غزہ پر اسرائیل کے فضائی حملے میں 12 افراد کی موت: وزارت صحت

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے فضائی حملے علاقے میں ’اسلامک جہاد‘ کے اہداف پر کیے تھے۔

فلسطینی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ غزہ کی پٹی پر منگل کی صبح کیے جانے والے اسرائیل کے فضائی حملوں میں 12 افراد کی موت ہو چکی ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے فضائی حملے علاقے میں ’اسلامک جہاد‘ کے اہداف پر کیے تھے۔

تاہم فلسطین کی وزارت صحت کے مطابق حملے میں جان سے جانے والوں میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔

اے ایف پی کے نامہ نگار نے غزہ میں ایک عمارت کی بالائی منزل پر آگ لگی دیکھی تھی جہاں سے ایمبولینس متاثرین کو نکال رہی تھیں۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے اسلامک جہاد نامی فلسطینی گروپ کے تین اعلی کمانڈرز کو نشانہ بنایا ہے۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان رچرڈ ہیچٹ نے کہا کہ فورس نے راتوں رات ہونے والے حملوں میں ’وہ حاصل کیا جو ہم حاصل کرنا چاہتے تھے،‘ جس میں ان کے بقول 40 طیاروں نے حصہ لیا۔

دوسری جانب اسلامک جہاد گروپ نے تین سینیئر کمانڈروں کی اموات کی تصدیق کی، جن میں القدس بریگیڈ ملٹری کونسل کے سیکریٹری جہاد غنم اور شمالی غزہ میں اس کونسل اور فوجی ونگ کے کمانڈر خلیل البحطینی شامل ہیں۔ تیسرے کمانڈر طارق ایزدین کو مقبوضہ مغربی کنارے کے اہم کمانڈر کے طور پر بیان کیا گیا، جو غزہ سے کام کرتے تھے۔

روئٹرز کے مطابق منگل کو زور دار دھماکوں نے غزہ کو ہلا کر رکھ دیا اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں دھویں کے بادل اور شعلے آسمان کو روشن کرتے ہوئے دکھائی دیے۔ روئٹرز فوری طور پر اس ویڈیو کی تصدیق نہیں کر سکا۔

گذشتہ ہفتے اسرائیلی حراست میں بھوک ہڑتال کرنے والے ایک فلسطینی خضر عدنان کی موت کے بعد غزہ میں اسرائیل اور مسلح گروپوں کے درمیان کئی گھنٹے تک لڑائی جاری رہی، جس میں ایک فلسطینی جان سے گیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جنوری سے اب تک 90 سے زیادہ فلسطینی اور کم از کم 19 اسرائیلی اور غیر ملکی جان سے جا چکے ہیں۔

اسرائیلی وزارت دفاع کا ایک یونٹ جو فلسطینیوں کے ساتھ شہری امور کی رابطہ کاری رکھتا ہے نے کہا کہ غزہ کے ساتھ دو کراسنگ کو اگلے نوٹس تک لوگوں اور سامان کے داخلے اور باہر جانے کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔

اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد ہونے والی اموات کے جواب میں راکٹ فائر کیے جانے کی توقع کے سبب اسرائیلی فوج نے منگل کو غزہ کے 40 کلومیٹر کے اندر واقع قصبوں میں رہنے والے اسرائیلیوں کے لیے خصوصی ہدایات جاری کی ہیں جن میں منگل کو مقامی وقت کے مطابق ڈھائی بجے سے شام چھ بجے تک بم سے محفوظ رکھنے والی پناہ گاہوں کے قریب رہنا بھی شامل ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے اے پی نے بھی اسرائیلی فضائی حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسے اسلامک جہاد کی جانب سے تاحال کمانڈروں کی اموات کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔

حالیہ فضائی حملے ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب اسرائیل اور مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینی گروپوں کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہے۔

مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج گذشتہ ایک ماہ سے تقریبا روزانہ کی بنیاد پر چھاپے مار رہی ہے اور فلسطینیوں کو حراست میں لیا جا رہا ہے جن پر الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ اسرائیل پر حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا