ترکی میں بننے والے بحری جہاز کا مقصد جارحیت نہیں: شہباز شریف

وزیر اعظم شہباز شریف نے استنبول کے شپ یارڈ پر ترک صدر رجب طیب اردوان کے ساتھ پی این ایس خیبر کوورٹ کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی، اور ترک سرمایہ کاروں کو پاکستان میں توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کی ترغیب بھی دی۔

پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے جمعے کو ترکی کے شہر استنبول میں ایک تقریب سے خطاب میں کہا ہے کہ ترکی اور پاکستان کے درمیان بحری جہاز بنانے کے منصوبے کا مقصد جارحیت نہیں، بلکہ اپنے دفاع کو مضبوط بنانا ہے۔

وزیر اعظم شہباز شریف ترک صدر رجب طیب اردوغان کے ہمراہ استنبول کے شپ یارڈ پر پاک بحریہ کے لیے تیار کردہ پی این ایس خیبر کوورٹ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔

شہباز شریف جمعے کو دو روزہ دورے پر ترکی پہنچے ہیں۔ جہاں اس جہاز کی لانچنگ کے حوالے سے وزیر اعظم شہباز نے کہا کہ ترکی اور پاکستان امن کے لیے اپنی دفاعی صلاحیتوں کو فروغ دینے میں مصروف ہیں۔

پاکستانی وزیر اعظم نے ترکی سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی دفاعی پیداواری صلاحیتوں میں مزید تعاون کرے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ دنیا میں امن بحال ہو۔ 

انہوں نے مزید کہا کہ دنیا کو ’زبردست کشیدگی‘ کا سامنا ہے، اور روس یوکرین تنازعے نے عالمی معاشروں کے لیے کئی مسائل پیدا کر دیے ہیں۔

انہوں نے ترک صدر رجب اردوغان کی امن کے لیے کوششوں اور گندم کی ترسیل کے معاہدے کو سراہا۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان اور ترکی کو قابل تجدید توانائی کے میدان میں سرمایہ کرنا چاہیے، جس سے دونوں معیشتوں کو فائدے کے علاوہ ان کے تاریخی تعلقات بھی مزید مظبوط ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان توانائی کے حوالے سے گمبھیر مسائل کا شکار ہے، اور ملک کا پیٹرولیم مصنوعات کی درآمدات پر سالانہ خرچہ 25 ارب ڈالر تک پہکچ چکا ہے۔

پی این ایس خیبر

پی این ایس خیبر پاکستان اور ترکی کے درمیان مشترکہ تعاون پر مبنی منصوبے ملجم  (MILGEM)کارویٹ کے تحت بننے والے چار جہازوں میں سے تیسرا بحریہ جہاز ہے۔

جولائی 2018 میں پاک بحریہ نے ترکی کی سرکاری دفاعی فرم  اے ایس ایف اے ٹی کے ساتھ ملجم کلاس کے چار بحری جہازوں کے حصول کے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

معاہدے کے تحت دو کارویٹس ترکی اور دو پاکستان میں تعمیر کیے جانے تھے، جبکہ ٹیکنالوجی کی منتقلی بھی معاہدے میں شامل تھی۔

ملجم منصوبہ پاکستان اور ترکی کے درمیان سٹریٹجک شراکت داری میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے جس میں گذشتہ برسوں کے دوران پیش رفت کا سلسلہ جاری ہے۔

فضا سے لے کر سمندری حدود کے دفاع تک کی صلاحیت رکھنے والے جہازوں کی ترسیل ہر چھ ماہ کے وقفے سے اگست 2023 سے شروع ہو گی

انہوں نے کہا کہ پی این ایس خیبر اور اس جیسے دوسرے منصوبوں کا مقصد جارحیت نہیں ہے، بلکہ یہ صرف دفاع کو یقینی بنانے کے لیے ہیں۔

پی این ایس خیبر کی افتتاحی تقریب میں ترک وزیر اعظم مصطفی سینٹو، پاکستان کے وفاقی وزرا نوید قمر اور مریم اورنگزیب، اور پاکستان کی بحری فوج کے سربراہ ایڈمرل محمد امجد خان نیازی کے علاوہ دونوں ممالک کی اعلی سول اور ملٹری قیادت بھی موجود تھی۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا