2019 میں پاکستان، انڈیا کی ایٹمی جنگ کو امریکہ نے ٹالا: پومپیو

امریکہ کے سابق وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے اپنی کتاب ’نیور گِو  اے انچ‘ میں لکھا: ’مجھے نہیں لگتا دنیا جانتی ہے کہ فروری 2019 میں پاکستان اور انڈیا کی دشمنی جوہری جنگ کی طرف بڑھنے کے کتنا قریب پہنچ گئی تھی۔‘

 21 اپریل 2021 کو لی گئی اس تصویر میں سابق امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو واشنگٹن ڈی سی میں ایک پریس کانفرنس کے دوران (اے ایف پی)

امریکہ کے سابق وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے منگل کو شائع ہونے والی ایک کتاب میں لکھا ہے کہ انڈیا اور پاکستان 2019 میں جوہری جنگ کے قریب پہنچ گئے تھے اور امریکی مداخلت نے کشیدگی کو بڑھنے سے روکا تھا۔

فرانسیسی خبررساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلیٰ سفارت کار اور سابق سی آئی اے چیف کی حیثیت سے اپنی یادداشت ’نیور گِو  اے انچ‘ (Never Give In Inch) میں مستقبل کے ممکنہ صدارتی امیدوار نے لکھا: ’مجھے نہیں لگتا دنیا جانتی ہے کہ فروری 2019 میں پاکستان اور انڈیا کی دشمنی جوہری جنگ کی طرف بڑھنے کے کتنا قریب پہنچ گئی تھی۔‘

انڈیا نے فروری 2019 میں پاکستانی علاقے پر فضائی حملہ کیا تھا، تاہم پاکستان نے انڈیا کا جنگی طیارہ مار گرایا اور پائلٹ ابھی نندن ورتھمان کو گرفتار کرلیا تھا۔

اس واقعے سے قبل انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں ایک خودکش حملے میں 41  انڈین نیم فوجی اہلکار مارے گئے تھے، جس کا ذمہ دار  انڈیا نے ایک عسکریت پسند گروپ کو ٹھہرایا تھا۔

مائیک پومپیو، جو اس وقت ڈونلڈ ٹرمپ اور شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کے درمیان ملاقات کے لیے ہنوئی میں تھے، نے کہا کہ انہیں ایک سینیئر انڈین عہدیدار کی فوری کال نے نیند سے جگایا۔

انہوں نے لکھا: ’انہیں یقین تھا کہ پاکستانیوں نے اپنے جوہری ہتھیاروں کو حملے کے لیے تیار کرنا شروع کر دیا ہے۔ انہوں نے مجھے آگاہ کیا کہ انڈیا کشیدگی میں اضافے پر غور کر رہا ہے۔‘

پومپیو نے کہا: ’میں نے ان سے کہا کہ وہ کچھ نہ کریں اور معاملات کو حل کرنے کے لیے ہمیں کچھ وقت دیں۔‘

پومپیو نے کہا کہ امریکی سفارت کاروں نے انڈیا اور پاکستان دونوں کو باور کروایا کہ کوئی بھی جوہری جنگ کی تیاری نہیں کر رہا ہے۔

پومپیو نے لکھا: ’خوفناک نتائج سے بچنے کے لیے جو کچھ ہم نے اس رات کیا، کوئی اور ملک ایسا نہیں کر سکتا۔‘

پومپیو نے سویلین حکومتوں کی کمزوری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اس وقت کے پاکستانی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے بات کی۔

پومپیو نے اس وقت کھلے عام انڈیا کے کارروائی کرنے کے حق کا دفاع کیا تھا۔

 انہوں نے اپنی کتاب میں انڈیا کے بارے میں بہت زیادہ بات کی ہے اور نئی دہلی کے حکام کے برعکس چینی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے انڈیا کے ساتھ اتحاد کرنے کی اپنی خواہش کو پوشیدہ نہیں رکھا۔

انڈیا اور اس کے بعد پاکستان نے 1998 میں جوہری تجربہ کیا۔ اس وقت کے امریکی صدر بل کلنٹن نے کہا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان منقسم کشمیر ’دنیا کی سب سے خطرناک جگہ‘ ہے۔

پومپیو نے اپنی کتاب میں شمالی کورین رہنما کم جونگ ان کے ساتھ اپنی سفارت کاری کے متعلق بھی لکھا ہے، جس میں نوجوان مطلق العنان رہنما اور ٹرمپ کے درمیان تین ملاقاتوں کی تیاری بھی شامل ہے۔

وہ مارچ 2018 میں سی آئی اے کے ڈائریکٹر کی حیثیت سے ایک خفیہ دورے پر پیانگ یانگ گئے تھے۔ انہوں نے اس وقت ہونے والی بات چیت کو یاد کرتے ہوئے لکھا کہ کم جونگ ان نے مجھ سے کہا: ’میں نے نہیں سوچا تھا کہ آپ آئیں گے۔ میں جانتا ہوں کہ آپ مجھے قتل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

پومپیو کے مطابق: ’میں نے تھوڑا سا جھکتے ہوئے مذاق کیا، جناب چیئرمین، میں اب بھی آپ کو مارنے کی کوشش کر رہا ہوں۔‘

ٹرمپ انتظامیہ نے کشیدگی کم کرنے کے لیے شمالی کوریا کو مراعات پیش کیں لیکن مائیک پومپیو نے اسے کم جونگ ان کے ساتھ ابھرتی ہوئی مفاہمت کے طور پر بیان کیا۔

پومپیو نے کم جونگ ان کی تمباکو نوشی کی عادت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے لکھا کہ انہوں نے کم جونگ ان سے کہا کہ وہ انہیں ’میامی کے سب سے اچھے ساحل پر لے جائیں گے اور دنیا کے بہترین کیوبن سگار پئیں گے۔‘

انہوں نے مجھ سے کہا: ’کاسترو خاندان کے ساتھ میرے پہلے ہی بہت اچھے تعلقات ہیں۔‘

پومپیو نے کہا کہ کم جونگ ان نے چین کے بارے میں خدشات پر کھل کر بات کی، جسے عام طور پر شمالی کوریا کا اہم اتحادی سمجھا جاتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پومپیو کے مطابق: ’انہیں بتایا گیا کہ چین کو یقین ہے کہ شمالی کوریا امریکی افواج کو جنوبی کوریا سے نکالنا چاہتا ہے، جس پر کم جونگ ان نے ہنستے ہوئے خوشی سے میز پر  ہاتھ مار کر کہا کہ چینی جھوٹے ہیں۔‘

پومپیو نے چینی کمیونسٹ پارٹی (سی سی پی) کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ ’کم جونگ ان نے کہا کہ سی سی پی سے بچانے کے لیے انہیں جنوبی کوریا میں امریکیوں کی ضرورت ہے اور سی سی پی چاہتا ہے کہ امریکی نکل جائیں تاکہ وہ اس جزیرہ نما علاقے کے ساتھ تبت اور سنکیانگ جیسا برتاؤ کرسکیں۔‘

پومپیو چین کے بارے میں اپنے سخت موقف کی وجہ سے مشہور ہیں۔ انہوں نے بیجنگ پر ’ووہان وائرس‘ پھیلانے کا متنازع الزام بھی عائد  کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ٹرمپ نے انہیں بتایا کہ چینی صدر شی جن پنگ مجھ سے ’نفرت کرتے ہیں‘ اور پومپیو سے کہا کہ ’کچھ وقت کے لیے چپ رہیں‘ کیونکہ امریکہ کو چین سے صحت سے متعلقہ اشیا چاہیں۔

پومپیو نے کہا: ’میں اس بات سے خوش نہیں تھا کہ صدر نے ٹویٹ کیا کہ سی سی پی وائرس کے حوالے سے اچھا کام کر رہی ہے اور شی جن پنگ کی تعریف کی۔‘

لیکن میں حالات کو سمجھتا ہوں - ہمیں صحت سے متعلقہ آلات کی ضرورت تھی اور اس کے لیے ہم سی سی پی کے رحم و کرم پر تھے۔ میں نے صدر کے لیے کام کیا اور میں اپنی باری کا انتظار کروں گا۔‘

مائیک پومپیو نے 2024 کے صدارتی انتخابات میں رپبلکن پارٹی کی جانب سے صدارتی نامزدگی کے لیے ٹرمپ کے مد مقابل آنے سے انکار نہیں کیا ہے، حالانکہ ابتدائی جائزوں میں پومپیو کے لیے بہت کم حمایت دیکھی گئی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی امریکہ