بالی وڈ میں سب سے لمبی اننگز کھیلنے والے سدا بہار دیو آنند 

دیو آنند کی اصل پہچان گیت گانے والا ایک نٹ کھٹ لڑکا ہے، چہرے پر شریر مسکراہٹ کی ہلکی سی لکیر، بڑے بڑے کالر والی قمیصیں، آنکھوں میں چمک، مست چال اور ایس ڈی برمن کی موسیقی۔ 

1952 میں ریلیز ہونے والی فلم ’راہی‘ میں دیو آنند کا ایک انداز (پبلک ڈومین)

1969 بالی وڈ میں پرانے دور کے خاتمے اور نئے عہد کی شروعات کا سال تھا۔ شکتی سامنت کی ہدایات میں بننے والی انتہائی معمولی فلم ’آرادھنا‘ سے راجیش کھنہ کی آمد ایک طوفان ثابت ہوئی۔ دلیپ کمار اور راج کپور جیسے نامور ستارے بجھ کر رہ گئے۔

اس جھکڑ میں بھی اگر کوئی دیا جلتا رہا تو وہ مثلث کے تیسرے رکن دیو آنند تھے۔ 

 گورداس پور میں 26 ستمبر 1923 کو پیدا ہونے والے دیو آنند کی آج 100ویں سالگرہ ہے۔ ایک متوسط گھرانے کا ہینڈسم نوجوان جس نے گورنمنٹ کالج (جی سی) لاہور سے انگریزی ادب میں گریجویشن کی ڈگری لی اور قسمت آزمانے بمبئی جا پہنچا۔ 

بمبئی میں اپنے بھائی چیتن آنند کے ایک دوست کا گھر ان کا پہلا ٹھکانہ تھا۔ اسی روز وہ اپنے پسندیدہ ترین اداکار اشوک کمار کی فلم دیکھنے سینیما جا پہنچے۔ تب بلاک بسٹر ’قسمت‘ (1943) نئی نئی ریلیز ہوئی تھی۔

ایک وکیل کا بیٹا اور جی سی لاہور کا گریجویٹ چند دن بعد کنگ ایڈورڈ میموریل ہسپتال کے سامنے ایک چھوٹی سی کھولی میں شفٹ ہو گیا۔ اسے مختلف پروڈکشن ہاؤسز کے چکر کاٹنے تھے تاکہ کام مل سکے۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اپنی آپ بیتی ’رومانسنگ وِد لائف‘ (Romancing with Life) میں آنند لکھتے ہیں کہ ’مجھے اس بات سے بالکل بھی پریشانی نہیں تھی کہ میں ایک کھولی میں رہ رہا ہوں۔ میں پرجوش اور خوابوں سے بھرپور نوجوان تھا۔‘

ایک دن دیو بابو جیسے ہی ٹرین سوار میں سوار ہوئے، اندر سے کسی نے آواز دی اور پوچھا، ’کیا تم بمبئی ٹاکیز کی ایک فلم میں کام کرنا چاہو گے؟‘

یہ ڈائریکٹر شاہد لطیف تھے جن کے ساتھ ان کی اہلیہ اور مشہور اردو مصنفہ عصمت چغتائی بھی تھیں۔ 

اگلے دن آنند بابو ٹرین سے دور دراز کے مضافاتی علاقے ملاد جا پہنچے، وہاں سے ٹانگہ لیا جہاں ان کی اگلی منزل بمبئے ٹاکیز تھی۔ اس طرح انہیں ’ضدی‘ (1948) ملی۔

اس فلم کو باکس آفس پر کوئی خاص پذیرائی نہ مل سکی، مگر اس سے دیو آنند کے طویل فلمی کیریئر کا آغاز ہو گیا۔ 40 کی دہائی میں انہوں نے تقریباً 10 مختلف فلموں میں کام کیا، لیکن پہلی بڑی کامیابی 1951 کی فلم ’بازی‘ تھی۔ 

جب دیو آنند نے اپنے دوست گردو دت سے وعدہ نبھایا 

دیو آنند اور گرو دت کی پہلی ملاقات 1946 میں ریلیز ہونے والی فلم ’ہم ایک ہیں‘ کے سیٹ پر ہوئی تھی۔ یہ دیو آنند کی بطور مرکزی ہیرو پہلی فلم تھی جبکہ گرو دت فلم کے سیٹ پر بطور اسسٹنٹ ڈائریکٹر کام کر رہے تھے۔ دونوں کی ہیلو ہائے ہوئی اور بات ختم۔ 

دیو آنند اپنی آپ بیتی میں لکھتے ہیں، ’ایک روز اس نے دور سے مجھے مسکرا کر دیکھا اور جانے لگا۔ پھر اچانک مڑ کر دیکھا۔ اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل چکی تھی۔ وہ مجھے نہیں میری شرٹ کو دیکھ رہا تھا۔ میں نے بھی غور کیا تو لگا جیسے اس نے میری شرٹ پہن رکھی ہے۔ دراصل ہمارے دھوبی نے انجانے میں یہ تبادلہ کیا تھا۔ ہم نے ہنستے ہوئے ایک دوسرے کو گلے لگایا اور ہمیشہ کے لیے دوست بن گئے۔‘

اس واقعے کے بعد، دونوں نے سیٹ پر ایک ساتھ کافی وقت گزارنا شروع کیا۔ وہ اکثر ایک دوسرے کے گھر جایا کرتے تھے، گرو دت کی والدہ آنند کے لیے ان کے پسندیدہ کھانے بناتی تھیں۔ 

ایک روز فلم کی شوٹنگ کے دوران بریک میں دونوں نے آپس میں وعدے کیا کہ اگر دیو نے کبھی کوئی فلم پروڈیوس کی تو وہ گرو دت کو بطور ہدایت کار لیں گے اور اگر دت کسی فلم کو ڈائریکٹ کریں گے تو دیو ان کے مرکزی ہیرو ہوں گے۔

دیو آنند نے اپنے بھائیوں کے ساتھ مل کر 1949 میں اپنے پروڈکشن ہاؤس ’نوکیتن‘ کی بنیاد رکھی اور وعدہ نبھاتے ہوئے اپنی پہلی فلم ’بازی‘ میں گردو دت کو بطور ہدایت کار بریک دیا۔ 

یہ فلم باکس آفس پر کامیاب ثابت ہوئی جس سے دیو آنند کے سٹارڈم کا آغاز ہوا۔ یہ فلم موسیقار ایس ڈی برمن، گیت کار ساحر لدھیانوی اور گرو دت کے لیے بھی خوش قسمت ثابت ہوئی۔ بعد میں تینوں اپنے شعبوں کے کامیاب ترین نام بنے۔ 

رومانی گیت گانے والا سدا بہار دیو آنند 

بالی وڈ میں بطور ہیرو، دیو صاحب جتنی لمبی اننگز کسی نے نہیں کھیلی۔ 

50 اور 60 کی دہائی ان کے عروج کا زمانہ تھا۔ 70 کی دہائی میں راج کپور اور دلیپ کمار کیریکٹر رول کرنے لگے مگر سدا بہار دیو آنند کی مانگ بطور ہیرو برقرار رہی۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ 80 کی دہائی کے آخر تک وہ 60 سال کی عمر میں بھی مرکزی کردار ادا کرتے اور پسند کیے جاتے رہے۔ ’نوجوان‘ (1985) اور ’لشکر‘ (1989) اس کی واضح مثالیں ہیں۔ 

دیو آنند کی اصل پہچان گیت گانے والا ایک نٹ کھٹ لڑکا ہے، چہرے پر شریر مسکراہٹ کی ہلکی سی لکیر، بڑے بڑے کالر والی قمیصیں، آنکھوں میں چمک، مست چال اور ایس ڈی برمن کی موسیقی۔ 

جہاں دلیپ کمار نے زیادہ تر دیہات کے پس منظر یا تاریخی موضوعات پر بننے والی فلموں میں نام کمایا اور راج کپور نے کامیڈی اور سیکس کے موضوعات پر توجہ مرکوز رکھی، دیو آنند نے زیادہ تر فلموں میں عام گھرانوں سے تعلق رکھنے والے شہری کردار نبھا کر اپنے لیے الگ راستہ تراشا۔

’گائیڈ‘ کو ان کا ماسٹر پیس کہا جاتا ہے، یہ الگ بات کہ موضوع کی بولڈنس اور غیر معمولی موسیقی کے باوجود یہ فلم دلیپ کمار کی ’گنگا جمنا،‘ ’دیوداس،‘ ’شکتی‘ یا راجیش کھنہ کی ’آنند‘ جیسے شہ پاروں کے ساتھ نہیں رکھی جا سکتی۔ 

100 سے زیادہ فلموں میں کام کرنے والے دیو آنند کی پٹاری میں بھلے ایک بھی بڑی فلم نہ ہو لیکن انہیں امر کرنے کے لیے ان کے رومانوی گیت کافی ہیں۔ وہ انداز و ادا کے بادشاہ تھے اور یہی چیز انہیں راج کپور اور دلیپ کمار سے منفرد بناتی ہے۔ 

 دیو آنند کے لیے تقریباً 44 مختلف موسیقاروں نے موسیقی ترتیب دی جس میں سب سے زیادہ تعداد فلموں کے کی تعداد ایس ڈی برمن کے ساتھ 28 ہے۔ تعداد ہی نہیں معیار کے اعتبار سے بھی ایس ڈی برمن اور دیو آنند کی جوڑی کا بالی وڈ میں کوئی جواب نہیں۔

دونوں کی شاہکار فلموں میں ’جال‘، ’تیرے گھر کے سامنے‘، ’بمبئی کا بابو‘، ’گائیڈ‘، ’جیول تھیف‘، ’پریم پجاری‘، ’ٹیکسی ڈرائیور‘ اور ’کالا بازار‘ جیسی فلمیں شامل ہیں۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ