سعودی عرب کا تیل کی پیداوار میں 2024 تک کمی کا اعلان

سعودی عرب کی وزارت توانائی نے اعلان کیا ہے کہ سعودی عرب خام تیل کی پیداوار میں اضافی رضاکارانہ کمی پر جولائی سے عملدرآمد شروع کر دے گا جو 2024 کے اختتام تک ہو گی۔

پانچ اکتوبر 2022، کی اس تصویر میں اوپیک ممالک کے نمائندے آسٹریا کے شہر ویانا میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران(تصویر: اے ایف پی)

سعودی وزارت توانائی نے اعلان کیا ہے کہ سعودی عرب خام تیل کی پیداوار میں اضافی رضاکارانہ کمی پر جولائی سے عملدرآمد شروع کر دے گا جو 2024 کے اختتام تک ہو گی۔

وزارت کے مطابق یہ اضافی کمی چار جون 2023 کو اوپیک پلس کے اجلاس کے دوران ہونے والے اتفاق سے زیادہ ہے اور یہ کمی سال 2024 کے اختتام تک کی جا رہی ہے۔

اوپیک پلس ممالک نے اپریل میں اپنی پیداوار میں کمی کا اعلان 2023 تک کے لیے کیا تھا جس میں اب 2024 تک کے لیے توسیع کر دی گئی ہے۔

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق وزارت کے اعلان میں کہا گیا کہ مملکت جولائی سے اپنے حصے میں رضاکارانہ کمی پر عمل شروع کر دے گی جو کہ دس لاکھ بیرل فی دن تک ہو سکتی ہے۔ اس کمی کے ساتھ سعودی عرب کی روزانہ کی پیداوار نوے لاکھ بیرل ہو جائے گی اور روزانہ کمی کی مقدار پندرہ لاکھ بیرل ہو جائے گی۔

وزارتی ذرائع کے مطابق مملکت کی جانب سے یہ رضاکارانہ کمی اوپیک پلس کے ان احتیاطی اقدامات کا حصہ ہے جن کا مقصد تیل کی مارکیٹ میں استحکام اور توازن لانا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اس فیصلے سے قبل 13 ممالک کی تنظیم اوپیک جس کی سربراہی سعودی عرب کرتا ہے اور اس کے دس پارٹنرز جن کی سربراہی روس کے پاس ہے کے درمیان طویل مذاکرات کیے گئے۔

اوپیک پلس کے اجلاس کے بعد ویانا میں اوپیک ہیڈکوارٹر میں سعودی عرب کے وزیر توانائی عبدالعزیز بن سلمان نے صحافیوں کو بتایا کہ سعودی عرب کی یہ کمی جولائی سے نافذالعمل ہو گی اور یہ قابل توسیع ہے۔

تجزیہ کاروں کو بڑی حد تک اوپیک پلس کے ممالک سے اپنی موجودہ پالیسی کو برقرار رکھنے کی توقع کی تھی لیکن اس ہفتے کے آخر میں ایسے آثار سامنے آئے کہ یہ 23 ​​ممالک بڑی کٹوتیوں پر غور کر رہے ہیں۔

اپریل میں اوپیک پلس کے متعدد اراکین نے رضاکارانہ طور پر پیداوار میں 10 لاکھ بیرل روزانہ سے زیادہ کمی کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ یہ ایک حیرت انگیز اقدام تھا جس نے قیمتوں کو مختصر وقت کے لیے کم کیا تھا لیکن دیرپا بحالی میں ناکام رہا۔

یوکرین پر روسی حملے کے بعد تیل پیدا کرنے والے ممالک کم قیمتوں اور مارکیٹ میں غیر یقینی صورت حال سے دوچار ہیں جس نے دنیا بھر کی معیشتوں کو مشکل میں ڈال رکھا ہے۔

اپریل میں کٹوتیوں کے اعلان کے بعد سے تیل کی قیمتوں میں تقریباً 10 فیصد کمی آ چکی ہے اور برینٹ کروڈ 70 ڈالر فی بیرل کے قریب تک گر چکا ہے۔

تاجروں کو خدشہ ہے کہ عالمی معیشت کی صورت حال کے باعث تیل کی مانگ میں کمی آئے گی کیونکہ امریکہ مہنگائی اور بلند شرح سود سے مقابلہ کر رہا ہے جبکہ چین کی معیشت کوویڈ کے بعد بحالی کی جانب گامزن ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اوپیک اجلاس میں روس کے نائب وزیر اعظم الیگزینڈر نوواک کا کہنا تھا کہ موجودہ پیداوار میں کٹوتیوں کو 2024 کے آخر تک اس لیے بڑھایا جا رہا ہے کہ اس معاملے کا ’طویل عرصے تک‘ جائزہ لیا جائے۔

اوپیک پلس کے اگلے سال کے لیے مطلوبہ پیداوار کے ٹیبل کے مطابق متحدہ عرب امارات موجودہ مقدار سے زیادہ تیل پیدا کرنے کے قابل ہو جائے گا۔

جبکہ انگولا، جمہوریہ کانگو اور نائیجیریا سمیت کئی ممالک نے اپنے کوٹے میں کٹوتی کی ہے۔

خبر رساں ادارے بلومبرگ کے مطابق افریقی ممالک مطلوبہ مقدار پیدا کرنے میں میں ناکامی کے باوجود اپنے حصے میں کمی کرنے سے گریزاں ہیں۔

جمہوریہ کانگو کے ہائیڈرو کاربن کے وزیر برونو جین رچرڈ اتووا نے میٹنگ کے بعد اصرار کیا کہ ’ہمارے پاس ایک معاہدہ ہے جس سے ہر کوئی خوش ہے۔‘

اتوار کے اجلاس کو اس وجہ سے بھی اہمیت حاصل تھی کیونکہ روس اپنی پیداوار کو برقرار رکھنے کا خواہش مند تھا جبکہ تجزیہ کاروں کے مطابق سعودی عرب اپنے بجٹ کو متوازن کرنے کے لیے قیمتوں کو بڑھانا چاہتا ہے۔

یو بی ایس تجزیہ کار جیوانی ستاونوا کا کہنا ہے کہ ’انہوں نے دوبارہ دکھایا ہے کہ وہ مل کر کام کرتے ہیں۔ دن کے اختتام پر وہ متفق ہیں۔ اہم حصہ اتحاد کا مظاہرہ کرنا تھا۔‘

روس اپنی تیل کی آمدنی پر انحصار کر رہا ہے جبکہ یوکرین میں اس کی جنگ جاری ہے۔ مغربی پابندیوں نے روس کی معیشت کو نقصان پہنچایا ہے تاہم روس انڈیا اور چین کو تیل بیچ رہا ہے۔

دوسری طرف کامرز بینک کے تجزیہ کاروں کے مطابق سعودی عرب کی بریک ایون قیمت فی بیرل ’80 ڈالر‘ ہے۔

مارچ 2020 میں یہ اتحاد اس وقت تقسیم کے دہانے پر پہنچ گیا تھا جب ماسکو نے تیل کی پیداوار میں کمی کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

اوپیک پلس ممالک دنیا کا تقریباً 60 فیصد تیل پیدا کرتے ہیں۔ اب اس گروپ کا اگلا اجلاس 26 نومبر کو ہو گا۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا