پاکستان میں ٹوئٹر بلیو ٹک کی ماہانہ فیس کیا ہو سکتی ہے؟

ٹوئٹر کے نئے مالک ایلون مسک نے اعلان کیا ہے کہ ’بلیو ٹک‘ کے حامل صارفین کو اب ماہانہ آٹھ ڈالر ادا کرنا ہوں گے تاہم کیا پاکستان میں بھی صارفین کو یہی فیس ادا کرنا ہوگی؟

ٹوئٹر کے بلیو ٹک نظام کو ’ویریفیکیشن نظام‘ بھی کہا جاتا ہے جس میں صارف انتظامیہ کو درخواست بھیجتا ہے (سکرین گریب)

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر کے نئے مالک ایلون مسک نے گذشتہ روز اعلان کیا کہ ’بلیو ٹک‘ (تصدیق شدی اکاؤنٹ) کے حامل صارفین کو اب ماہانہ آٹھ ڈالر ادا کرنا ہوں گے۔

یہ اعلان ایسے وقت پر کیا گیا ہے جب ایلون مسک نے ٹوئٹر کی باگ دوڑ سنھالی اور وہ اس کمپنی میں مختلف تبدیلیوں کا اشارہ بھی پہلے سے دے چکے تھے۔

ایلون مسک نے ٹوئٹر پر لکھا، ’بلیو ٹک سرمایہ دار اور عام لوگوں کے درمیان ایک امتیازی سلوک تھا اور اسی وجہ سے اب ٹوئٹر نے ماہانہ آٹھ ڈالر کی فیس رکھی ہے۔‘

انہوں نے مزید لکھا کہ اس سے ٹوئٹر کو آمدن بھی ہوگی اور اس نئے سبسکپرشن نظام سے ’ٹرولز اکاؤنٹ کی بیخ کنی‘ بھی کی جائے گی۔

 لیکن یہ ہوگا کیسے اس حوالے سے انہوں نے تفصیل فراہم نہیں کی۔

ایلون مسک نے نئے نظام کے حوالے سے مزید لکھا کہ فیس ادا کرنے والے بلیو ٹک صارفین کو کچھ اضافی فیچرز بھی دیے جائیں گے جس میں جواب دینے میں ترجیح، ٹوئٹر مینشنز اور سرچ میں ترجیح جس سے ٹرولز اکاؤنٹ کو شکست دی جا سکے گی۔

بلیو ٹک ہے کیا؟

ٹوئٹر کے بلیو ٹک نظام کو ’ویریفیکیشن نظام‘ بھی کہا جاتا ہے جس میں صارف انتظامیہ کو درخواست بھیجتا ہے، اور تصدیقی عمل سے گزار کر صارف کے اکاؤنٹ کے ساتھ نیلا نشان لگا دیا جاتا ہے۔

بلیو ٹک عوامی شخصیات جیسا کہ سرکاری افسران، سیلیبریٹیز، سپورٹس اور اسی طرح دنیا کی معروف شخصیات کو دیا جاتا ہے۔

ٹوئٹر کے مطابق اس کا مقصد ان شخصیات کے ناموں سے جعلی اکاؤنٹس کی حوصلہ شکنی کرنا اور پبلک انٹرسٹ ہے۔

بلیو ٹک کے نظام پر ماضی میں صارفین کی جانب سے تنقید بھی کی گئی کیونکہ بعض شخصیات کو سیلیبریٹیز ہونے کے باوجود بلیو ٹک نہیں دیا گیا تھا۔ اسے ٹوئٹر کی غیر جانبداری قرار دیا گیا تھا۔

تاہم بعد میں ٹوئٹر نے 2017 میں کچھ وقت کے لیے بلیو ٹک کے لیے درخواستیں لینا بند کر دی تھیں اور پھر کچھ عرصہ بعد تھوڑی سی تبدیلی کے ساتھ دوبارہ شروع کیا۔

 اب تک تو بلیو ٹک کا نظام بغیر کسی فیس کے صارفین کے لیے دستیاب تھا، تاہم گذشتہ روز ایلون مسک کے اعلان کے بعد اب صارفین کو ماہانہ پیسے ادا کرنے ہوں گے۔

 تاہم ماہانہ سبسکرپشن فیس کے حوالے سے ایلون مسک نے اپنے ایک ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ اس فیس کو ’پرچیسنگ پاور پیریٹی‘ کے مطابق ہر ایک ملک کے لیے ایڈجسٹ کیا جائے گا۔ اسی فارمولے کے تحت یہ فیس ہر ایک ملک کے لیے الگ الگ ہوگی۔

 پرچیسنگ پاور پیریٹی یا قوت خرید کیا ہے؟

پرچیسنگ پاور پیریٹی یا قوت خرید اس پیمانے کا نام ہے جس کے ذریعے کسی بھی ملک کے باشندوں کی قوت خرید کو ناپا جاتا ہے لیکن یہ عام ’خالص داخلی پیدوار‘ یا گراس ڈومیسٹک پراڈکٹ سے مختلف ہے۔

 خالص داخلی پیدوار یا جی ڈی پی کسی بھی ملک میں پیدا ہونے والی چیزوں اور اس سے ملنے والی آمدنی کو ملک کے مجموعی آبادی پر تقسیم کر کے نکالی جاتی ہے۔

 لیکن جی ڈی پی اور پرچیسنگ پاور پیریٹی کے ذریعے نکلنے والی جی ڈی پی میں فرق ہوتا ہے کیونکہ پرچیسنگ پاور پیریٹی کو کسی دوسرے ملک کی کرنسی کے ساتھ لیا جاتا ہے جبکہ جی ڈی پی میں ایسا نہیں ہوتا۔

ٹوئٹر بھی پرچیسنگ پاور پیریٹی فارمولے کے تحت بلیو ٹک کی ماہانہ فیس چارج کرے گا۔

ڈاکٹر محمد سلیم نے امریکہ کے اراسمس یونیورسٹی سے معاشیات میں پی ایچ ڈی کی ہے اور پاکستان میں معاشی معاملات پر نظر رکھتے ہیں۔

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ پرچیسنگ پاور پیریٹی کی سادہ سی مثال جو بہت زیاہ دی جاتی ہے، وہ مکڈونلڈ کا برگر ہے۔

 ’مثال کے طور امریکہ میں مکڈونلڈ کا کوئی بھی برگر آٹھ ڈالر کا ہے، تو اسی کوالٹی اور انگریڈینٹس (لوازمات) کا برگر پاکستان میں دو یا چار ڈالر کا ملے گا اور اس کی وجہ قوت خرید ہے کیونکہ امریکہ میں قوت خرید کا پیمانہ پاکستان سے زیادہ ہے۔‘

 ڈاکٹر سلیم نے بتایا کہ ’قوت خرید کا پیمانہ وقتاً فوقتاً عالمی بینک (ورلڈ بینک) جاری کرتا ہے اور ہر ملک کی کرنسی کا تقابلی جائزہ امریکی ڈالر سے کیا جاتا ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ عام الفاظ میں اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہم ڈالر کو پاکستانی روپے میں تبدیل کرتے ہیں تو آج کل ایک امریکی ڈالر تقریبا 220 روپے کے برابر ہے تاہم پرچسنگ پاور پیریٹی میں یہ الگ ہوتا ہے۔

ورلڈ بینک کی جانب سے پاکستان کی پرچیسنگ پاور پیریٹی یا قوت خرید رواں سال 2022 کے لیے تقریباً 44 ہے۔ یعنی اگر کوئی بھی چیز امریکہ میں ایک ڈالر کی ہے تو پاکستان میں وہی چیز آپ کو 44 روپے میں مل جاتی ہے۔

ڈاکٹر سلیم کے مطابق یہ پیمانہ اس لیے رکھا جاتا ہے کہ تمام دنیا کے ممالک میں قوت خرید کو بیلنس کیا جائے یعنی اگر کوئی چیز امریکہ میں آٹھ ڈالر کی ہے تو وہی چیز یہاں پر دو تین ڈالر کی ملنی چاہیے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ڈاکٹر سلیم نے بتایا کہ ’اس کی ایک مثال یہ بھی ہوسکتی ہے کہ اگر کراچی میں آپ کو تین کمروں کا فلیٹ 30 ہزار روپے ماہانہ کرائے پر ملتا ہے تو وہی تین مرلے کا فلیٹ اسلام آباد میں 50 ہزار تک ملتا ہے کیونکہ کراچی کے مقابلے میں اسلام آباد میں قوت خرید زیادہ ہے اور اسی حساب سے مختلف کمپنیوں کے تنخواہیں بھی ہوتی ہے۔‘

شاید آپ لوگوں نے یہ نوٹ کیا ہوگا کہ کسی بھی کمپنی کے ایک ہی سکیل کے ملازمین کی تنخواہ ہر ایک شہر میں الگ الگ ہوتی ہے اور اس کی وجہ قوت خرید ہے۔

ٹوئٹر بلیو ٹک کی پاکستان میں ماہانہ فیس کیا ہوگی؟

اب پرچیسنگ پاور پیریٹی یا قوت خرید کے بارے میں ہم نے بات کی لیکن ٹوئٹر کی جانب سے جو آٹھ ڈالر فیس مقرر کی گئی ہے تو یہی آٹھ ڈالر پاکستانیوں کو بھی ادا کرنے ہوں گے۔

اسی حوالے سے ڈاکٹر سلیم نے بتایا کہ چونکہ ٹوئٹر نے واضح طور پر کہا ہے کہ اس فیس کو قوت خرید کے مطابق ایڈجسٹ کیا جائے گا تو اسی وجہ سے پاکستان میں صارفین کے لیے آٹھ ڈالر نہیں دینے ہوں گے بلکہ اس سے کم ہوگی۔

انہوں نے بتایا کہ ’پرچیسنگ پاور پیریٹی پاکستان کی اب تقریباً 44 ہے تو اسی حساب سے اگر آٹھ ڈالر کو 44 روپے سے ضرب دے تو یہ ماہانہ تقریباً 350 روپے اور سالانہ تقریباً چار ہزار روپے بنتے ہے۔‘

یہ ایسا ہی ہے جس طرح  نیٹ فلیکس کی فیس ہے۔ نیٹ فلیکس کی امریکہ میں سٹینڈرڈ پیکج کی فیس تقریباً 15 ڈالر یعنی تین ہزار روپے ہے لیکن پاکستان میں یہی پیکج تقریباً آٹھ سو روپے ہے۔

اسی طرح امریکہ میں نیٹ فلیکس کے بنیادی پیکج کی فیس تقریباً دو ہزار روپے ہے لیکن یہی پیکج پاکستان میں 450 روپے کا ہے۔

بلیو ٹک کی فیس جمع کرنے اور ہر ملک کے لیے سبسکرپشن فیس کی حد کے حوالے سے ٹوئٹر نے ابھی کوئی تفصیل جاری نہیں کی تاہم بلیو ٹک والے صارفین اس فیصلے پر تنقید ضرور کرتے ہیں۔

محمد فہیم پشاور میں صحافی ہیں اور حال ہی میں ان کا اکاؤنٹ ویریفائڈ ہوا ہے یعنی ان کو بلیو ٹک مل گیا ہے لیکن وہ فیس کے فیصلے سے پریشان ہیں۔

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ وہ کبھی بھی فیس نہیں دیں گے اور اگر ٹوئٹر ان کا بلیو ٹک واپس لینا چاہتا ہے تو بے شک لے لے۔

’میری تنخواہ یہاں اتنی ہے کہ اس میں ضروری اخراجات ہی پورے ہوتے ہیں تو میں اس بلیو ٹک کے لیے فیس کیوں ادا کروں کیونکہ مجھے یہ غیر ضروری لگتا ہے کہ اپنی ہی تصدیق کے لیے آپ کو پیسے دینے پڑے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی سوشل