کم جونگ کے دورہ روس سے خدشات میں اضافہ

امریکہ اور جنوبی کوریا سمیت اس کے اتحادیوں نے کہا ہے کہ شمالی کوریا روس کی جدید ترین ہتھیاروں کی ٹیکنالوجی کے بدلے یوکرین کے خلاف ماسکو کی جنگ کے لیے اسلحہ فراہم کر سکتا ہے۔

17 ستمبر 2023 کو پریمورسکی خطے کی حکومت کی جاری کی گئی اس تصویر میں شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان اپنے دورہ روس کے اختتام پر ولادی ووستوک کے قریب آرٹیم ریلوے سٹیشن پر الوداعی تقریب کے دوران ٹرین میں سوار ہونے سے پہلے hقبل الودع کہہ رہے ہیں (ہینڈ آؤٹ / پرائمورسکی ریجن کی حکومت / اے ایف پی)

شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان روس کا تقریباً ایک ہفتہ طویل دورہ مکمل کرنے کے بعد اتوار کو وطن واپس روانہ ہوئے جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان ہتھیاروں کے ممکنہ معاہدے کے بارے میں عالمی خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔

روس کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’تاس‘ کے مطابق کم جونگ ان اپنی بکتر بند ٹرین میں روسی علاقے پرائموری سے آرٹیوم پریمورسکی ون سٹیشن پر الوداعی تقریب کے بعد روانہ ہوئے۔

شمالی کوریا کے ساتھ روس کی سرحد پر آرتیوم سے خسان سٹیشن کا فاصلہ 200 کلومیٹر سے زیادہ ہے۔

امریکہ اور جنوبی کوریا سمیت اس کے اتحادیوں نے کہا ہے کہ شمالی کوریا روس کی جدید ترین ہتھیاروں کی ٹیکنالوجی کے بدلے یوکرین کے خلاف ماسکو کی جنگ کے لیے اسلحہ فراہم کر سکتا ہے جس  سے کم جونگ ان کے جوہری عزائم کو تقویت ملے گی۔

شمالی کوریا کے سربراہ کے چار سال سے زائد عرصے میں یہ پہلا غیر ملکی دورہ تھا جس میں روسی صدر ولادی میر پوتن سے ملاقات اور جوہری صلاحیت رکھنے والے سٹریٹجک بمبار طیاروں، ہائپر سونک میزائلوں اور جنگی جہازوں کا معائنہ شامل تھا۔

روسی میڈیا کے مطابق اتوار کو کم جونگ ان ہلکے پھلکے موڈ میں نظر آئے جب انہوں نے روس کے سب سے بڑے جزیرے پر واقع ایک یونیورسٹی اور روس کے سب سے بڑے پرائمورسکی ایکویریم کا دورہ کیا جہاں انہوں نے بیلوگا وہیل، بوتل نوز ڈولفن، فر سیلز اور ’میشا‘ والرس پر مشتمل پرفارمنس دیکھی، جس سے وہ خاص طور پر لطف اندوز ہوئے۔

روسی میڈیا کی جانب سے نشر کی گئی ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سیاہ سوٹ میں ملبوس کم جونگ ان فوجی بینڈ کی موسیقی سنتے ہوئے سرخ قالین پر چل کر ٹرین کے ڈبے تک گئے اور دروازے میں کھڑے ہو کر ہاتھ لہرا کر الوداع کہا۔

سرکاری خبر رساں ادارے کورین سینٹرل نیوز ایجنسی (کے سی این اے) کے مطابق شمالی کوریا کے رہنما کا یہ دورہ ’دوستی، یکجہتی اور تعاون کا ایک نیا دور ہے‘ جو ’شمالی اور روس کے درمیان تعلقات کی ترقی کی تاریخ میں پیش رفت ہے۔‘

مسٹر کم نے بدھ کو اپنے روسی ہم منصب سے ملاقات کی، جہاں دونوں نے اس بات پر زور دیا کہ مغرب کے ساتھ الگ الگ اور بڑھتی ہوئی محاذ آرائیوں کے سامنے ان کے مفادات کس طرح ہم آہنگ ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کومسومولسک آن امور میں روس کے سب سے طاقتور لڑاکا طیارے بنانے والے ایک طیارہ پلانٹ کا دورہ  کرنے کے ایک دن بعد کم جونگ ان ہفتے کو ولادی ووستوک کے قریب ایک ہوائی اڈے پر گئے جہاں وزیر دفاع سرگئی شوئیگو انہیں بمبار طیارے دیکھانے لے گئے۔

کم جونگ ان کو دکھائے گئے تمام روسی جنگی طیاروں میں وہ بھی شامل تھے جو یوکرین کی جنگ میں استعمال ہوئے ہیں، جن میں ٹی یو-160، ٹی یو-95 اور ٹی یو-22 بمبار طیارے شامل ہیں جو باقاعدگی سے کروز میزائل داغتے رہے ہیں۔

 جولائی میں پیانگ یانگ کے غیر معمولی دورے کے دوران شمالی کوریا کے رہنما سے ملاقات کرنے والے شوئیگو نے کم جونگ ان کو روس کے جدید ترین میزائلوں میں سے ایک ہائپر سونک ’کنزال‘ بھی دکھایا جو مگ 31 لڑاکا طیارے کے ذریعے لے جایا گیا تھا جس کو یوکرین جنگ کے دوران پہلی بار استعمال کیا گیا۔

شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا کے مطابق کم جونگ ان کے ہمراہ ان کے وزیر دفاع اور فضائیہ اور بحریہ کے اعلیٰ کمانڈروں سمیت اعلیٰ فوجی حکام بھی موجود تھے۔

کے سی این اے کی رپورٹ کے مطابق ظہرانے کے بعد کم جونگ ان اور شوئیگو نے ’دونوں ممالک کی مسلح افواج کے درمیان سٹریٹجک اور ٹیکٹیکل کوآرڈینیشن، تعاون اور باہمی تبادلے کو مزید مستحکم کرنے سے پیدا ہونے والے عملی امور پر تعمیری خیالات کا تبادلہ کیا۔‘

ماہرین کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان ممکنہ فوجی تعاون میں شمالی کوریا کی فرسودہ فضائیہ کو جدید بنانے کی کوششیں شامل ہوسکتی  ہیں،  جس کا انحصار 1980 کی دہائی میں سوویت یونین سے بھیجے گئے جنگی طیاروں پر ہے۔

© The Independent

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا