سندھ: سرکاری ہسپتالوں میں عملے کے بائیکاٹ کو ایک ماہ مکمل

اس بائیکاٹ کے باعث صوبے کے تمام سرکاری ہسپتالوں میں سوائے شعبہ ایمرجنسی، تمام شعبہ جات میں علاج مکمل طور پر بند ہے۔

سندھ میں کرونا کی وبا کے دوران شعبہ صحت کے کارکنان کو دیے جانے والے ’ہیلتھ الاؤنس‘ کے خاتمے کے خلاف احتجاج کو ایک ماہ مکمل ہوگیا ہے۔

صوبے بھر کے ڈاکٹرز، نرسز، پیرامیڈیکل اور مددگار عملے سمیت محکمہ صحت کے تمام ملازمین کی تنظیموں کے اتحاد ’گرینڈ ہیلتھ الائنس‘ کے اس احتجاج کے دوران محکمہ صحت سندھ کے تمام ملازمین نے صوبے بھی کے ہسپتالوں میں کام کا بائیکاٹ کیا ہوا ہے۔

اس بائیکاٹ کے باعث صوبے کے تمام سرکاری ہسپتالوں میں سوائے شعبہ ایمرجنسی، تمام شعبہ جات میں علاج مکمل طور پر بند ہے۔

کراچی پریس کلب کے سامنے جاری احتجاجی دھرنے میں موجود آل لیڈی ہیلتھ ورکرز پروگرام یونین پاکستان کی صدر بشری آرائیں نے کہا ہے کہ یہ احتجاج تب تک جاری رہے گا جب تک سندھ حکومت ختم کیا جانے والا ’ہیلتھ الاؤنس‘ بحال نہیں کرتی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے بشری آرائیں نے کہا کہ ’ہم نے کرونا وبا کے دوران فرنٹ لائن ورکرز کی حیثیت سے کام کرکے کرونا پر قلیل عرصے میں قابو پاکر دیکھایا۔ اس دوران ہمارے کئی ساتھیوں نے اپنی جان کے نظرانے دیے۔ ہم روزانہ کئی اقسام کے وائرس کا سامنا کرتے ہیں اس لیے یہ الاؤنس ہمارا حق ہے۔

’ہماری تنخواہ سے اس مہنگائی والے دور میں گزارا نہیں ہوتا۔ پنجاب اور کے پی میں بھی مختلف الاؤنسز کے نام پر رقم دی جاتی ہے تو سندھ میں کیوں نہیں؟ ہم حکومت سندھ سے مطالبہ کرتے ہیں ہیں کہ ہمارا ہلیتھ الاؤنس بحال کیا جائے۔‘

دوسری جانب سندھ حکومت نے ان ملازمیں کے مطالبات کو غیر مناسب قرار دیا ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے پارلیمانی سیکریٹری صحت سندھ قاسم سومرو نے کہا کہ ’دیگر شعبوں کے افراد کو کیا کوئی رسک نہیں ہوتا؟ کیا صرف محکمہ صحت کے ملازمین کو ہی رسک کا سامنا ہے کہ صرف انہیں خاص الاؤنس دیا جائے؟ یہ الاؤنس کرونا وبا کے دوران دیا گیا تھا جو اپریل 2020 سے شروع ہوا تھا۔ اب کرونا ختم ہوگیا ہے تو سندھ حکومت نے ستمبر 2022 سے یہ الاؤنس بند کردیا ہے۔‘

ان کے مطابق: ’ان دو سالوں کے دوران سندھ حکومت نے اس الاؤنس کے نام پر 38 ارب روپے ملازمین کو دیے ہیں۔ ان پیسوں سے کئی بہت بڑے ہسپتال اور دیگر منصوبے مکمل کیے جاسکتے تھے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی صحت