کھوٹے سکے چل گئے!

عمران خان حزب اختلاف میں تھے تو اخلاقیات کا پیمانہ کچھ اور تھا، آج اقتدار میں ہیں تو پیمانہ کچھ اور ہے۔

سیاسی جماعتوں کو سوچنا ہوگا کہ آخر ان کے مینڈیٹ پر آیا ہوا شخص اپنی وفاداری کیوں بدل لیتا ہے اور ایسے کھوٹے سکوں کو ٹکٹ کیوں دیا جاتا ہے؟(اے ایف پی)

عام انتخابات کو ایک برس بیت چکا ہے۔ اس دوران کئی ایک واقعات رونما ہوئے، جن کے باعث حزب اقتدار کو ہزیمت اٹھانا پڑی مگر حزب اختلاف نے پیہم نشیب کا ہی سفر طے کیا ہے۔ ہماری دھرتی پر یہ کہر کا موسم ہے۔ مواقع محدود، راستےمسدود، چمن ہے کہ اجڑا چلا جاتا ہے۔ چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوگئی ہے کہ وطن عزیز میں غنیم کے لشکرجب چاہیں جمہوریت کی مانگ اجاڑ سکتے ہیں۔ 

حزبِ اختلاف کے 14 لوگ  اپنی وفاداری اپنی جماعتوں کی بجائے کہیں اور گروی رکھ آئے تھے۔ بساط بچھانے والوں نے ایک بار پھر ثابت کردیا ہے کہ اس ملک میں ’اصل حکمران‘ وہی ہیں۔ کونسا مہرہ کب ہلانا ہے، کس باری پر کونسی چال چلنی ہے اور کب ’دشمن‘ کے دانت کھٹے کرنے ہیں کہ مقابل انگشت بہ دندان رہ جائے۔ حزب اختلاف نے جب سے چیئرمین سینیٹ کی تبدیلی کا راگ الاپنا شروع کیا تو حکومتی لوگ تسلسل سے دعویٰ کرتے چلے آ رہے تھے کہ اپوزیشن کے رہنماؤں کی بڑی تعداد ہماری جیب میں ہے۔ مگر افسوس کہ حزب اختلاف نےاس موقع پر اچیت پن کا مظاہرہ کیا اور اسے دیوانے کی بڑقیں قرار دیا۔ نتیجہ بدترین شکست و ریخت کی صورت میں نکلا!!!

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

عمران خان حزب اختلاف میں تھے تو اخلاقیات کا پیمانہ کچھ اور تھا، آج اقتدار میں ہیں تو پیمانہ کچھ اور ہے۔ سینیٹ انتخابات میں ہونے والی خریدو فروخت پر اپنے 20 ایم پی ایز کے خلاف کارروائی کرنے والے کپتان، تحریک عدم اعتماد کے روز میچ فکسنگ کے بادشاہ بن کر ابھرے ہیں۔ ایوان  بالا کے گذشتہ انتخابات میں خفیہ رائے شماری پر انہیں شدید تحفظات تھے مگر آج وہ اسی کیچڑ میں گردن تک دھنسے ہوئے مسکرا رہے ہیں۔ خفیہ رائے شماری کو ایوان کی توہین اور بےتوقیری سمجھنے والے خود کیوں بےتوقیر ی کا سبب بن رہے ہیں۔ وزیراعظم کے حواریوں نے خوب ڈھول پیٹے کہ باضمیر سینیٹرز نے اپنےضمیر کی آواز پر لبیک کہا ہے اور اپنی جماعت کے بیانیے کو یک جنبش لب مسترد کردیا ہے۔ جاننا چاہیے کہ ایسے باضمیر لوگوں کا ضمیر چند لمحوں کے بعد ہی محو خواب کیوں ہوجاتا ہے۔

کھوٹے سکوں کا کاروبار وطنِ عزیز میں اوّل روز سے چلا آ رہا ہے۔ صحافت کی راہداریوں سے لے کر سیاست کے گلی کوچوں تک،  مقتدر حلقوں نے جال بچھا رکھا ہے۔ جہاں چاہتے ہیں، دگنے داموں ان کا لین دین ہوتا ہے۔ صادق سنجرانی کی قسمت بدلنے پر بھی یہی کھوٹےسکے صادق آئے۔ سبحان اللہ ! کیا ہنر ہے۔ شاعر نے ساری بات ایک شعر میں کہہ دی:

؎اب جو دیکھیں تو بہت صاف نظر آتے ہیں

سارے منظر بھی، پس منظر بھی

حکومت کی لگام صاحبانِ ذی وقار کے ہاتھ میں ہے، سفر اور منزل کا تعین وہیں سے ہوتا ہے۔ تخت شاہی پر بیٹھے عمران خان ماضی میں کہی ہوئی تمام باتیں تنسیخ کرچکے ہیں۔ کہاں وہ تنقید، ہارس ٹریڈنگ پر طویل بھاشن اور کہاں یہ حرف ستائش اور  مبارک بادیں۔  حیدر علی آتش  بھی کیا خوب کہہ گئے ہیں

زمین چمن گل کھلاتی ہے کیا کیا

بدلتا ہے رنگ آسماں کیا کیا

سیاسی جماعتوں کو سوچنا ہوگا کہ آخر ان کے مینڈیٹ پر آیا ہوا شخص اپنی وفاداری کیوں بدل لیتا ہے اور ایسے کھوٹے سکوں کو ٹکٹ کیوں دیا جاتا ہے؟

کیا ہماری حزب اختلاف کی جماعتیں ان کھوٹے سکوں کے خلاف ٹھوس اقدامات اٹھائیں گی؟ کیا ہماری سیاسی جماعتیں خفیہ رائے شماری کے قانون میں ترمیم کریں گی؟ ان سوالات کے عملی اور مثبت جوابات ہی جمہوریت کی مانگ میں سندور بھر سکتے ہیں وگرنہ یہ شعر تو آئینہ ہے!

؎  ہرسمت خیل سپاہ غنیم ہے

لیکن ادھر ہیں قلعے میں گنتی کے جاں نثار

۔۔۔۔۔۔۔

تعارف: صاحب تحریر بطور صحافی ایک نجی ٹیلی ویژن میں کام کر رہے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ