’سٹیشن پر ہر وقت تفریح کا سماں ہوتا ہے:‘ہرنائی - سبی ٹرین سروس بحال

ہرنائی اور سبی کے درمیان 17 سال بعد ٹرین سروس بحال ہونے پر مقامی افراد خوش ہیں۔

بلوچستان کے ضلع ہرنائی اور سبی کو ملانے والی ریلوے لائن، جو مختلف سنگلاخ پہاڑیوں، ناہموار اور خطرناک راستوں پر مشتمل ہے، کو تقریباً 17 سال بعد بحال کر دیا گیا ہے۔

اس پیش رفت سے مقامی لوگوں کو سستے سفر کی سہولت ملے گی جس کی وجہ سے وہ خوش ہیں۔

انگریز دور میں 18 ویں صدی کے آخر میں بننے والا یہ بلوچستان میں ریلوے کا سب سے منافع بخش سیکشن سمجھا جاتا تھا۔

تاہم 2006 کے اوائل میں ایک کالعدم مسلح تنظیم نے اس ریلوے لائن کے کئی پلوں اور پٹڑی کے ایک بڑے حصے کو سلسلہ وار بم دھماکوں کے ذریعے تباہ کر دیا۔

سروس کی بحالی کے دوران سبی اور ہرنائی کے دشوار گزار پہاڑی سلسلے میں 50 چھوٹے بڑے پل دوبارہ بنائے گئے ہیں۔

ہرنائی ریلوے سٹیشن کی از سرنو تعمیر کی گئی جبکہ سبی ریلوے سٹیشن کی مکمل تزئین و آرائش سمیت کل نو ریلوے سٹیشنوں کو اپ گریڈ کیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ دو نئے ریسٹ ہاؤس تعمیر کیے گئے ہیں۔

پاکستان ریلوے کے ڈویژنل سپرنٹنڈنٹ یوسف لغاری نے بتایا کہ پہلے مرحلے میں سبی سے ہرنائی تک 94 کلومیٹر لائن کو بحال کیا گیا، اگلے مرحلے میں ہرنائی سے ناکس، شاہرگ اور خوست تک باقی 39 کلومیٹر لائن کی مرمت کا کام کیا جائے گا۔

حفاظتی اقدامات کے طور پر سبی سے ہرنائی تک ریلوے لائن کے ساتھ 58 سکیورٹی چیک پوسٹیں بنائی گئی ہیں تاکہ کالعدم تنظیموں کی تخریبی کارروائیوں کا سدباب کیا جا سکے۔

ہرنائی کے سٹیشن ماسٹر غلام جیلانی ترین کے مطابق ٹرین ہر متبادل دن صبح 10 بجے ہرنائی سے روانہ ہو گی اور  سوا تین بجے سبی پہنچے گی۔

اس طرح دوسرے روز سبی سے صبح نو بج کر تین منٹ پر چل کر دوپہر سوا تین بجے واپس ہرنائی پہنچے گی۔

ہرنائی سے سبی کا کرایہ 220 روپے ہے جبکہ کارگو کا کرایہ 132 روپے فی 40 کلو گرام ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ٹرین سروس کی بحالی سے ضلع ہرنائی سے تازہ پھل، سبزیاں اور کوِئلہ ملک بھر میں باآسانی اور کم قیمت میں ارسال ہو سکے گا۔ اس خوبصورت علاقے میں بل کھاتی ٹرین کا سفر سیاحوں کا دل بھی خوب لبھائے گا۔

مقامی تاجروں نے بتایا کہ ٹرین سروس کی بحالی سے ان کے سفر میں کم از کم 300 کلومیٹر کے سفر میں کمی واقع ہو گی۔

شہری ساگر خان ترین کے مطابق علاقے میں کوئی پختہ سڑک نہیں جس کی وجہ سے لوگ سفر کرنے سے کتراتے تھے لیکن اب انہیں صرف 94 کلومیٹر دور سبی جانے کے لیے کوئٹہ کا 330 کلومیٹر طویل سفر کرنا نہیں پڑے گا۔

کوئٹہ کے شمال مشرق میں 160 کلومیٹر کے فاصلے پر ہرنائی پہلے سبی کا حصہ تھا جسے اگست 2007 میں الگ ضلع بنایا گیا۔

یہ پشتون اکثریتی ضلع ہے تاہم کچھی، کوہلو اور سبی سے ملحقہ پہاڑی علاقوں میں بلوچوں کا مری قبیلہ آباد ہے۔ اس کے علاوہ پہلے سبی جانے کے لیے 1500 سے 1800 روپے خرچہ تھا جو اب صرف 220 روپے ہو جائے گا۔

ہرنائی کے ایک زمین دار اختر زمان نے ریلوے سروس کی بحالی کو ایک اچھا فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے سبی ڈویژن کی 11 لاکھ سے زائد آبادی فائدہ اٹھا سکے گی۔

ساگر خان ترین کے مطابق کچھ لوگ خصوصاً کئی نوجوان تو ایسے ہیں جنہوں نے یہاں ٹرین پہلی بار دیکھی ہے۔ ’سٹیشن پر بچوں اور بڑوں کا خاصا رش صرف اسے (ٹرین کو) دیکھنے کے لیے رہتا ہے۔ ایک تفریح کا سماں رہتا ہے۔‘

پاکستان ریلوے کے ڈویژنل سپرنٹنڈنٹ یوسف لغاری نے بتایا کہ جلد ہی ہرنائی سے مال بردار ٹرین بھی چلائی جائے گی جس سے زرعی پیداوار اور کوئلے کی ملک کے باقی علاقوں کی ترسیل ہو سکے گی۔

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا