’ارشد کو کہا سیاسی پناہ لیں، انہوں نے کہا پاکستان میرا ملک ہے‘

ارشد شریف کی اہلیہ نے بتایا کہ ’دبئی میں ان کا ویزا ختم ہو گیا تھا اور پاکستان وہ دھمکیوں کی وجہ سے آ نہیں سکتے تھے لہذا انہوں نے افریقی ملک کا انتخاب کیا۔‘

ارشد شریف کی اہلیہ کے مطابق انہیں یہ معلوم نہیں تھا کہ ارشد کینیا میں ہیں (ارشد شریف فیس بک پیج)

معروف پاکستانی صحافی اور اینکر ارشد شریف کے کینیا میں قتل کے بعد ان کے دوست احباب صدمے سے دوچار ہیں۔ ان کی اہلیہ جویریہ صدیق کا کہنا ہے کہ رواں برس 10 اگست کو وہ پاکستان سے دبئی روانہ ہوئے تھے۔ گذشتہ ایک ماہ سے ویزا ختم ہونے کے باعث وہ کینیا میں قیام پذیر تھے۔

ارشد شریف کے اہل خانہ اس وقت شدید صدمے میں ہیں۔ ان کے گھر میں افسوس کرنے والوں کا تانتا بندھا ہے۔ ارشد شریف کی اہلیہ جویریہ صدیق نے بتایا کہ ’میری ارشد سے آخری بات اتوار کی رات 10 بجے ہوئی تھی۔ اس کے بعد میسج کرنے پر بھی ان کے جواب نہیں آئے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’میں نے سوچا وہ کام میں مصروف ہوں گے۔ کچھ دیر بعد ان کا نمبر بھی بند ہو گیا لیکن رات دو بجے نیروبی میں ان کے دوست کی کال آئی کہ ان کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے۔ پھر کچھ دیر بتایا گیا کہ سر پہ گولی لگی ہے اور وہ قتل کر دیے گئے۔‘

صدمے سے دو چار ان کی اہلیہ ہمت کی تصویر بنی بیٹھی تھیں۔ وہ بتا رہی تھیں کہ ’پچھلے چھ ماہ سے ارشد کو دھمکیاں مل رہی تھیں جس کی وجہ سے انہوں نے ملک چھوڑنے کا فیصلہ کیا، اور جب ارشد سے کہا کہ آپ اسائلم (سیاسی پناہ) کے لیے درخواست دیں تو انہوں نے کہا کہ میرا ملک پاکستان ہے میرا جینا مرنا وہیں پہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کہا کہ وہ کچھ دن تک پاکستان آجائیں گے۔‘

اہلیہ نے کہا کہ ’اب وہ واپس آ تو رہے ہیں لیکن کفن میں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’چھ ماہ پہلے طالبان نے قتل کی دھمکیاں دیں، ہمیں کے پی کے حکومت نے بتایا جس کے بعد ارشد دبئی چلے گئے تھے۔ انہوں نے کہا ہماری طالبان کے ساتھ کیا دشمنی ہے؟ ارشد کو دبئی میں خطرہ تھا، ان کے قاتلوں نے وہاں بھی پیچھا کیا۔ یہ کوئی حادثہ نہیں بلکہ ٹارگٹڈ قتل ہے اور اس کا ارشد کو علم تھا کہ ان کی جان کو خطرہ ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ ’دبئی میں ان کا ویزا ختم ہو گیا اور پاکستان وہ دھمکیوں کی وجہ واپس آ نہیں سکتے تھے اس لیے ویزا دوبارہ لینے کے لیے انہوں نے افریقی ملک کا انتخاب کیا جہاں ان کا دوست موجود تھا جس نے ان کی میزبانی کی اور سانحے کی رات وہ دوست کے فارم ہاؤس کی جانب جا رہے تھے۔‘

جویریہ نے کہا کہ ’کل تک ہمیں علم نہیں تھا کہ وہ کینیا میں ہیں ہمیں صرف یہ علم تھا کہ وہ کسی افریقی ملک میں ہیں۔ سکیورٹی خدشات کی وجہ سے انہوں نے ملک کا نام نہیں بتایا تھا۔‘

وہ اپنے شوہر ارشد شریف کی باتیں کرتی رہیں اور سامنے میز پر ارشد کی تصویر رکھی ہوئی تھی جس پر وہ اپنی انگلیاں پھیرتے ہوئے تمام باتوں کو یاد کر رہی تھیں۔ آنسو گالوں سے بہہ کر تصویر کی فریم پر گر رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ ’ارشد ایک ذمہ دار انسان تھے، ذمہ دار شوہر، بیٹے اور باپ تھے۔ ابھی پچھلے ہفتے تک وہ اپنے اہل خانہ کی مالی ذمہ داریاں ادا کر رہے تھے۔ انہوں نے کبھی کسی چیز میں کوتاہی نہیں کی۔ میرا تو شوہر اور دوست دونوں بچھڑ گئے ہیں۔‘

ارشد شریف کی اہلیہ نے کہا کہ ’آج تک کس کو ملا انصاف ہے؟ اگر ملتا بھی ہے تو جو دنیا سے چلا گیا وہ واپس کیسے آئے گا؟‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ارشد شریف کی والدہ کے گھر جہاں ان کی پہلی اہلیہ اور بچے بھی موجود تھے وہاں میڈیا اور افسوس کرنے والے والوں کا تانتا بندھا ہوا تھا۔ ارشد کی والدہ 70 سالہ خاتون ہیں جو پہلے خاوند اور چھوٹے بیٹے کو 11 سال قبل کھو چکی ہیں اور اب انہیں دوسرے بیٹے کا صدمہ دیکھنا پڑا ہے۔

سیاسی شخصات بشمول شیخ رشید اور عمران خان ارشد شریف کے گھر افسوس کرنے گئے تھے۔ ارشد شریف کی والدہ نے کہا کہ ’گواہ رہنا میرے بچے اس ملک پر قربان ہو گئے۔‘

دوست احباب کے تاثرات

ارشد شریف کے ساتھی کارکن اظہر فاروق نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’مرحوم ارشد شریف کے ساتھ میرا تعلق اور دوستی تقریباً 22 سال پر محیط ہے ہم نے 2000 میں آن لائن نیوز ایجنسی میں اکٹھے کام کیا۔‘

انہوں نے کہا کہ پھر ہماری راہیں جدا ہوئی لیکن کچھ برسوں بعد ہم اے آر وائی میں دوبارہ اکٹھے ہوئے اور یہاں ہم نے آٹھ سال گزارے۔

انہوں نے کہا کہ ’ارشد شریف عاجز انکسار دوستوں کے دوست تھے۔ اکثر ایشوز پر ان سے بحث بھی ہو تی تھی مگر حقیقت ہے وہ ایک با صلاحیت تحقیق ہر مبنی خبریں اور شو کرنے والی شخصیت تھے۔ ان کے جانے کا بہت دکھ اور افسوس ہے جس کے لیے الفاظ نہیں یہ 22 سالہ رفاقت بد قسمتی سے اپنے انجام کو پہنچی۔ یہ خلا کبھی پر نہیں ہو گا۔‘

صحافی بشیر چوہدری کہتے ہیں کہ ارشد شریف کی ٹیم میں کام کرتے ہوئے انہوں نے ’کسی ایک دن بھی کسی خبر پر بھی ایک لمحے کے لیے اپنے رپورٹرز اور اپنی ٹیم تک دباؤ نہیں آنے دیا۔ کسی نے چھٹی مانگی تو بنا سوچے سمجھے سائن کر دیے۔ کھانے کی بات ہوئی تو فوراً میزبانی کے لیے تیار رہتے تھے۔‘

صحافی عیسی نقوی نے انڈپینڈنٹ اردو کو اپنے تاثرات بتاتے ہوئے کہا کہ ’ارشد شریف دوست بھی تھے اور باس بھی رہے۔ ابھی 2005 میں صحافت کا آغاز ہی کیا تھا کہ ارشد سے دوستی ہوئی۔ نہایت پیشہ ور صحافی جو نہ خبر پر سمجھوتہ کرتا تھا نہ اصولوں پر۔ 2010 میں برمنگھم میں ایک ایونٹ کے دوران منتظمین سے بدمزگی پر ارشد نے جیسے میرا دفاع کیا وہ مناظر آج بھی ذہن میں گھوم رہے ہیں۔‘

انہوں بتایا کہ ’دنیا ٹی وی کے دور میں 2014 میں جب چینی صدر کا دورہ پاکستان ملتوی ہونے کی خبر دی تو چینل نے کہا کہ یہ بہت بڑی خبر ہے، آفیشل کمنٹ کے بغیر دوست ملک سے متعلق اتنی بڑی خبر نہیں چلانی چاہیے۔

’معاملہ اتنا حساس تھا کہ کوئی اہلکار آن دی ریکارڈ تبصرہ نہیں کررہا تھا۔ معاملہ بیوروچیف ارشد شریف کے سامنے رکھا۔ ارشد نے کہا عیسی خبر پکی ہے نا؟ میں نے کہا ہزار فیصد۔۔ پھر ارشد کے ایک فون کے تین منٹ بعد خبر بریکنگ کے طور پر دنیا ٹی وی کی اسکرین پر تھی۔ سنانے کو بے شمار واقعات ہیں، الفاظ مکمل ساتھ نہیں دے رہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان