردو سے پہلی مرتبہ نیو یارک ٹائمز کے لیے نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی پر بنائی گئی ڈاکیومینٹری کے حوالے سے مفصل گفتگو کی ہے۔

آج ملالہ یوسفزئی پر 2012 میں حملے کے 10 سال پورے ہوگئے ہیں۔ ملالہ یوسفزئی پر حملے کی ذمہ داری اس وقت تحریک طالبان پاکستان نے قبول کی تھی۔

 ان پر حملہ اس وقت کیا گیا تھا جب وہ سکول سے واپس گھر جا رہی تھیں لیکن حملے میں محفوظ رہیں اور بعد میں ان کو علاج کے لیے لندن شفٹ کیا گیا۔

عرفان اشرف کے مطابق ملالہ یوسفزئی پر حملے کا ایک سبب نیو یارک ٹائمز کی یہی ڈاکیومینٹری اور ملالہ کی اس وقت کی کوریج تھی۔

 ڈاکیومینٹری کا خیال کیسے آیا؟

عرفان اشرف نے انڈپینڈںٹ اردو کو بتایا کہ ابتدا میں جب شدت پسندی کی لہر سوات تک پھیل گئی، تو وہ سوات جا کر اس وقت ٹی ٹی پی کے سربراہ ملا فضل اللہ سے ملتے رہے تھے تاکہ ان کا موقف لے سکیں کہ آخر ہو کیا رہا ہے۔

وہ بتاتے ہیں کہ ’اس وقت ٹی ٹی پی نے اتنا تشدد شروع نہیں کیا تھا اور میں اس ساری صورت حال پر ان سے بات چیت کے لیے ان کے مدرسے میں جاتا تھا لیکن اس کے ساتھ ساتھ میں شدت پسندی کے خلاف آواز اٹھانے والے پروگریسیو لوگوں کے ساتھ بھی ملتا تھا تاکہ خبر کو بیلنس کر سکوں جس میں ملالہ کے والد ضیاالدین یوسفزئی بھی شامل تھے۔‘

اس کے بعد آخر کار ایک دن ایسا بھی آیا کہ ٹی ٹی پی نے ریڈیو پر اعلان کیا کہ فلاں تاریخ سے لڑکیوں کے سکول بند کیے جائیں گے اور کسی لڑکی کو سکول جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔

عرفان اشرف نے بتایا کہ ’چونکہ میں سوات کی کوریج کرتا تھا تو میرے ذہن میں خیال آیا کہ کیوں نہ خواتین کی تعلیم پر ایک رپورٹ بنائی جائے کیونکہ ٹی ٹی پی کا مقصد بھی یہی تھا کہ خواتین کی تعلیم پر پابندی سے بین الاقوامی سطح پر اس کے ایجنڈے کو تقویت ملے گی۔‘

اسی دوران عرفان اشرف کے مطابق انہیں نیویارک ٹائمز کی جانب سے آغاز میں بطور فِکسر (صحافت میں فکسر کی اصطلاح اس شخص کے لیے استعمال کی جاتی جو کسی مقامی رپورٹ بنانے کے لیے کسی بین الاقوامی ادارے کے رپورٹر کے ساتھ بطور معاون کام کرے) کام کرنے کی آفر کی گئی جو میں نے قبول کی اور نیویارک ٹائمز کے ایک معروف رپورٹر ایڈم ایلیک اسلام آباد آئے اور میں نے ملاقات میں ان سے تعلیم پر رپورٹ بنانے کا آئڈیا دے دیا۔

’ایلیک کو آئیڈیا پسند آگیا لیکن انہوں نے مجھے کہا کہ اس میں کریکٹر کون ہوگا، اور تب ہی میں نے ان کو ملالہ اور ضیاالدین سے متعارف کروایا اور ہم نے ڈاکومینٹری کے لیے پورا پلان بنا دیا۔‘

 ڈاکیومینٹری کو شوٹ کرنے کے لیے عرفان اشرف ایک مقامی کیمرہ مین کے ساتھ رات کو سوات کے لیے نکل گئے اور اگلی ہی صبح سے لڑکیوں کے تمام سکول بند کرنے کا حکم ٹی ٹی پی کی جانب سے دیا گیا تھا۔

عرفان نے بتایا کہ ’ہم تقریباً فجر سے کچھ وقت پہلے ضیا الدین کے گھر پہنچ گئے۔ میں نے دروازہ کھٹکھٹایا لیکن ضیاالدین نے مجھے اندر جانے نہیں دیا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

عرفان کے مطابق انہوں نے ضیاالدین کو بتایا کہ اس وقت ہمیں بہت خطرہ ہے کیونکہ ہمارے پاس کیمرہ بھی ہے اور طالبان آس پاس گھوم رہے ہیں جبکہ خونی چوک جہاں پر ’ہر صبح ٹی ٹی پی کسی نہ کسی کو ذبح کر کے لٹکاتے تھے، بھی چند منٹ کے فاصلے پر ہے‘۔

’اس کے بعد ضیاالدین نے مہربانی کر کے دروازہ کھول دیا اور ہمیں ڈاکیومینٹری شوٹ کرنے کی اجازت دی۔ تقریباً تین گھنٹے تک ہم ملالہ کے گھر میں فوٹیج بنا رہے تھے اور کچھ شاٹس ایسے بھی تھے کہ ہم نے اس کو 18،18 مرتبہ شوٹ کیا۔‘

اب اس کے بعد عرفان کے مطابق ضیاالدین کا خیال تھا کہ بس کام ختم ہوگیا، لیکن میں نے ان کو بتایا کہ ابھی ہمیں ملالہ کے سکول میں جا کر کچھ ویڈیوز بنانی ہیں جس پر ’ضیاالدین نے بتایا کہ سکول تو کل سے بند ہو رہے ہیں اور بچے صرف ایک دوسرے سے ملنے کے لیے جائیں گے۔‘

عرفان نے بتایا کہ ’میں نے ضیاالدین سے کہا کہ ہم بس یہی لمحات کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کرنا چاہتے ہیں اور پھر ان کے ساتھ ہم ان کے سکول میں گئے جہاں پر ویڈیو بنانا شروع کی۔‘

’جب ویڈیو بنانے میں وقت زیادہ لگا تو ضیاالدین نے ہم سے کہا کہ اب بس کرو کیونکہ یہ ہمارے لیے خطرہ ہے لیکن اسی وقت ان کو کال آگئی کہ پرائیویٹ سکول ایسوسی ایشن کی میٹنگ ہے اور آپ وہاں آجائیں تاکہ سکول بندش کے بعد کے لائحہ عمل پر بات کی جا سکے۔‘

انھوں نے بتایا کہ ’ضیاالدین جب نکل گئے تو ہمیں شوٹ کا مزید موقع مل گیا۔ یہ ایک کام میں سمجھتا ہوں کہ صحافتی اصولوں کے خلاف ہم نے کیا تھا کیونکہ ہمیں اجازت تو تھی سکول میں شوٹ کی تاہم ضیاالدین کے جانے کے بعد ان کو یہ پتہ نہیں تھا کہ ہم مزید ایک گھنٹہ تک سکول میں شوٹنگ کر رہے ہیں۔‘

 اب ڈاکیومینٹری کی شوٹ سکول میں مکمل ہوگئی تو عرفان کے مطابق اس کے بعد انہوں نے فوٹیج وغیرہ اسلام آباد جا کر نیویارک ٹائمز کی ٹیم کے حوالے کر دی اور فوٹیج دیکھنے کے بعد ایڈم ایلیک بہت خوش ہوئے۔

’اسی دوران ایڈم نے مجھے بتایا کہ فکسر کے بجائے وہ ڈاکیومینٹری میں ان کے ساتھ بطور کو پروڈیوسر کام کریں اور یوں میں نے ایسا ہی کیا۔‘

عرفان کے مطابق اس کے بعد ایڈم نے ’مجھ سے کہا کہ کیوں نہ ملالہ اور ضیاالدین کو اسلام آباد بلایا جائے اور ان کے یہاں پر بھی کچھ انٹرویوز کیے جائیں تو ہم نے ایسا ہی کیا۔‘

ان کے مطابق ’جب ملالہ اسلام آباد آئیں میں پہلے سکول کے بارے میں سوالات کرتا رہا، پھر میں نے ملالہ سے پوچھا کہ اگر طالبان آپ کے گھر میں آکر آپ کے والد کو کچھ کہیں تو آپ کیا کریں گی؟ اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میں والد کو الماری میں چھپاؤں گی تاکہ طالبان ان کو نہ دیکھ سکیں۔‘

عرفان کہتے ہیں کہ ’پھر میں نے پوچھا کہ اگر الماری کھول کر طالبان نے والد کو نکال دیا اور یہی وہ سوال تھا جس پر ملالہ کی آنکھوں سے آنسو ٹپکنا شروع ہوگئے۔‘

 انہوں نے بتایا کہ یہ نیویارک ٹائمز کا ایک پسندیدہ شاٹ تھا اور بعد میں اس ڈاکیومینٹری کو پولیٹزر ایوارڈ بھی ملا۔ اس وقت شاید یہ لمحہ میرے لیے بھی اچھا تھا لیکن بعد میں یہ میرے لیے ہہت بھاری ثابت ہوا۔‘

 کیا ڈاکیومینٹری ملالہ پر حملے کا سبب بنی؟

 ملالہ پر حملے سے پہلے جب سوات میں حالات خراب تھے، تو وہ گل مکئی کے نام سے بی بی سی اردو کے لیے ڈائری لکھتی تھیں جبکہ اسی دوران نیور یارک ٹائمز کی ڈاکیومینٹری بھی بنی تھی۔

عرفان اشرف نے بتایا کہ بی بی سی ادو کی ڈائریز نے مقامی سطح پر ملالہ کو پذیرائی دی تو نیوریارک ٹائمز کی ڈاکیومینٹری سے ملالہ بین الاقوامی سطح پر جانی جانے لگیں اور میں سمجھتا ہوں کہ اس کا خصوصی طور پر ملالہ پر حملے میں بڑا کردار تھا۔

’میڈیا نے مجموعی طور پر اس حملے میں کردار ادا کیا تھا کیونکہ ابتدا میں جو بیانیہ ملالہ لے کر آئی تھیں، وہ طالبان مخالف بیانیہ نہیں تھا بلکہ لڑکیوں کی تعلیم کے حوالے سے تھا لیکن بعد میں میڈیا نے ملالہ کے بیانیے کو تبدیل کر کے طالبان مخالف کر دیا۔‘

انہوں نے بتایا کہ اس کے بعد میں میڈیا کے اس بیانیے سے پیچھے ہٹ گیا کیونکہ ’ہم بھی جب یہ ڈاکیومینٹری بنا رہے تھے تو یہ طالبان کے خلاف نہیں تھی بلکہ ہم لڑکیوں کی تعلیم کے مسئلے کو اجاگر کرنا چاہتے تھے لیکن بعد میں یہ ڈاکیومینٹری بھی ایسے ایڈیٹ کی گئی، کہ میں سمجھتا ہوں کہ میں نے جو آئیڈیا دیا تھا، اس سے مطابقت نہیں رکھتی تھی۔‘

’ہم نے ڈاکیومینٹری طالبان مخالف بیانیے کو سامنے رکھتے ہوئے نہیں بنائی بلکہ تعلیم کی اہمیت اور خواتین کے تعلیم کی حقوق پر بنائی تھی۔‘

ملالہ پر عرفان اشرف نے مختلف تحقیقی مکالے بھی لکھے ہیں، اور ملالہ پر ڈاکیومینٹری بنانے میں بطور فکسر انہوں نے اپنی کتاب ’دی ڈارک سائڈ آف نیوز فکسنگ‘ میں ذکر بھی کیا ہے اور اس میں انہوں اس موضوع پر تفصیلی چیپٹر بھی لکھا ہے کہ کس طرح نا تجربہ کاری کی وجہ سے ڈاکیومینٹری بنانے کے لیے انہوں نے اپنے سورس (ملالہ اور ان کے والد) کو خطرے میں ڈال دیا تھا۔

نوٹ: اس سٹوری کے لیے نیویارک ٹائمز سے موقف لینے کے لیے رابطہ کیا گیا ہے۔ اخبار کا جواب موصول ہونے پر اسے اس سٹوری میں شامل کر لیا جائے گا۔

زیادہ پڑھی جانے والی میری کہانی