برصغیر کے معروف حکیم اجمل دواخانے کی تاریخ جو مغلوں سے ملتی ہے

حکیم اجمل خان کا شمار 20 ویں صدی کے عظیم مسلم رہنماؤں میں ہوتا ہے۔ وہ نہ صرف ایک عظیم طبیب تھے بلکہ ایک عظیم انسان دوست بھی تھے اور ان کی یہ خوبیاں طب، تعلیم اور سماجی بہبود کے شعبوں میں ان کے کاموں سے ظاہر ہوتی ہیں۔

انڈیا میں 1720 میں حکیم شریف خان نے اپنی حویلی کے نام کی مناسبت سے اپنے خانوادے کا نام ’خاندانِ شریفی‘ رکھا، جو اب پاکستان تک پھیل چکا ہے۔ ان کے والد حکیم اکمل خان عرف حاجی الملک، مغل بادشاہ محمد شاہ رنگیلا کے شاہی حکیم تھے۔

یہ خاندان اصل میں آگرہ کا رہنے والا تھا، لیکن جب شاہجہان آباد بنا تو یہ لوگ اورنگزیب کے دور میں دہلی آئے اور تب سے یہ خاندان بالیماران میں رہ رہا ہے۔

حکیم اکمل خان کے بعد ان کے بڑے بیٹے حکیم شریف خان نے ان کی جگہ لی اور ان کے بعد ان کے سب سے چھوٹے بیٹے صادق علی خان نے ان کی جگہ لی۔

خاندانِ شریفی کی یہ رسم تھی کہ خاندان کا سردار وہی ہوگا جو شریف منزل میں رہتا ہے۔ صادق علی خان کے بعد غلام محمود خان کو یہ ذمہ داری سونپی گئی، ان کے بعد عبدالمجید خان، ان کے بعد ان کے چھوٹے بھائی واصل خان، اجمل خان، حکیم محمد احمد خان، ان کے بعد ظفر خان، پھر جمیل خان اور پھر محمود احمد خان حکمران بنے اور اب مسرور احمد خان، شریف خاندان کے موجودہ جانشین ہیں۔

شریف منزل نے مختلف ادوار میں مختلف کردار ادا کیے، یہاں سے آزادی کی مہم بھی شروع ہوئی۔ یہاں محفلیں بھی سجائی گئیں اور جشن بھی منایا گیا، جہاں ہندوستان کے مختلف حصوں سے راجے، مہاراجے اور نواب آتے تھے۔

آج انڈیا میں ایسے جائز اور قانونی طبی حکام موجود ہیں جو صرف اسی خاندان سے منسلک تھے۔ وہ مشہور ہندوستانی دواخانے اور طبیہ کالج اسی خاندان کی نگرانی میں چلاتے تھے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پٹیالہ، نابھہ، گوالیار، جند اور رام پور جیسی درجن بھر ریاستوں کے شاہی حکیم اسی خاندان شریفی سے تعلق رکھتے تھے۔

1868 میں حکیم اجمل خان کھنڈہ شریفی میں پیدا ہوئے۔ حکیم اجمل خان، حکیم محمود خان کے تین بیٹوں میں سب سے چھوٹے تھے۔ اجمل خان خاندان کے ذہین آدمی تھے۔ انہوں نے سات سال کی عمر میں قرآن پاک حفظ کیا اور عربی، فارسی، اردو اور انگریزی زبانیں سیکھ لیں۔

حکیم اجمل خان کا شمار 20 ویں صدی کے 100 عظیم مسلم رہنماؤں میں ہوتا ہے۔ وہ نہ صرف ایک عظیم طبیب تھے بلکہ ایک عظیم انسان دوست بھی تھے اور ان کی یہ خوبیاں طب، تعلیم اور سماجی بہبود کے شعبوں میں ان کے کاموں سے ظاہر ہوتی ہیں۔

طبی تعلیم کے میدان میں انہوں نے حکیم عبدالمجید خان کے قائم کردہ مدرسہ طبیہ کو نئی دہلی میں آیورویدک اور یونانی طبیہ کالج کے نام سے ایک مکمل کالج میں ڈھالا تھا۔

حکیم اجمل خان نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کی بنیاد رکھی جو ’ہندوستان چھوڑو تحریک‘ کا نتیجہ تھی، جس میں سینکڑوں طلبہ تھے، جنہوں نے انگریزوں کے خلاف ناراضگی ظاہر کرنے کے لیے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں اپنی ڈگریاں ترک کردیں۔

1927 میں پراسرار حالات میں ان کی موت کے بعد انہیں دہلی میں خاندانی قبرستان میں دفن کیا گیا۔ 1987 میں ہندوستان کے اس وقت کے صدر نے حکومت کی جانب سے ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا اور یہاں ایک تفریحی پارک اور سڑک بھی ان کے نام سے منسوب ہے۔

جب تقسیم ہند ہوئی تو حکیم محمد نبی خان، جو حکیم محمد اجمل خان کے پوتے تھے، نے پاکستان نقل مکانی کی اور یہاں آکر انہوں نے ایک دواخانے کی بنیاد رکھی جب آج بھی دواخانہ حکیم اجمل خان کے نام سے مشہور ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی صحت