کچے میں پنجاب اور سندھ پولیس کا آپریشن کتنا کارگر؟

1990 کی دہائی سے ہی تقریباً ہر سال کچے کے ڈاکوؤں کے خلاف پولیس آپریشنز کا سلسلہ جاری ہے مگر ان کا خاتمہ نہیں ہو سکا۔ اس بار کیا مختلف ہے؟

سندھ اور پنجاب پولیس کے دونوں صوبوں میں پھیلے دریائے سندھ کے کچے میں موجود ڈاکوؤں کے خلاف بیک وقت جاری آپریشن کو پولیس حکام کے مطابق اب مزید تیز کیا جا رہا ہے۔

دریائے سندھ کے کچے کے ڈاکوؤں کے خلاف شمالی سندھ میں پنجاب کی سرحد سے ملنے والے اضلاع کشمور اور گھوٹکی میں آپریشن وقفے وقفے سے کئی دنوں سے جاری ہے۔ تاہم پنجاب میں یہ آپریشن نو اپریل کو شروع کیا گیا۔

نیشنل سکیورٹی کونسل کے حکم پر پنجاب میں شروع ہونے والے آپریشن کی قیادت آئی جی ڈاکٹر عثمان انور کررہے ہیں، جب کہ سندھ پولیس کے مطابق ضلع کشمور کے درانی مہر کچے میں سندھ پولیس کے آپریشن کی قیادت آئی جی سندھ غلام نبی میمن کر رہے ہیں۔

سندھ پولیس نے حال ہی میں ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن میں حصہ لینے والے پولیس اہلکاروں کو ایک ماہ کی بنیادی تنخواہ بونس دینے کا اعلان کیا تھا۔

آئی جی پولیس پنجاب کے ترجمان نایاب حیدر کے مطابق منگل کی شام تک ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن کو تین روز مکمل ہو گئے ہیں۔ بقول ان کے ’اس دوران پولیس کی فائرنگ سے ایک ڈاکو ہلاک، چھ ڈاکوؤں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ سرچ آپریشن کے دوران ایک بڑا علاقہ ڈاکوؤں کے قبضہ سے خالی کرا لیا گیا ہے۔‘

آپریشن کے دوران چند روز قبل رحیم یار خان کی تحصیل خان پور میں ڈرائیور کے ساتھ سکول جاتے ہوئے اغوا ہونے والے دو کمسن بچوں صبحان اور کاشان کو بازیاب کرایا گیا ہے۔

مقامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے کہا کہ ’کچے کےعلاقے میں پولیس چوکیاں بحال کرنا پہلی ترجیح ہے۔ سندھ پولیس بھی پنجاب پولیس کے ساتھ آپریشن میں ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن کر رہی ہے۔ کچے کے علاقے سے مجرموں کی پناہ گاہوں کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا، ریاست اور قانون کی رٹ کو بحال کیا جائے گا۔‘ 

آئی جی پنجاب کے مطابق ’کچے میں آپریشن کے لیے پولیس کی نفری کو جدید اسلحہ سے لیس کیا گیا ہے اور بکتر بند گاڑیوں کے علاوہ انہیں سی ٹی ڈی، سپیشل برانچ اور قانون نافذ کرنے والے تمام اداروں کی معاونت بھی حاصل ہو گی۔‘

وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے اپنے بیان میں کچے میں آپریشن پر پنجاب پولیس اور آئی جی پنجاب کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ’اس آپریشن میں اغوا شدہ دو معصوم بچوں کی زندہ سلامت بازیابی پنجاب پولیس کی عمدہ کارکردگی کی عکاس ہے۔‘

وزیر داخلہ کے مطابق ’آئی پنجاب نے آپریشن کو خود لیڈ کر کے ایک عمدہ اور اعلیٰ مثال قائم کی اور کچے کے علاقے کو ڈاکووں سے پاک کرنے کے لیے پنجاب پولیس کا آپریشن قابل ستائش ہے، وفاقی حکومت پوری طرح سے اس آپریشن کے ساتھ کھڑی ہے۔ اس آپریشن میں وفاقی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے ہر ممکن مدد فراہم کی جائے گی۔‘ 

وزیر داخلہ نے بیان میں کہا کہ اس آپریشن میں حصہ لینے والے جوانوں، افسران اور آئی جی پنجاب کی فرض شناسی اور دلیری کی حوصلہ افزائی کی جائے گی، اس سلسلے میں وزارت داخلہ وزیر اعظم کو سفارش کرے گی۔

حکام کے مطابق اس وقت پنجاب کے رحیم یار خان اور راجن پور کے کچے میں انڈھڑ گینگ، لونڈ گینگ، دولانی اور شر گینگ سرگرم ہیں۔

سندھ کے کشمور ضلع کے سینیئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) عرفان سموں کے مطابق پنجاب کی سرحد سے لگنے والے سندھ کے اضلاع کشمور اور گھوٹکی کے علاوہ سکھر میں کچے کے ڈاکوں کے خلاف آپریشن شروع کیا گیا۔ اس کے شکارپور ضلع پولیس کی بھی مدد مانگی گئی ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے عرفان سموں نے کہا کہ ’کچے کے تمام داخلی راستوں پر پولیس ناکے قائم کردیے گئے ہیں، تاکہ کچے میں موجود ڈاکوؤں کی رسد، خوراک اور نقل و حرکت کو محدود کیا جا سکے۔‘

عرفان سموں کے مطابق: ’اس وقت کشمور ضلع کے ساتھ لگنے والے 72 کلومیٹر طویل درانی مہر کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں کے تین اہم گینگ سرگرم ہیں، جن میں نواب جاگیرانی گینگ، خادم بھیو گینگ اور سندرانی گینگ شامل ہیں۔ 

’ہر ایک گینگ کے پاس 40 سے 50 لوگ شامل ہیں۔ اس گھوٹکی اور سکھر میں کچھ گینگ سرگرم ہیں۔ کچے میں آپریشن شروع کرنے کے بعد ڈاکوؤں پر پریشر بڑھا ہے اور گذشتہ چند روز میں ڈاکوؤں نے چھ مغویوں کو بغیر تاوان رہا کردیا ہے۔‘

سندھ، پنجاب کے کچے میں ڈاکو کئی دہائیوں سے موجود

دریائے سندھ کے پیٹ میں واقع کچے کے علاقے میں سابق فوجی آمر ضیا الحق کے دور سے ڈاکو موجود ہیں۔ مآجی میں یہ ڈاکو دونوں صوبوں میں ڈکیتی، اغوا برائے تاوان سمیت مختلف جرائم بڑے پیمانے پر کرتے رہے ہیں۔ پولیس اور حتیٰ کہ پاکستان فوج کی جانب سے بڑے پیمانے پر آپریشنز کرنے کے بعد ڈاکوؤں کے گینگز کافی حد تک کمی واقع ہوئی ہے، مگر اس کے باجود تاحال ڈاکوؤں کا کچے سے مکمل خاتمہ نہ ہو سکا۔

ماضی میں جنوبی پنجاب میں تحصیل راجن پور کے کچے جمال میں موجود غلام رسول عرف چھوٹو کی گینگ کی دہشت ایک دہائی سے زائد تک جاری رہی۔ چھوٹو گینگ پنجاب سے سندھ کے درمیاں ڈیڑھ سو کلومیٹر تک پھیلے کچے کے علاقے کے درمیان موجود درجنوں گروہوں میں سے ایک سرکردہ گروہ تھا۔

چھوٹو گینگ کے خلاف اغوا برائے تاوان، قتل، ڈکیتی، پولیس مقابلوں کے 95 مقدمات درج ہیں اور چھوٹو کے سر کی قیمت 20 لاکھ روپے مقرر کی گئی تھی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

 2010 کے سیلاب کے بعد کچا جمال اور کچا مورو کے علاقے میں دریائے سندھ میں 10 کلومیٹر لمبا اور تین کلومیٹر چوڑا ایک جزیرہ نمودار ہوا۔ جسے چھوٹو گینگ کی مناسبت سے چھوٹو جزیرہ بھی کہا جاتا تھا۔ چھوٹو گینگ نے اس جزیرے پر ڈیرا ڈالا ہوا تھا۔

اپریل 2016 چھوٹو گینگ کے خلاف آپریشن کے دوران سات پولیس اہلکاروں جان سے گئے اور 24 اہلکارو کو یرغمال بنائے گئے۔ جس کے بعد آپریشن کی کمان پاکستانی فوج نے سنبھال لی تھی جسے پولیس اور رینجرز کی مدد حاصل تھی۔

اس آپریشن کے بعد چھوٹو گینگ کے سربراہ غلام رسول نے 12 ساتھیوں سمیت غیر مشروط طور پر ہتھیار ڈال دیے اور اغوا کیے گئے 24 پولیس اہلکار بھی بازیاب کرالیا گیا تھا۔

حالیہ پولیس آپریشن کتنا کامیاب ہو گا؟

گذشتہ چند دنوں سے سندھ اور پنجاب کے سرحد پر کچے کے علاقے میں دونوں صوبوں کی پولیس آپریشن اپنی نوعیت کا پہلا آپریشن نہیں ہے۔

بلکہ 1990 کی دہائی کے اوائل سے ہی تقریباً ہر سال چھوٹے اور درمیانے پولیس آپریشن کیے جاتے ہیں، جبکہ چند سالوں میں گرینڈ آپریشن کیا جاتا ہے۔ ان پولیس مقابلوں میں کئی پولیس افسران جان سے گئے۔ پولیس کی بُلٹ پروف بکتربند گاڑیوں میں جانے والے پولیس افسران بھی بچ نہ سکے۔ 

ان مسلسل چلانے والے آپریشنز کے باجود ڈاکوؤں کا مکمل خاتمہ نہیں ہو سکا ہے۔

حالیہ سالوں میں ڈاکوؤں کو سماجی رابطے کی ویب سائیٹس خاص طور پر فیس بک پر وائرل ویڈیوز میں پولیس کو چیلنچ کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔

یہ ڈاکو اپنے فیس بک پروفائل چلا کر ان پر اغوا کیے گئے شہریوں کی تشدد کی ویڈیو وائرل کر کے اہل خاندان سے جلد تاوان کی رقم دینے کا کہتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان ویڈیوز میں ڈاکوؤں کو پولیس افسران کا نام لے کر انہیں کچے میں آنے کے لیے للکارتے دیکھا گیا۔

اس کے علاوہ ڈاکو جدید اسلحے، اینٹی کرافٹ گن اور ڈرون کیمیرا کے نمائش کرتے دیکھا گیا۔ فیس بک پر وائرل ایک ویڈیو میں ڈرون کیمرا اٹھائے، جدید ہتھیاروں کے ایک ڈاکو یہ کہتے سنا گیا کہ ہم پولیس کی فضائی نگرانی کر رہے ہیں۔

طاقتور افراد کی پشت پناہی؟

سکھر کے سینیئر صحافی ممتاز بخاری کے مطابق سندھ کے کچے میں موجود ڈاکوؤں کو انتہائی طاقتور جاگیرداروں کی پشت پناہی حاصل ہے، جو انہیں اپنے مخالفین کے خلاف استعمال کرتے ہیں۔

ممتاز بخاری کے مطابق: 'ہر سال گندم کی فصل پکنے یا الیکشن نزدیک آنے پر ڈاکو سرگرم ہو جاتے ہیں۔ جو لوگ ان ڈاکوؤں کو جدید ہتھیار سپلائی کرتے رہیں گے اور بااثر افراد کی پشت پناہی حاصل رہے گی۔ تب تک کوئی بھی آپریشن کامیاب نہیں ہو گا۔‘ 

مگر ایس ایس پی کشمور ممتاز بخاری سے اختلاف رکھتے ہیں۔

بقول ان کے: ’یہ کہنا درست نہیں ہو گا کہ اتنے سالوں تک آپریشن کے بعد کچھ حاصل نہیں ہوا۔ ماضی میں ڈاکو دادو، لاڑکانہ، شکارپور، سکھر تک پھیلے ہوئے تھے۔ دن دھاڑے لوگوں کو اغوا کرتے تھے۔ ہائی وے پر شام کے بعد کوئی گاڑی محفوظ نہیں تھی۔ رات کو پولیس اور رینجزر کی بھاری نفری مسافر بسوں، کاروں اور ٹرکوں کو کانوائے کی صورت میں ان تمام اضالاع سے باہر نکالتی تھی۔ 

’پولیس اور سکیورٹی اداروں کے آپریشنز میں ڈاکوؤں کے کچھ گروہوں کا خاتمہ کر دیا گیا ہے۔ دادو، لاڑکانہ سے مکمل طور ڈاکوؤں کا خاتمہ کیا گیا۔ شکارپور اور سکھر میں بھی کمر توڑ دی گئی۔ اب صرف کشمور اور گھوٹکی تک محدود ہیں اور مسلسل آپریشنز کے بعد ان کو مکمل طور ختم کر دیا جائے گا۔‘ 

مئی 2021 میں سندھ کے ضلع شکارپور کی تحصیل خان پور میں ڈاکوؤں سے مقابلے میں دو پولیس اہلکار اور پولیس کے فوٹوگرافر سمیت 11 افراد ہلاک ہوئے تھے، جس کے بعد سندھ حکومت نے اعلان کیا تھا کہ جب تک تمام ڈاکوؤں کا مکمل خاتمہ نہیں کیا جائے گا یہ آپریشن جاری رہے گا۔ 

مارچ کے دوسرے ہفتے میں سندھ کی صوبائی کابینہ نے دریائے سندھ کے علاقے کچے کے ڈاکوؤں کے خلاف پولیس، رینجرز اور فوج کے مشترکہ آپریشن کا اعلان کرتے ہوئے جدید اسلحے کی خریداری کے لیے دو ارب 79 کروڑ روپے کی منظوری دے تھی۔

اس کے علاوہ سندھ حکومت نے صوبے کے سرحدی علاقوں میں ڈکیتوں کے خلاف جامع آپریشن شروع کرنے کے لیے پاک فوج اور رینجرز کی مدد کے ساتھ پولیس کو فوجی اسلحہ اور نگرانی کے لیے آلات سے لیس کرنے کے منصوبے کی منظوری دے دی تھی۔ 

سندھ حکومت نے دریائے سندھ کے کچے میں موجود ڈاکوؤں کا صفایا کرنے کے لیے تمام فورسز کے ساتھ ایک مشترکہ حکمت عملی کے تحت فیصلہ کن آپریشن شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان