عمران خان پر گولی بظاہر ڈرانے کے لیے چلائی گئی: سابق جرنیل

جنرل (ر) فیض چشتی کے خیال میں حملہ آور عمران خان کو جان سے مارنا چاہتا تو سیدھا نشانہ لگاتا۔ ’عمران خان کو گولی بظاہر ڈرانے کے لیے ماری گئی۔‘

پاکستانی فوج کے سابق افسران کی تنظیم ایکس سروس مین سوسائٹی کے صدر لیفٹینیٹ جنرل ریٹائرڈ فیض علی چشتی نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان پر حملہ کرنے والے کا مقصد انہیں جان سے مارنا نہیں بلکہ محض ڈرانا تھا۔

نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو میں جنرل ریٹائرڈ فیض علی چشتی کے خیال میں حملہ آور نے عمران خان کو جان سے مارنا ہوتا تو سیدھا نشانہ لگاتا۔ ’عمران خان کو گولی بظاہر ڈرانے کے لیے ماری گئی۔‘

فیض علی چشتی نے مزید کہا کہ عمران خان کو گولی پنجاب میں لگی، جہاں ان کی اپنی حکومت ہے۔ ’سوال یہ ہے کہ اپنی حکومت میں سکیورٹی مکمل کیوں نہیں تھی؟ یہ کس نے کیا اور کیوں کیا؟ اس کی تحقیقات کریں۔‘

انہوں نے سوال کیا کہ عمران خان پر حملے میں ایک گولی استعمال ہوئی یا خودکار ہتھیار کے ذریعے فائر کیا گیا، یہ کسی ماہر نشانہ باز کا کام تھا یا عام آدمی کا؟

ان کے خیال میں پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ پر گولی چلانے والا ماہر نشانہ باز تھا۔

فیض علی نے چشتی نے مزید کہا کہ جب پاکستان بنا تو وہ برٹش انڈیا آرمی میں جینٹلمین آفیسر تھے اور 30 مارچ 1980 تک پاکستان فوج میں خدمات سرانجام دیں۔

’پاکستان کے پاس کچھ نہیں تھا، تمام اداروں نے محنت کی اور پاکستان کو پھلتے پھولتے دیکھا اور 1971 میں پاکستان کو ٹوٹتے بھی دیکھا۔‘

انہوں نے کہا کہ وہ موجودہ وقت میں پاکستان کو ڈوبتا دیکھ رہے ہیں۔ ’میری عمر کے اب کم لوگ زندہ ہیں۔ آرمی چیف باجوہ میرے بیٹے کے کلاس فیلو رہے ہیں۔ جنرل باجوہ کے والد میرے ساتھی رہے ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ غلط فہمیاں دور ہوں۔‘

جنرل فیض چشتی نے کہا کہ ملک کے حالات ایسے ہو چکے ہیں کہ کچھ عناصر کی جانب سے فوج اور عوام کے مابین نفرت پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی سیاسی جماعتوں کی جانب فوج کو نشانہ بنایا گیا تھا، لیکن اب یہ کام بڑھ گیا ہے۔ ’گالی گلوچ ہو رہی ہے جو کہ نہیں ہونا چاہیے۔ نظام خراب نہیں ہوتے۔ نظام سب ٹھیک ہوتے ہیں چلانے والوں میں خرابی ہوتی ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا انتظامی ڈھانچہ سنبھالنے والے ریڑھ کی ہڈی کی طرح ہیں جبکہ وزیر اور سیاستدان آتے جاتے رہتے ہیں۔

ملک کے موجودہ حالات کے ممکنہ حل سے متعلق انڈپینڈنٹ اردو کے سوال پر فیض علی چشتی نے کہا کہ جب نیت ہی بات چیت اور ملاقات کرنے کی نہیں تو کیسے ٹھیک ہو سکتا ہے؟ ’میں ثالث بننے کو تیار ہوں آپ ارینج کر دیں۔‘

انہوں نے کہا کہ فریقین میں خبط چڑھا ہوا ہے، پی ٹی آئی والے کہتے ہیں ہم باس ہیں، جبکہ دوسرا فریق کہتا ہے کہ میرے جیسا عقلِ کُل کوئی نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کا مدعا ہے انتخابات کرائے جائیں، جبکہ الیکشن مئی 2023 میں ہوں گے۔

آرمی چیف کی تعیناتی

فیض علی چشتی نے کہا کہ آئین کے مطابق آرمی چیف کی تعیناتی وزیراعظم کا اختیار ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جنرل باجوہ 29 نومبر کو سبکدوش ہو رہے ہیں اور شائد نئے چیف کا ایک دو دن میں اعلان ہو جائے گا۔ ’کہا جا رہا ہے کہ ابھی تک اعلان کیوں نہیں ہوا؟ کہا جا رہا ہے کہ میرٹ پر آرمی چیف تعینات کرنا چاہیے لیکن میرٹ کا تعین کیسے ہو گا؟‘

انہوں نے کہا کہ ’لیفٹیننٹ جنرل سارے ایک جیسے ہوتے ہیں، سب کمان کے لیے موزوں ہوتے ہیں۔ آرمی چیف ایک دو یا تین نام بھیج دیتے ہیں۔ تمام تھری سٹار میں 19۔20 کا فرق ہو سکتا ہے۔ فوج میں تربیت دی جاتی ہے گرومنگ کی جاتی ہے۔‘

جنرل ریٹائرڈ فیض علی چشتی کون ہیں؟

فیض علی چشتی سینیئر ترین ریٹائرڈ آرمی افسر ہیں جو 1946 میں برٹش انڈیا آرمی میں نوجوان افسر تھے اور پاکستان بننے کے بعد پاکستان فوج میں شامل ہوئے۔

جنرل ضیا نے 1977 میں مارشل لا کا نفاذ کیا تو فیض علی چشتی اس وقت کور کمانڈر راولپنڈی تھے۔ پاکستان کی تاریخ میں مارشل لا کا ذمہ دار جنرل فیض علی چشتی کو بھی سمجھا جاتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

لیکن آج پریس کانفرنس میں 1977 کا مارشل لا لگانے والے جنرل فیض چشتی نے جمہوریت کی تعریف کی۔

اس حوالے سے جب اُن سے سوال ہوا کہ کیا اُن کو مارشل لگانے پر پچھتاوا ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ آٹھ مارچ 1977 کو الیکشن ہوئے، جن میں دنگا فساد ہوا اور بندے مرے۔ ’ہم نے کہا تھا کہ الیکشن کرائیں آپ جیت جائیں گے لیکن انہوں نے الیکشن نہیں کرائے۔‘

انہوں نے بتایا: ’ہم نے بھٹو صاحب کو کہا کہ پاکستان تب تک قائم ہے جب تک فوج مضبوط ہے۔ آپ انتخابات کرائیں ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ بھٹو نے جواب دیا کہ میں نہیں کر سکتا کیونکہ ہم منتخب ہو چکے ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ چار ماہ فوج نے بہت کوشش کی لیکن لوگوں کو مرنے نہیں دیا جا سکتا تھا، اور بھٹو سرینڈر کرنے کو تیار تھے اور نہ الیکشن کروانے کو اور کہتے تھے آپ نے مارشل لا لگانا ہے لگا دیں۔

انہوں نے کہا کہ مارشل لا کا فیصلہ ان کا نہیں، بلکہ فوج کے سربراہ کا تھا۔ ایک سوال کی جواب میں انہوں نے کہا کہ آج ملک کو مارشل لا کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔

پاکستانی فوج کے سبکدوش افسران کی دو نمائندہ تنظیمیں ہیں جن میں پاکستان ایکس سروس مین ایسو سی ایشن کی قیات جنرل (ر) علی قلی خان کرتے ہیں جبکہ جنرل فیض علی چشتی پاکستان سروس مین سوسائٹی کے صدر ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست