اینٹی بائیوٹکس کا غیر ضروری استعمال کتنا نقصان دہ ہے؟

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) ہر سال 18۔24 نومبر کو ہفتہ ’اینٹی بائیوٹیکس کے خلاف مزاحمت‘ کے بارے میں آگاہی کے طور پر مناتا ہے۔

23 مارچ 2020 کی اس تصویر میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ادویات کی ایک دکان کا منظر (اے ایف پی)

یہ سوات کے 60  سالہ شخص کی کہانی ہے جنہیں بار بار یورینری ٹریکٹ انفکیشن (یو ٹی آئی) یعنی پیشاب کی نالی کے انفیکشن کا مسئلہ درپیش آتا تھا اور ڈاکٹر انہیں ہر مرتبہ اینٹی بائیوٹکس تجویز کرتے لیکن کچھ عرصے بعد بیماری دوبارہ آ دھمکتی۔

کئی بار اینٹی بائیوٹکس کے استعمال کے بعد ڈاکٹر نے خون کا کلچر ٹیسٹ تجویز کیا، جس سے معلوم ہوا کہ مریض کے جسم میں موجود جراثیم اینٹی بائیوٹکس کے خلاف مزاحمت رکھتے ہیں۔

اس مریض کی علاج کرنے والے سوات کڈنی ہسپتال کے سینیئر رجسٹرار ڈاکٹر شبیر احمد نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ کلچر ٹیسٹ کے بعد مریض کو ایک ہی وقت میں دو اینٹی بائیوٹکس دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ ’لیکن ضروری نہیں کہ اس سے افاقہ بھی ہو۔‘

ڈاکٹر شبیر کا کہنا تھا: ’اس حالت میں پھر ڈاکٹر کچھ نہیں کر سکتا کیونکہ مارکیٹ میں موجود اینٹی بائیوٹکس کام نہیں کرتیں اور کوئی دوسرا حل نہیں۔ مریض کو بس صرف انتظار کرنا پڑتا ہے کہ شاید انفیکشن خود بخود ٹھیک ہو جائے۔‘

ہمارے معاشرے میں دوائیوں کی دکان سے بغیر ڈاکٹر کا نسخہ بتائے کوئی بھی دوائی حاصل کرنا ایک عام پریکٹس ہے۔

یقیناً یہ سطور پڑھنے والوں میں سے اکثر نے کبھی نہ کبھی دوست احباب میں سے کسی سے پوچھ کر سینے، گلے یا کسی اور انفیکشن کی دوائی بغیر ڈاکٹر کے نسخے کے خریدی ہو گی اور فارمیسی پر ان سے نسخے سے متعلق پوچھا بھی نہیں گیا ہو گا۔

اگر آپ کے ساتھ ایسا ہوا ہے تو آپ اکیلے نہیں ہیں کیونکہ پاکستان میں روزانہ کئی لوگ ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر اینٹی بائیوٹکس خریدتے اور استعمال کرتے ہیں۔ 

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) ہر سال 18۔24 نومبر کو ہفتہ ’اینٹی بائیوٹیکس کے خلاف مزاحمت‘ کے بارے میں آگاہی کے طور پر مناتا ہے جس کا مقصد اینٹی بائیوٹیکس کے غیر ضروری استعمال کو روکنا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق پوری دنیا میں اینٹی بائیوٹیکس کے خلاف جراثیم کی مزاحمت بڑھ رہی ہے، جس سے ہر سال ہزاروں افراد موت کے منہ میں جا رہے ہیں اور اس فہرست میں پاکستان بھی شامل ہے۔

آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کے ایک تحقیقی مقالے کے مطابق پاکستان کم ترقی یافتہ ممالک میں اینٹی بائیوٹکس کے استعمال میں تیسرے نمبر پر ہے اور 2000 سے 2015 کی اینٹی بائیوٹکس پر تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ ایک ہزار کی آبادی میں روزانہ فی کس استعمال میں 65 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔

اس تحقیق میں71  ممالک کی تحقیق میں معلوم ہوا کہ پاکستان اینٹی بائیوٹکس کی استعمال میں  34ویں نمبر پر ہے جبکہ اینٹی بائیوٹکس کے خلاف جراثیم کی مزاحمت کی وجوہات میں ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر اینٹی بائیوٹکس خریدنا، غیرمعیاری اینٹی بائیوٹکس اور مراکز صحت تک کم رسائی شامل ہیں۔

اسی تحقیق میں2011  کی ایک دوسری تحقیق کا حوالہ دیا گیا ہے جس کے مطابق پاکستان میں نو فیصد اینٹی بائیوٹکس ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر خریدی جاتی ہیں۔  

ڈاکٹر شبیر نے بھی اس سے اتفاق کیا کہ معالج کے مشورے کے بغیر اینٹی بائیوٹکس کا غیر ضرروری استعمال مزاحمت کی بڑی وجہ ہے جبکہ کمزور معاشی حالت بھی وجوہات میں شامل ہے۔

اینٹی بائیوٹکس کے خلاف جراثیم کی مذاہمت کا کیا مطلب ہے؟

پاکستان جرنل آف میڈیکل اینڈ ہیلھ سائنز کے مطابق اینٹی بائیوٹکس انسانی جسم میں جراثیم کے خلاف لڑنے کے استعمال ہونے والی دوا ہے اور ان کے خلاف جراثیم کی مزاحمت سے مراد ہے کہ مذکورہ دوائی اپنے ٹارگٹ جراثیم کو مار نہیں پاتی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اینٹی بائیوٹکس ٹارگٹ جراثیم کو تو مار نہیں پاتی لیکن جسم میں موجود دوسرے کئی کارآمد جراثیم کا کاتمہ ضرور کر دیتی ہے، جس سے انسانی صحت کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

عالمی ادارہ صحت نے اینٹی بائیوٹکس کے زیادہ استعمال کی حوصلہ شکنی کی غرض سے ایک پروگرام شروع کیا ہے جس کا پاکستان بھی حصہ ہے۔

پاکستان جرنل آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنز کے مطابق ایشیا میں اینٹی بائیوٹکس کے خلاف جراثیم کی مزاحمت آنے والے سالوں میں 70 فیصد تک بڑھ سکتی ہے، جو انسانی جانوں کے لیے خطرہ ثابت ہو سکتا ہے۔

اسی مقالے میں ای کولائی بیکٹیریا (گول شکل کا بیکٹیریا جو عام طور پر انسانی معدے یا آنتوں میں انفیکشن کا باعث بنتا ہے) کے 95 فیصد کیسز میں پنسیلین اور 90 فیصد میں سیفراڈین اور ایمپیسلین کے خلاف مزاحمت کا مشاہدہ کیا گیا۔

پاکستان میں اینٹی بائیوٹکس کے متعلق قوانین  

اینٹی بائیوٹکس کی استعمال کے حوالے سے پاکستان میں قوانین موجود ہیں اور ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر ایسی ادویات کی فروخت جرم ہے۔

اینٹی بائیوٹکس کو کنٹرول کرنے کے عالمی ادارہ صحت کے پروگرام کے تحت ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی نے 2021 میں ایک گائڈ لائن بھی جاری کی ہے، جس میں اینٹی بائیوٹکس کے غیر ضروری استعمال اور فروخت کو کم کرنے کے حوالے سے بات کی گئی ہے۔

ان گائڈ لائنز کے مطابق تمام مراکز صحت کو واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ اینٹی بائیوٹکس کی تجویز اور مریضوں کے لیے جتنا ممکن ہو سکے غیر ضروری اینٹی بائیوٹکس تجویز نہ کی جائیں۔

گائڈ لائنز کے مطابق مرکز صحت میں مریضوں کی آگاہی کے لیے اینٹی بائیوٹکس کے استعمال پر بھی بات کی جائے تاکہ ان کے غیر ضروری استعمال کی حوصلہ شکنی ہو۔

گائڈ لائنز کے مطابق ادویات ک دکانوں پر مریض کو صرف ڈاکٹر کی تجویز پر اینٹی بائیوٹکس فروخت کی جائیں اور انہیں استعمال کا درست طریقہ بھی بتایا جائے۔

زیادہ پڑھی جانے والی صحت