دی لیجنڈ آف مولا جٹ: ممی ڈیڈی بچے پنجابی فلم دیکھنے گئے تھے؟

آپ کو تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ بلال لاشاری اور ان کی ٹیم اپنے متوقع شائقین کی نفسیاتی کیفیات اچھی طرح سمجھتی ہے۔

فلم ’لیجنڈ آف مولا جٹ‘ میں فواد خان نے مولا جٹ اور ماہرہ خان نے مکھو جٹی کا کردار ادا کیا (سکرین گریب/ فلم ٹریلر)

بلال لاشاری کے ذہن میں سوال تھا کہ ’پنجابی فلم کون دیکھے گا؟ زمانہ بدل گیا ہے۔‘ ارطغرل کے پرستاروں کی طرف سے جواب آیا: ’ہم دیکھیں گے، کوک سٹوڈیو کی موسیقی سن لیتے ہیں تو یہ فلم بھی دیکھ لیں گے۔ ہم ممی ڈیڈی ضرور ہیں مگر اتنے بھی نہیں۔ بس ہالی وڈ ٹچ دے دینا تاکہ برگر کا عادی ہمارا ہاضمہ بھی خراب نہ ہو اور مولا جٹ اور نوری نت لڑتے ہوئے ذرا کول بھی لگیں۔‘

فلم ’دی لیجنڈ آف مولا جٹ‘ کی مقامی اور بین الاقوامی سطح پر بے مثال کامیابی نہ صرف پاکستانی فلموں کے لیے کامیابی کا نیا فارمولا پیش کرتی ہے بلکہ سینیما کے نئے کلچر کو سمجھنے میں بھی مدد دیتی ہے۔

آج کے دور میں فلم ریلیز ہوتے ہی سب سے پہلے اس کی باکس آفس کمائی زیر بحث آتی ہے اور کافی حد تک یہ چیز فلم کی ناکامی یا مزید کامیابی کا تعین کرتی ہے۔ اگر فلم پہلے ایک دو ہفتوں میں ردھم نہ پکڑ سکے تو اس کا ٹریک پر چڑھنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔ اس دوران میڈیا کے تبصرے شائقین کی ذہن سازی میں کافی حد تک فیصلہ کن کردار ادا کر چکے ہوتے ہیں۔ یقیناً ہر فلم ساز کی طرح بلال لاشاری اور ان کی ٹیم کے سامنے بھی یہ سوال سرفہرست رہا۔

میڈیا سے اپنے ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے بالی وڈ فلموں کی طرح آئٹم سانگ کا کلچر پسند نہیں بلکہ میں ہالی وڈ فلموں کے سٹرکچر پر فلم بنانا چاہتا تھا، اس لیے پہلے فلم کا سکرپٹ انگریزی زبان میں لکھا لیکن بعد ازاں ’دی لیجنڈ آف مولاجٹ‘ کو پنجابی زبان میں ہی بنانے کا فیصلہ کیا۔‘

’ہالی وڈ کے سٹرکچر پر پنجابی فلم‘ کا تیر کارگر ثابت ہوا اور فلم ابھی تک باکس آفس پر کامیابی کے جھنڈے گاڑے چلی جا رہی ہے۔ آپ کو تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ بلال لاشاری اور ان کی ٹیم اپنے متوقع شائقین کی نفسیاتی کیفیات اچھی طرح سمجھتی ہے۔ مولا جٹ اپنی زبان کے اعتبار سے پنجابی مگر پیشکش پوری طرح ہالی وڈ اور ساؤتھ انڈین فلموں کی ہے۔

پرانی مولا جٹ کے برعکس اس فلم کی دنیا پنجاب کے بجائے تصوراتی ہے۔ جہاں اکھاڑا سجتا ہے تو جلد ہی قدیم رومن دنگل کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔

مولا جٹ اور نوری نت اپنے حلیے سے قدیم جنگجو نظر آتے ہیں۔ مکھو (ماہرہ خان) پنجابی مٹیار کے بجائے ایک نازک اندام سلم سمارٹ لڑکی ہے جیسے وہ باقاعدگی سے جم جاتی اور ڈائٹ پلان کا خیال رکھتی ہو۔ دیسی چھپر کے بجائے بار کا سا منظر ہے۔ فلم پر پنجاب کی ہزاروں سالہ تاریخ سے زیادہ ہالی وڈ کی ایک فلم ’گلیڈی ایٹر‘ کے اثرات کہیں زیادہ نمایاں ہیں۔ یہ واقعی ایک تصوراتی دنیا تھی جہاں آپ سرسوں کے ساگ اور بیسن کی روٹی کے ساتھ ڈائٹ کوک پی سکتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

البتہ اس صورت حال میں ہدایت کار کا یہ دعوی سمجھ سے بالاتر ہے کہ ’مولا جٹ بنانے کا مقصد یہ تھا کہ ہم اپنی ثقافت کو زندہ رکھ سکیں، یہ فلم ہماری ثقافت کو دوبارہ زندہ کرے گی۔‘

فلم میں پنجاب کی قدیم ثقافت موجود ہے اور نہ نوجوان نسل اس میں دلچسپی رکھتی ہے۔ یہ ان کا سروکار ہی نہیں۔ ہماری نوجوان نسل نے اندھا دھند ارطغرل دیکھا جس کا پنجاب کی ثقافت سے دور دور تک کوئی تعلق نہ تھا۔ اس میں بھی ایک خاص طرح کا ’ٹچ‘ تھا۔

البتہ تکنیکی اعتبار سے فلم لالی وڈ کی تاریخ میں ایک سنگ میل ہے۔ بلال لاشاری کی یہ بات بالکل درست ہے کہ ’موجودہ نسل اس وقت کی مشہور و کامیاب فلموں اور پنجابی گنڈا سا کلچر کا مذاق صرف اس لیے اڑاتی ہے کیوں کہ وہ تکنیکی اعتبار سے موجودہ دور سے ہم آہنگ نہیں تھیں۔‘

بلاشبہ ’دی لیجنڈ آف مولا جٹ‘ تکنیکی اعتبار سے موجودہ دور سے ہم آہنگ ہے اور شاید یہ اس فلم کا اکلوتا امتیاز ہے۔ ایکشن کے مناظر کے دوران فلم کا ساؤنڈ ڈیزائن اور بیک گراؤنڈ سکور تناؤ کی کیفیت میں بھرپور اضافہ کرتا ہے۔ فلم کا سیٹ موضوع کے شایان شان ہے۔

یہ فلم ممی ڈیڈی بچوں کے لیے ایک بھرپور انٹرٹینمنٹ ہے جو ایسا لگتا ہے انہی کے لیے بنائی گئی تھی۔ اس میں بلال لاشاری یا ان کی ٹیم سے شکوہ کرنا ناانصافی ہو گی۔ یہ بحیثیت مجموعی ہمارے سماج اور پاکستانی سینیما کے نئے کلچر کا بہت واضح تصویر ہے۔

مقامی سطح پر اس فلم کو دیکھنے والوں میں ایک بڑی تعداد مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے ایسے نوجوانوں کی ہے جو باقاعدگی سے ڈراما دیکھتے ہیں۔

وہ ماہرہ خان، حمزہ علی عباسی یا فواد خان کے فین کلب کا حصہ تھے۔ ان کے لیے سینیما جانے کی ایک بنیادی کشش اپنے اپنے پسندیدہ فنکاروں کو نئے روپ میں دیکھنا تھا۔ دوسری طرف سینیما جانا ایک سٹیٹس سمبل بھی ہے۔ آخر سنیپ بھی تو بھیجنا ہوتی ہے۔

آج سے تقریباً 43 سال پہلے بننے والی مولا جٹ کے دیکھنے والوں کی اکثریت ایک مختلف طبقے سے تعلق رکھتی تھی۔ اب اس طبقے اور سینیما کے درمیان وسیع معاشی خلیج حائل ہے۔ رکشہ ڈرائیورز، دیہاڑی دار مزدور، گلی کی نکڑ پر بیٹھے کریانہ دکاندار، ہوٹلوں کے برتن دھونے والے، گاڑیوں کو ٹاکی مارنے والے اور کھیتوں میں کام کرنے والے اَن گنت پاکستانیوں میں سے کتنے افراد نے دی لیجنڈ آف مولا جٹ دیکھی ہو گی؟ ان افراد کو نکال کر ’سینیما کی بحالی اور یہ اپنی ثقافت کو دوبارہ زندہ کرنے‘ کا دعویٰ مضحکہ خیز ہے۔

ہمارے سینیما ہال بڑے بڑے کاروباری سینٹرز میں ایک کاروباری یونٹ سے زیادہ کچھ نہیں۔ دوسری طرف فلم کا ٹکٹ عام آدمی کی گنجائش سے کہیں زیادہ ہے۔ جو شخص کسی فیکٹری میں 20 ہزار ماہانہ پر کام کر رہا ہے وہ فلم دیکھنے کے لیے ایک ہزار خرچ  کرنے کا کیسے سوچ سکتا ہے؟

فیملی یا دوستوں کے ساتھ فلم دیکھنے جانا سینیما کلچر کا بنیادی حصہ ہے۔ اپنے آپ کو اس مزدور کی جگہ رکھ کر باقی حساب آپ خود کر لیجیے۔

نئے فارمولے کے مطابق اب چاہے فلم کی زبان پنجابی اور مواد دیسی ہو لیکن اس کے خد و خال بدیسی ہوں گے کیوں کہ باکس آفس کا تعلق ملکی اور بین الاقوامی سطح پر ان افراد سے جڑا ہے جو لسی بھی برانڈڈ پیتے ہیں۔ ہم نے پہلے عام آدمی سے سینیما چھینا اب ان کا مولا جٹ بھی لے اڑے۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ