کوکو بین موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کیسے کرسکتی ہے؟

جرمنی کی ایک کمپنی کوکو بین کے چھلکوں سے ایک سفوف نما مادہ ’بائیو چار‘ بنا رہی ہے، جس کے سی ای او کا کہنا ہے کہ ’ہم کاربن سائیکل کو الٹا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

23 دسمبر 2020 کی اس تصویر میں ہیٹی کی ایک ورک شاپ میں کوکو بین کو ان کے سائز کی مناسبت سے جمع کیا جا رہا ہے (فائل تصویر: اے ایف پی)

جرمنی کے بندرگاہی شہر ہیمبرگ میں سرخ اینٹوں کے ایک کارخانے میں کوکو بین کے چھلکے ایک سرے سے اندر جاتے ہیں اور دوسرے سرے سے حیرت انگیز سیاہ رنگ کا پاؤڈر باہر نکلتا ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

یہ سفوف ایک مادہ ہے جسے بائیوچار کہا جاتا ہے۔ یہ سفوف کوکو بین کے چھلکوں کو آکسیجن سے پاک کمرے میں 600 درجے سیلسیئس (1112 فارن ہائٹ) پر گرم کرکے تیار کیا جاتا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ عمل گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو روک دیتا ہے اور آخر میں بننے والی پروڈکٹ کو کھاد کے طور پر یا ماحول دوست ’سبز ‘ کنکریٹ کی تیاری میں ایک جزو کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بائیوچار کی صنعت ابھی ابتدائی مراحل میں ہے۔ یہ ٹیکنالوجی زمین کے ماحول سے کاربن کو ختم کرنے کا ایک نیا طریقہ متعارف کرواتی ہے۔

موسمیاتی تبدیلی پر اقوام متحدہ کے بین الحکومتی پینل (آئی پی سی سی) کے مطابق بائیوچار کو ممکنہ طور پر اس وقت انسانی سرگرمیوں کے نتیجے میں ہرسال پیدا ہونے والی 40 ارب ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس میں سے 2.6 ارب ٹن گیس کو ختم کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، لیکن بائیوچار کے استعمال کو بڑھانا ایک چیلنج ہے۔

ہیمبرگ میں بائیوچار بنانے والی فیکٹری کے چیف ایگزیکٹیو افسر پیک سٹنلنڈ نے اے ایف پی کو بتایا: ’ہم کاربن سائیکل کو الٹا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

یہ پلانٹ جو یورپ کے سب سے بڑے پلانٹس میں سے ایک ہے، استعمال شدہ کوکو بین کے چھلکوں کی ترسیل قریب ہی واقع ایک چاکلیٹ فیکٹری سے گرے رنگ کے پائپوں کے نیٹ ورک کے ذریعے کرتا ہے۔

بائیوچار بھوسے میں موجود کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس کو خارج ہونے سے روکتا ہے۔ یہ عمل کسی دوسرے پودے کے لیے بھی استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔

اگر کوکو کے چھلکے معمول کے مطابق ٹھکانے لگائے جائیں تو غیر استعمال شدہ ضمنی پروڈکٹ کے اندر موجود کاربن اس کے گلنے سڑنے کے ساتھ ہی فضا میں خارج ہو جائے گی۔

فرانس کے یونی لا سال انسٹی ٹیوٹ کے ماحولیاتی سائنس دان ڈیوڈ ہوبن کے مطابق فضا میں خارج کرنے کی بجائے کاربن کو بائیوچار میں ’صدیوں کے لیے‘ ذخیرہ کیا جا رہا ہے۔

ہوبن نے اے ایف پی کو بتایا کہ ایک ٹن بائیوچار یا بائیو کوئلہ ’ڈھائی سے تین ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے برابر‘ گیس اپنے اندر ذخیرہ کر سکتا ہے۔

بائیوچار کو 20 ویں صدی میں ایمازون خطے کی انتہائی زرخیز مٹی پر تحقیق کرنے والے سائنس دانوں کے دوبارہ دریافت کرنے سے پہلے ہی براعظم امریکہ کی مقامی آبادی کھاد کے طور پر استعمال کرتی تھی۔

اس حیرت انگیز مادے کی سفنج نما ساخت مٹی کے ذریعے پانی اور غذائی اجزا کے انجذاب کو بڑھا کر فصلوں کو بہتر بناتی ہے۔

حتمی پروڈکٹ کو سفید بوریوں میں بند کر کے مقامی کسانوں کو دانوں کی شکل میں فروخت کر دیا جاتا ہے۔

ان کسانوں میں سے ایک 45 سالہ سلویو شمٹ ہیں جو ہیمبرگ کے مغرب میں بریمن کے قریب آلو کاشت کرتے ہیں۔ شمٹ کو امید ہے کہ بائیوچار ان کی ریتیلی زمین کو ’زیادہ تقویت بخش اجزا اور پانی کی فراہمی ‘میں مدد کرے گی۔

یہ پیداواری عمل جسے پائرولائسس کہا جاتا ہے، بائیو گیس کی خاص مقدار بھی پیدا کرتی ہے جسے قریبی فیکٹری کو دوبارہ فروخت کر دیا جاتا ہے۔ مجموعی طور پر 10000 ٹن کوکو کے چھلکوں سے ہر سال پلانٹ میں 3500 ٹن بائیوچار اور ’20 میگا واٹ آورز تک‘ گیس پیدا ہوتی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس کے باوجود پیداوار کے اس طریقے سے آئی پی سی سی کے تصور کردہ پیمانے تک جانا مشکل ہے۔

ہوبن کے بقول: ’اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ سسٹم اپنی پیدا کردہ کاربن سے زیادہ کاربن ذخیرہ کرے، ہر چیز کو مقامی طور پر کرنے کی ضرورت ہے جس میں بہت کم یا کوئی نقل و حمل نہ ہو۔ ورنہ اس کا کوئی مطلب نہیں ہو گا۔ ‘

اور مٹی کی تمام اقسام بائیوچار کے لیے اچھی طرح سے موافق نہیں ہیں۔ ہوبن نے کہا کہ یہ کھاد گرم موسم میں زیادہ موثر ہے جب کہ اس کی پیداوار کے لیے خام مال ہر جگہ دستیاب نہیں ہے۔

ہوبن نے مزید کہا کہ بائیوچار کی تیاری پر آنے والے اخراجات بھی ایک رکاوٹ ہیں۔ ایک ٹن بائیوچار بنانے پر تقریباً ایک ہزار یورو خرچ ہوتے ہیں، جو ایک کاشت کار کے لیے برداشت کرنا مشکل ہے۔

طاقتور سیاہ رنگ کے پاؤڈر کا بہتر استعمال کرنے کے لیے ہوبن نے کہا کہ دیگر شعبوں میں اس کے استعمال کو تلاش کرنے کی ضرورت ہوگی۔ مثال کے طور پر تعمیراتی شعبہ بائیوچار کو سبز کنکریٹ کی پیداوار میں استعمال کر سکتا ہے، لیکن منافع کمانے کے لیے بائیوچار کا کاروبار ایک اور آئیڈیا لے کر آیا ہے یعنی کاربن سرٹیفکیٹ کی فروخت۔

یہ آئیڈیا ان کمپنیوں کو سرٹیفکیٹ فروخت کرنا ہے جو بائیوچار کی مقرر کردہ مقدار تیار کر کے اپنے کاربن کے اخراج کو متوازن بنانا چاہتی ہیں۔

سی ای او سٹینلنڈ نے کہا کہ انتہائی ریگولیٹڈ یورپی کاربن سرٹیفکیٹ سسٹم میں بائیوچار کی شمولیت کے ساتھ ’ہم اس (شعبے) میں پائیدار ترقی دیکھ رہے ہیں۔‘ ان کی کمپنی آنے والے مہینوں میں مزید بائیوچار تیار کرنے کے لیے تین نئے پلانٹ لگانا چاہتی ہے۔

پورے یورپ میں بائیوچار منصوبوں کی تعداد بڑھنی شروع ہو گئی ہے۔ بائیوچار انڈسٹری فیڈریشن کے مطابق 2022 کے مقابلے میں اس سال بائیوچار کی پیداوار تقریباً دگنی ہو کر 90000 ٹن تک پہنچ جائے گی۔

زیادہ پڑھی جانے والی ماحولیات