امریکہ نے 37 چینی اور روسی اداروں کو بلیک لسٹ کر دیا

امریکی کہ جانب سے بلیک لسٹ کرنے کی وجوہات میں روسی فوج سے تعاون، چین کی فوج کی حمایت اور میانمار اور چین میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں سہولت کاری شامل ہیں۔

24 مارچ 2022 کو لی گئی اس تصویر میں چین اور روس کے جھنڈے آویزاں ہیں (روئٹرز/ فائل)

امریکہ نے 37 اداروں کو متفرق وجوہات کی بنا پر تجارتی بلیک لسٹ میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان میں روسی فوج سے تعاون، چین کی فوج کی حمایت اور میانمار اور چین میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں سہولت کاری جیسی وجوہات شامل ہیں۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اس بات کا اعلان امریکی کے محکمہ تجارت نے جمعرات کو کیا۔

محکمہ تجارت کی اسسٹنٹ سکریٹری تھیا کینڈلر نے ایک بیان میں کہا: ’جب ہم ایسے اداروں کی نشاندہی کرتے ہیں جو امریکہ کے لیے قومی سلامتی یا خارجہ پالیسی کے حوالے سے تشویش کا باعث ہیں، تو ہم انہیں اینٹیٹی لسٹ میں شامل کرتے ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ ہم ان کے لین دین کی جانچ کر سکتے ہیں۔‘

اس سے قبل جمعرات کو انڈیا میں ہونے والے گروپ 20 کا وزارتی اجلاس روس اور چین کے موقف کے باعث بغیر اعلامیے کے ختم ہو گیا۔

انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی میں ہونے والا جی ٹوئنٹی اجلاس کسی اتفاق رائے کے بغیر ختم ہو گیا جس کی وجہ روس یوکرین جنگ پر اس فورم کے ارکان کے موقف میں بڑا فرق تھا۔

اجلاس کے دوران امریکی وزیر خارجہ اینٹنی بلنکن اور روسی ہم منصب سرگے لاوروف کے درمیان ایک مختصر ملاقات بھی ہوئی تاہم روس اور چین کے اعتراض کے باعث اجلاس کے اختتام پر کوئی مشترکہ اعلامیہ جاری نہ ہو سکا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

امریکی وزیرخارجہ اینٹنی بلنکن نے اس ملاقات کے حوالے سے کہا ہے کہ انہوں نے روس سے یوکرین کی جنگ ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

اجلاس کے موقعے پر روس اور چین کے وزرائے خارجہ کی ملاقات کے بعد روسی وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق دونوں ملکوں نے جمعرات کو دوسرے ملکوں کو ’بلیک میل کرنے اور دھمکیاں‘ دینے پر مغربی ممالک پر تنقید کی ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق روسی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ ’دوسرے ممالک کے داخلی معاملات میں مداخلت، بلیک میلنگ، دھمکیوں کے ذریعے یکطرفہ سوچ مسلط کرنے اور بین الاقوامی تعلقات کو جمہوری بنانے کی مخالفت کرنے کی کوششوں کو متفقہ طور پر مسترد کر دیا گیا۔‘

ماسکو نے یہ بیان روسی وزیر خارجہ سرگے لاوروف کے نئی دہلی میں جی ٹوئنٹی سربراہی اجلاس کے موقع پر چینی وزیر خارجہ کِن گانگ سے ملاقات کے بعد جاری کیا۔

ماسکو کا کہنا ہے کہ دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ نے یوکرین میں روس کی فوجی مہم پر بھی تبادلہ خیال کیا جس میں تنازعے کے خاتمے کے لیے بیجنگ کی تجویز بھی شامل تھی۔

بیان میں زیر بحث آنے والے معاملات پر موقف کے حوالے سے دونوں ملکوں کی ’انتہائی قربت‘ کی جانب بھی اشارہ کیا گیا۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا