جب زینت امان ایک کردار کے حصول کے لیے بے تاب ہوگئیں

راج کپور نے پہلے سوچا کہ فلم ’ستیم شیوم سندرم‘ میں ڈمپل کپاڈیہ کوہیروئن بنایا جائے لیکن پھر خود ہی ان کا نام یہ سوچ کر خارج کردیا کہ ’بوبی‘ میں ایک ماڈرن لڑکی کے بعد اس مشرقی کردار میں فلم بین ڈمپل کپاڈیہ کو قبول نہیں کریں گے۔

انڈین فلم ستیم شیوم سندرم میں اداکارہ زینت امان کا روپ (آر کے فلمز)

زینت امان کے علم میں یہ بات آئی تھی کہ شومین راج کپور ایک فلم ’ستیم شیوم سندرم‘ بنانے کی تیاری کررہے ہیں۔ خواہش تو ان کے من میں یہی کھلبلی مچارہی تھی کہ کاش انہیں یہ کردار مل جائے لیکن وہ یہ بات جانتی تھیں کہ راج کپور کی فلم کی ہیروئن بننا کوئی آسان نہیں۔

وہ صرف خوبصورتی اور دل کشی ہی نہیں بلکہ رقص، انداز گفتگو اور یہاں تک کہ حلیے تک کا بغور جائزہ لیتے ہیں۔ اب یہ بات بھی نہیں تھی کہ زینت امان کوئی اوسط درجے کی اداکارہ تھیں۔

1977 کے آتے آتے ان کے نام کے ساتھ ’روٹی کپڑا اور مکان‘، ’دھرم ویر‘ اور ’ہم کسی سے کم نہیں‘ جیسی کھڑکی توڑ کامیاب فلمیں جڑ چکی تھیں مگر وہ چاہتی تھیں کہ راج کپور کی ’ستیم شیوم سندرم‘ کی غیر معمولی کردار والی ہیروئن بن کر خود کو دیگر اداکاراؤں سے دو قدم آگے کرلیں۔

راج کپور نے فلمی جریدے کو انٹرویو دیتے ہوئے برملا کہا تھا کہ وہ یہ فلم سروں کی ملکہ لتا منگیشکر سے متاثر ہو کر بنا رہے ہیں۔ اب یہ راج کپور کی خواہش تھی جس کو لتا منگیشکر نے اس لیے بھی اپنے لیے تذلیل کا باعث سمجھا کیوں کہ اگلے ہی لمحے راج کپور نے یہ کہہ کر گلوکارہ کی انا پر چوٹ ماری کہ فلم کی ہیروئن کی آواز تو سریلی اور کوئل کی کوک کی طرح ہے لیکن وہ شکل و صورت سے واجبی ہے۔

یہاں تک کہ اس کے دائیں طرف کا چہرہ بدنما داغ سے بھرا تھا اور یہ بچپن میں ہونے والے ایک حادثے کی بنا پر ہوتا ہے، جس کے بعد ہر کوئی اس لڑکی کو منحوس تصور کرنے لگتا ہے۔

لتا منگیشکر کے پاس جب سب سے پہلے یہ پیش کش آئی تو انہوں نے صاف انکار کر دیا۔ ممکن ہے وہ حامی بھرلیتیں۔ اگر وہ راج کپور کی واجبی شکل و صورت والی بات کو نظر انداز کردیتیں یا پھر یہ ان کے علم میں نہیں ہوتا۔

ادھر راج کپور اس بات سے انجان تھے کہ لتا منگیشکر نے کس بنا پر معذرت کی ہے۔ بہرحال وہ کسی ایک مقام پر رکنے والے تو تھے نہیں اسی لیے انہوں نے اب اداکارہ کی تلاش شروع کردی۔

راج کپور نے پہلے سوچا کہ ڈمپل کپاڈیہ کوہیروئن بنایا جائے لیکن پھر خود ہی ان کا نام یہ سوچ کر خارج کردیا کہ ’بوبی‘ میں ایک ماڈرن لڑکی کے بعد اس مشرقی کردار میں فلم بین ڈمپل کپاڈیہ کو قبول نہیں کریں گے۔

بات پہنچی رینا رائے، ودیا سنہا اور ہیما مالنی تک لیکن مسئلہ یہ نہیں تھا کہ یہ اداکارائیں چہرے پر داغ لگانے سے کترارہی تھیں بلکہ راج کپور کی ’ستیم شیوم سندرم‘ کی ’روپا‘ کا مختصر لباس اور کچھ بولڈ مناظر ایسے تھے، جو یہ اداکارہ کرنے سے گھبرا رہی تھیں۔

یہ اداکارائیں سمجھتی تھیں کہ وہ ابھی تک اتنی آزاد خیال نہیں ہوئیں کہ ’روپا‘ بن جائیں اور کردار کے تقاضے کے باوجود یہ ادا کرلیا تو پرستاروں کی ایک بڑی تعداد سے محروم ہوجائیں گی۔

 راج کپور کو کئی دوستوں نے مشورہ دیا کہ وہ ہیروئن کے قابل اعتراض لباس پر کچھ سمجھوتہ کرلیں لیکن راج کپور تو جیسے ٹھان چکے تھے کہ کچھ بھی ہوجائے کسی بھی طرح کردار میں کوئی کمی بیشی نہیں کریں گے اور ان کے ذہن میں جو ’روپا‘ کا خاکہ بن چکا ہے ہیروئن اس کے مطابق ہی ہوگی۔

اب کون سی اداکارہ اس قدر ہوشربا مختصر لباس میں جلوہ گر ہوگی یہی دیکھنا تھا اور یہی بات راج کپور کو ’روپا‘ کی تلاش کے لیے ایک کٹھن اور دشوار گزار راہ پر چلا رہی تھی۔ جو اداکارائیں پھر بھی یہ کردار ادا کرنے کو تیار ہوتیں تو ان کے رکھ رکھاؤ اور انداز کو دیکھ کر راج کپور کو لگتا ہی نہیں کہ ان کے ذہن میں جو ہیروئن کا خاکہ ہے، اس پر یہ پورا اترتی ہوں۔

زینت امان تک یہ ساری خبریں پہنچ رہی تھیں جبھی انہوں نے فیصلہ کرلیا کہ چاہے کچھ بھی ہوجائے وہ یہ کردار حاصل کرکے رہیں گی۔ اسی لیے انہوں نے راج کپور کی فلموں کے لیے فوٹوگرافی اور پبلسٹی کا کام کرنے والے مشہور فوٹوگرافر جے پی سنیگال سے ملاقات کرنے کا ارادہ کیا۔

فوٹوگرافر کے لیے بڑی حیرانی کی بات تھی کہ زینت امان جیسی اداکارہ جن کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ میل ملاپ پر یقین نہیں رکھتیں، ان سے ملاقات کرنے آئی ہیں۔

بہرحال زینت امان ان کے مقابل دفتر میں بیٹھی تھیں جنہوں نے وقت ضائع کیے بغیر پوچھا کہ راج کپور کی ’ستیم شیوم سندرم‘ کی ہیروئن کا خاکہ جو راج کپور کے ذہن میں ہے وہ کیسا ہے؟ کیسی دکھتی ہے وہ؟ کس طرح کی ہوسکتی ہے؟

زینت امان فوٹوگرافر جے پی سینگال سے اس لیے بھی پوچھ رہی تھیں کیوں کہ وہ جانتی تھیں کہ جب فلم کی تشہیری مہم کا انہیں بتایا گیا ہوگا تو یہ بھی کہا گیا ہوگا کہ ہیروئن کو کس طرح کیمرے کی آنکھ میں قید کرنا ہے۔

اب فوٹوگرافر نے زینت امان کو بتانا شروع کیا کہ ’روپا‘ کیسی ہوگی۔ یہ وہ سب باتیں تھیں جو راج کپور، جے پی سینگال کے گوش گزار کرتے رہتے تھے۔ زینت امان ایک ایک بات کو ذہن نشین کررہی تھیں۔

زینت امان کی یہ ملاقات ختم ہوئی تو انہوں نے اب تیاری پکڑی کہ وہ کس طرح ’روپا‘ بنیں گی۔ چند دنوں کی محنت کے بعد ایک سادہ سی سفید ساڑھی، جس کے اوپری حصے کو سر تک کھینچ کر ایسے زیب تن کیا گیا تھا کہ اس کا پلو چہرے کا ایک حصہ چھپا رہا تھا، زلفوں کی ایک لٹھ اسی حصے پر پڑی رہتی۔ اب زینت امان نے مزید چند دنوں تک اس کی پریکٹس کی اور ایک روز اسی گیٹ اپ میں آر کے سٹوڈیو پہنچ گئیں۔

راج کپور کے سامنے آئیں تو وہ تو جیسے دم بخود رہ گئے۔ ان کو ایسا لگا کہ جیسے ان کی فلم کی ’روپا‘ آ کھڑی ہے۔ یہی وہ لمحہ تھا جب انہوں نے اعلان کیا کہ جو اداکارہ انہیں درکار تھی وہ مل گئی۔

اب ’ستیم شیوم سندرم‘ کی ہیروئن کوئی اور نہیں زینت امان ہی ہوں گی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ادھر زینت امان کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا۔ جو آرزو تھی وہ پوری ہوگئی۔ معاہدہ سائن ہوا اور فلم نگری میں جنگل کی آگ کی طرح یہ بات پھیل گئی کہ راج کپور کو ہیروئن مل گئی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ چوں کہ ’روپا‘ کے بچپن کا بھی کردار بھی فلم میں دکھانا مقصود تھا تو راج کپور ایسی ہی کسی چائلڈ سٹار کی کھوج میں تھے، جو زینت امان سے مشابہت رکھتی ہو۔

اس سلسلے میں لگ بھگ 100 چائلڈ سٹارز کے آڈیشن ہوئے اور پھر ان میں سے ایک پدمنی کولہا پوری کا انتخاب ہوا جبکہ ہیرو کے لیے راج کپور پہلے ہی چھوٹے بھائی ششی کپور کو چن چکے تھے۔

زینت امان کو تو جیسے ان کے خوابوں کی منزل مل گئی۔ فلم میں جہاں زینت امان کا مختصر لباس تھا، وہیں ان کے کچھ ہیجان خیز مناظر بھی لیکن انہیں اس پر کوئی اعتراض نہیں تھا۔

زینت امان کے بارے میں ایک عام تاثر یہی تھا کہ وہ ایسے مناظر عکس بند کرنے میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کرتی تھیں۔

فلم کے ذریعے صرف یہ پیغام دیا گیا کہ شکل و صورت بے معنی ہوتی ہے، انسان کا رویہ اور اس کی طرز گفتگو بس دلوں پر اثر کرتی ہے۔

’ستیم شیوم سندرم‘ میں چوں کہ کئی بولڈ مناظر تھے اسی لیے فلم کی نمائش مسلسل تاخیر کا شکار رہی۔ سینسر بورڈ ان مناظر کو نکالنے کا مطالبہ کرتا لیکن راج کپور تیار نہیں تھے۔

ایک قیاس یہ بھی کہ جب سینسر سرٹیفکیٹ نہیں ملا تو راج کپور نے اس وقت کے وزیراعظم مرار جی دیسائی تک رسائی کی، جن کی سفارش پر یہ معاملہ حل ہوا۔

راج کپور کی ’ستیم شیوم سندرم‘ جب 24 مارچ 1978 کو سینیما گھروں کی زینت بنی تو اس کی کہانی، لتا منگیشکر کے گانوں اور ڈائریکشن نے دھوم مچادی۔

پھر زینت امان کے بولڈ مناظر دیکھنے کے لیے من چلے سینیما گھروں میں تواتر کے ساتھ آئے۔

فلم کو اگلے سال دو ایوارڈ میوزک اور سینیماٹوگرافری پر ملے جبکہ فلم فیئر ایوارڈ کے لیے راج کپور، زینت امان، گلوکار مکیش اور نغمہ نگار پنڈت نریندر شرما نامزد ہوئے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ جس برس ’ستیم شیوم سندرم‘ نمائش کے لیے لگی۔ اسی سال زینت امان کی شالیمار، ہیرا لال پنا لال اور ڈان بھی آئیں، جنہوں نے زبردست کمائی کرکے زینت امان کو اور شہرت اور کامیابی دی۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ