ہم درخت کیوں لگائیں؟

خیر خود سے تو دل میں خیال ہی نہیں آتا لیکن اگر کوئی کہہ دے کہ بھائی اپنی زندگی میں ایک پودا زمین میں لگا دو تاکہ آگے چل کر وہ درخت بن جائے تو اکثر لوگوں کا یہی جواب ہوتا ہے کہ ایسی محنت کا کیا فائدہ، جس کا ثمر ہمیں اپنی زندگی میں حاصل نہ ہو۔

درختوں نے انسانی وجود کی ابتدا سے لے کر اب تک اسے سہارا دیا ہوا ہے (انڈپینڈنٹ اردو)

آپ مانیں یا نہ مانیں، درخت لگائیں یا نہ لگائیں، آپ کی گذشتہ نسلوں نے سب سے زیادہ اسی سے افادہ کیا تھا۔ آج آپ بھی اس کے محتاج ہیں اور آنے والی نسلوں کا دارومدار بھی ان ہی پر ہوگا۔

درختوں کے تئیں ہمارا نظریہ اورسلوک کچھ عجیب سا ہے۔ خیر خود سے تو دل میں خیال ہی نہیں آتا لیکن اگر کوئی کہہ دے کہ بھائی اپنی زندگی میں ایک پودا زمین میں لگا دو تاکہ آگے چل کر وہ درخت بن جائے تو اکثر لوگوں کا یہی جواب ہوتا ہے کہ ایسی محنت کا کیا فائدہ، جس کا ثمر ہمیں اپنی زندگی میں حاصل نہ ہو۔

سوچیے اگر ہم سے پہلے والی نسلوں نے بھی یہی جواب دے کر پودے لگانے سے انکار کر دیا ہوتا تو آج ہم جن درختوں سے پھل، پھول، مختلف اجناس، سایہ، آکسیجن اور بھی اللہ جانے کتنی بے شمار نعمتیں حاصل کر رہے ہیں، ان سے محروم رہ جاتے۔

ہماری سستی، کم فہمی اور صرف اپنے فائدے کی سوچ آنے والی کئی نسلوں کو کتنی نعمتوں سے محروم کردے گی، اس کا ہمیں اندازہ تک نہیں ہے۔ ؎

یہ جبر بھی دیکھا ہے تاریخ کی نظروں نے
لمحوں نے خطا کی تھی، صدیوں نے سزا پائی

مظفر رزمی صاحب کا یہ شعر ہمارے خطاکارانہ رویوں کی ہوبہو نشاندہی کرتا ہے۔

اس سے پہلے کہ پاکستان میں درختوں، جنگلوں اور ہریالی کے حالات پر بات کی جائے پہلے تو ہمیں اس کے ان گنت فوائد سمجھنے کی ضرورت ہے کیوں کہ آج تک ہم ان سے غیر محسوس طریقے سے استفادہ تو کرتے چلے آئے ہیں لیکن کبھی اس کے بارے میں سوچنے یا سمجھنے کی کوشش نہیں کی۔

ہم اکثر سنتے ہیں کہ درخت وہ کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرتے ہیں جو ہمارے لیے سمِ قاتل ہے اور وہ آکسیجن پیدا کرتے ہیں جو ہماری زندگیوں کی ضامن ہے۔ درحقیقت امریکی محکمہ زراعت کی تحقیق کے مطابق، ایک ایکڑ پر لگے درخت چھ ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب اور چار ٹن آکسیجن خارج کرتے ہیں، جو 18 انسانوں کی سالانہ ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کافی ہے۔

درخت کی جھاڑیاں اور گھاس، دھول کو ہٹا کر دیگر آلودہ گیسوں کو جذب کرکے ہوا کو پاک کرتے ہیں۔ درخت، سورج، بارش اور ہوا کے اثرات کو معتدل کر کے آب و ہوا کو انسانوں کے  لیے سازگار بناتے ہیں۔ پتے سورج کی تابکاری شعاعوں کو جذب کرکے انہیں صاف کرتے ہیں اور گرمیوں میں چیزوں کو ٹھنڈا رکھتے ہیں۔ ہوا کی رفتار اور سمت کو قابو میں رکھنے کے ساتھ ہی یہ ہمیں بارش، ژالہ باری اور اولوں سے بھی بچاتے ہیں۔

زمین کے اوپر اور نیچے دونوں جگہوں پر یہ ماحولیاتی نظام کے  لیے ضروری ہیں، زمین کے نیچے دور تک پھیلی ان کی جڑیں زمین کی مٹی کو اپنی جگہ پر رکھتی ہیں اور زمین کے کٹاؤ اور زلزلوں کے خلاف مدافعت کرتے ہیں۔ درخت بارش کے پانی کو جذب اور ذخیرہ کرتے ہیں، جس سے زمین کے نیچے صاف پانی کو ذخیرہ کرنے میں مدد ملتی ہے۔ یہ ندیوں میں کیمیکلز کی نقل وحمل اور سیلاب کو روکتے ہیں۔ درخت سے گرے ہوئے پتے بہترین کھاد بناتے ہیں جو مٹی کو افزودہ کرتے ہیں۔

درختوں نے انسانی وجود کی ابتدا سے لے کر اب تک اسے سہارا دیا ہوا ہے۔ لکڑی سب سے پہلا ایندھن تھا اور آج بھی دنیا کی نصف آبادی کھانا پکانے اور اپنے جسم کو حدت پہنچانے کے لیے اسی کا استعمال کرتی ہے۔ عمارت کی تعمیر ہو یا فرنیچر کی تیاری، اوزار، کھیلوں کے سازوسامان اور ہزاروں گھریلو اشیا، درخت کی لکڑی ہی سے معرضِ وجود میں آتی ہیں۔ کتابوں کی صورت میں جو علم ہم تک پہنچا اور ہمارے آنے والوں تک پہنچے گا، ان کتابوں کے صفحات بھی اسی کے مرہونِ منت ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کہاں تک سنو گے کہاں تک سناؤں۔ درخت کی مدح میں اتنا کچھ لکھنے کے باوجود ایسا لگتا ہے کہ ابھی تو بہت کچھ بتانے کو رہ گیا ہے مگر کیا کیا جائے کہ مضمون میں لفظوں کی حد اس کی اجازت نہیں دیتی کیوں کہ ابھی تو پاکستان میں جنگلات اور درختوں کے حوالے سے ان حقائق کا بھی ذکر کرنا ہے، جن سے ہم فائدہ اٹھائے اور نظریں چرائے بیٹھے ہیں۔

پاکستان میں 4.2 ملین ہیکٹر جنگلات ہیں اور بشمول اس کے لگائے گئے درختوں کا کل رقبہ 5.2 فیصد بنتا ہے، جبکہ آئیڈیل صورت حال تو یہ ہونی چاہیے کہ کل رقبے کا 25 فیصد رقبہ جنگلات یا درختوں پر مشتمل ہو۔

خیبر پختونخوا پاکستان کے شمال مغرب میں واقع ہے جو دوسرے صوبوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ جنگلات کا احاطہ کرتا ہے۔ اس میں ملک کے جنگلات کا ایک تہائی حصہ اور قدرتی جنگلات کا 40 فیصد حصہ موجود ہے۔ پنجاب پاکستان کا سب سے زیادہ آبادی والا صوبہ ہے، جس میں جھاڑیوں والے جنگلات کے دو فیصد کے ساتھ جنگلات کا کل تناسب تقریباً چار فیصد بنتا ہے۔

سندھ میں اس کے کل رقبے کا چھ فیصد جنگلات پر مشتمل ہے، جس میں 3.5 مینگرووز اور 1.4 فیصد ساحلی جنگلات ہیں۔ رقبے کے لحاظ سے بلوچستان بہت بڑا لیکن آبادی کے تناسب سے بہت چھوٹا صوبہ ہے اور یہاں جنگلات 1.5 فیصد ہیں۔ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کا 42.6 حصہ جنگلات سے گھرا ہوا ہے۔ گلگت بلتستان میں قدرتی جنگلات کا تناب 3.58 فیصد ہے۔

بدقسمتی سے ہمارے ملک میں درخت لگانے کا عمل ناپسندیدہ مگر اسی کا کاروبار ایک مرغوب مشغلہ ہے۔ اولاً تو درختوں کے کاٹنے پر پابندی ہونی چاہیے اور اگر بحالتِ مجبوری کاٹنے کی نوبت آ جائے تو تمام شرائط پوری کرنے کے حکومتی احکامات کے باوجود کاروباری حضرات حکومتی اداروں کے اہلکاروں کے ساتھ گٹھ جوڑ کر کے اسے اپنے ذاتی فائدے کے  لیے کاٹتے چلے جا رہے ہیں اور حکومت ایک خاموش تماشائی کا کردار بخوبی نبھائے چلی جا رہی ہے۔ اسے کاٹنے والے یہ بات کب سمجھیں گے کہ وہ جس شاخ کو کاٹ رہے ہیں وہ بھی تو اسی پر بیٹھے ہیں۔

مکاں بناتے ہوئے چھت بہت ضروری ہے
بچا کے صحن میں لیکن شجر بھی رکھنا ہے

نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ