بچوں کو گدھا گاڑی پر پولیس سٹیشن گھمانے والا ’پنڈ دا ماسٹر‘

استاد نے بتایا کہ یہ بچوں کا پہلا دورہ نہیں ہے بلکہ وہ اب تک بچوں کو 40 مختلف جگہوں کے دورے کروا چکے ہیں جو کہ ان کے نصاب کا نہ حصہ تھے نہ انہیں سکول انتظامیہ کی جانب سے کوئی مالی تعاون ملا۔

چند روز قبل سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو دیکھی جس میں گدھا گاڑی پر ایک سرکاری سکول کے بچے سوار تھے اور وہ اپنے استاد کے ساتھ اپنے علاقے کا پولیس تھانہ دیکھنے جارہے تھے۔

ویڈیو دیکھنے سے معلوم ہوا کہ ان کے استاد انہیں تعلیمی نصابی دورے پر پولیس سٹیشن لے کر جارہے ہیں۔ 

انڈپینڈنٹ اردو نے ان استاد کو ڈھونڈ نکالا۔ ان کا نام گل زادہ خان سیفی ہے اور  وہ 2012 سے تعلیم کے شعبے سے منسلک ہیں۔ 

گل زادہ ایک انوکھے استاد ہیں اور گورنمنٹ پرائمری سکول کامونکی میں تسیری جماعت کو پڑھاتے ہیں۔ ان کے مطابق چند روز قبل انہوں نے بچوں کو واقفیت عامہ کے مضمون میں شہریوں کے حقوق و فرائض پڑھائے تو سوچا بچوں کو پولیس تھانہ دکھایا جائے۔

گل زادہ خان نے بتایا کہ اس روز انہیں بچوں کو تعلیمی دورے پر لی جانے کے لیے کوئی سواری نہ مل سکی تو گاؤں کے ہی ایک شخص جو گدھا گاڑی چلاتے ہیں اور ایک طالب علم کے والد بھی ہیں انہیں اپنی جیب سے کچھ رقم دی اور سکول سے دو تین کلومیٹر دور تھانہ صدر کامونکی لے گئے۔

’بچے گدھا گاڑی پر بیٹھ گئے اور میں ساتھ پیدل چلتا رہا۔‘  

گل زادہ نے بتایا کہ یہ بچوں کا پہلا دورہ نہیں ہے بلکہ وہ اب تک اپنی جماعت کے بچوں کو 40 مختلف جگہوں کے دورے کروا چکے ہیں جو کہ ان کے نصاب کا نہ حصہ تھے نہ انہیں سکول انتظامیہ کی جانب سے کوئی مالی تعاون ملا۔

انہوں نے بتایا: ’میرے ہیڈ ٹیچر بہت اچھے ہیں اور ان کی حوصلہ افزائی سے میں یہ کام کرتا ہوں۔ میں دراصل روایتی طریقہ تعلیم پر یقین نہیں رکھتا بلکہ جو کچھ بچوں کو پڑھاتا ہوں، چاہتا ہوں وہ خود عملی طور پر اسے دیکھیں اور سمجھیں۔

’مثال کے طور پر میں نے بچوں کو بجلی کی سپلائی کے بارے میں پڑھایا ہے تو سکول کے قریب ہی ایک گرڈ سٹیشن ہے تو میں انہیں وہاں لے گیا۔ صحت کے بارے میں پڑھایا تو میں بچوں کو ہسپتال دکھانے لے گیا۔ میں نے اپنی طرف سے ایک نیا طریقہ تعلیم متعارف کروایا ہے۔ عموماً اساتذہ  بچوں کو پڑھا کر اگلے دن سبق یاد کر کے آئیں لیکن بچوں کو وہ چیز سمجھ ہی نہیں آئی ہوتی۔‘

انہوں نے بتایا کہ اس طریقہ تعلیم کے پیچھے ان کا کچھ مقصد تھا۔

’پہلا مقصد تو یہ تھا کہ بچے جو پڑھیں اسے عملی طور پر خود آنکھوں سے دیکھ کر سمجھیں اور دوسرا مقصد ان بچوں کے اعتماد میں اضافہ کرنا تھا۔ کیونکہ ہمارے سکول میں تقریباً 99 فیصد بچے بھٹہ مزدوروں اور دیگر غریب گھرانوں سے ہیں اور انہیں ایسے مواقع میسر نہیں آتے۔

مجھے خوشی ہے کہ میرے اس طریقہ تعلیم سے میرے طالب علم بہت خوشی سے باقاعدہ سکول آتے ہیں۔‘ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بات یہیں ختم نہیں ہوتی فیلڈ ٹرپس کے علاوہ گل زادہ بچوں کو آرٹ کے ذریعے بھی بہت کچھ لطف اندوز طریقے سے پڑھاتے ہیں۔

گل زادہ ایک بہت اچھے آرٹسٹ بھی ہیں اس لیے وہ مختلف شخصیات کی تصاویر یا مضامین کے بارے میں سفید چارٹ پیپر پر بڑی بڑی ڈرائینگز بنا کر کلاس میں لگاتے ہیں اور وہاں سے بچوں کو سمجھاتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ کھیلوں کے حوالے سے انہوں نے حالیہ میراڈونا اور میسی کی تصاویر بنائیں اور وہ بچوں کی کلاس میں لگا کر انہیں ان کھلاڑیوں کے بارے میں کہانیاں سنائیں۔ 

 ’جب میں پڑھ رہا تھا تو مجھے استاد بہت سخت ملے، اتنے سخت کہ میں نے سکول چھوڑ دیا اور دو تین سال ایک ورکشاپ پر کام کیا۔ پھر جنیجو صاحب کے دور میں نئی روشنی سکول متعارف ہوا تو وہاں ورکشاپوں پر کام کرنے والے بچوں کو تعلیم دی جاتی تھی۔ میں بھی وہاں چلا گیا۔ وہاں خوش قسمتی سے مجھے استاد اچھا مل گیا اور میرا پڑھائی کو شوق پھر جاگ گیا۔ میں نے صحافت میں بی ایس کیا اور ایم اے انٹر نیشنل رلیشنز میں کیا اور کچھ عرصہ صحافت بھی کی لیکن پھر تعلیم کا شعبہ اختیار کیا۔‘

گل زادہ نے بتایا کہ انہوں نے اپنی جماعت میں سونے کی ایک جگہ بھی بنائی ہوئے ہے۔

’چونکہ بیشتر بچے بھٹہ مزدوروں کے ہیں تو اکثر یہ بچے بھی اپنے والدین کے ساتھ کام کرتے ہیں تو میں ان کی شکلیں دیکھ کر جان جاتا ہوں کہ وہ تھکے ہوئے ہیں۔ اس لیے میں انہیں کہتا ہوں کہ وہ سو جائیں۔ اس طرح وہ کچھ دیر آرام بھی کر لیتے ہیں۔‘

ان کے مطابق شاید یہی وجہ ہے کہ بچے جس دن سکول کی چھٹی ہو اس دن اداس ہو جاتے ہیں۔ گل زادہ خان ان بچوں کے لیے مختلف کھیلوں کا سامان بھی لائے ہوئے ہیں اور ان کے ساتھ فارغ وقت میں کرکٹ اور فٹ بال وغیرہ بھی کھیلتے ہیں۔

’ابھی چند روز پہلے میں بیمار ہوا تو میری کلاس کے بچوں نے دس، دس روپے ڈال کر پیسے جمع کیے اور کچھ پھل لے کر میرے گھر آ گئے اور سارا دن ہی وہ وہاں میرے پاس بیٹھے رہے۔‘ 

گل زادہ خان سیفی کہتے ہیں کہ کسی فلسفی نے کہا تھا کہ اگر سکول میں بچے چھٹی کا انتظار بے صبری سے کرتے ہیں تو سمجھ جائیں کہ وہ سکول میں خوش نہیں ہیں۔ اور میں جانتا ہوں کہ میری کلاس کے بچے جب سکول آتے ہیں تو وہ پوری خوشی اور بغیر کسی ڈر کے آتے ہیں۔ 

گل زادہ خان نے اپنی انہیں تعیمی سرگرمیوں کے لیے 'پنڈ دا ماسٹر' کے نام سے یو ٹیوب چینل بھی بنایا ہوا ہے۔ گل زاد خان سیفی نے بتایا کہ ان کے اس طریقہ تعلیم سے ان کے دیگر ساتھی کچھ زیادہ خوش نہیں ہیں۔ چونکہ گل زادہ اپنے اس طریقہ تعلیم کے حوالے سے سوشل میڈیا پر بھی تصاویر و ویڈیوز شئیر کرتے رہتے ہیں اس لیے انہوں نے بتایا کہ ان کے ساتھی اساتذہ کو یہ ڈر ہے کہ اگر افسران بالا نے ان کے اس طریقہ تعلیم کو دیکھ لیا تو وہ باقی اساتذہ کو بھی ویسا ہی کرنے کو کہیں گے جس سے ان کے کام کا بوجھ بڑھ جائے گا۔  

ان کا کہنا تھا کہ سرکاری سکولوں میں تعلیمی دورے پہلے ہوا کرتے تھے لیکن اب صرف سیکنڈری اور ہائی سکول لیول پر ہوتے ہیں اور وہ بھی بہت ہی کم۔ اس لیے وہ اپنی جیب سے اپنی کلاس کے بچوں کو تعلیمی دوروں پر لے کر جاتے ہیں جس سے نہ صرف وہ سیکھتے ہیں بلکہ انہیں تفریح کا بھی ایک موقع ملتا ہے۔ 

شیخوپورہ کے ایک سینئیر پولیس افسر خرم ڈوگر بھی گل زادہ خان کو جانتے ہیں ان کا کہا ہے، ’گلزادہ خان سیفی جیسے استاد اور ان سے ہمارے اس معاشرے کے لیے ایک نعمت ہیں جو سرکاری سکول میں ہمارے غربا کے بچوں کو وہ معیاری تعلیم دے رہے ہیں جو امرا کے بچے لاکھوں روپے خرچ کر کے حاصل کرتے ہیں۔ ان جیسے انسان معاشروں کا تعارف اور خوبصورت چہرہ ہوا کرتے ہیں۔‘ 

زیادہ پڑھی جانے والی کیمپس