پاکستان نے کب کب اور کن حالات میں آئی ایم ایف کا دروازہ کھٹکھٹایا

پاکستان نے اپنی 76 سالہ زندگی میں معاشی مسائل سے نمٹنے کی خاطر آئی ایم ایف سے 23 معاہدے کیے۔

8 اپریل 2021 کی اس تصویر میں واشنگٹن ڈی سی میں آئی ایم ایف ہیڈ کوارٹرز میں ارجنٹینا کا روایتی لباس زیب تن کیے ایک خاتون گزر رہی ہیں (اے ایف پی)

پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان اس سال جون میں ’معاشی استحکام کے پروگرام کی حمایت‘ کے لیے تین ارب ڈالر کا سٹینڈ بائی ارینجمینٹ (ایس بی اے) کا معاہدہ طے پایا تھا، جس کی وجہ سے فوری طور پر اسلام آباد کو 1.2 ارب ڈالر موصول ہوئے۔

15 نومبر کو انہی تین ارب ڈالر کے بیل آؤٹ کے پہلے جائزے پر آئی ایم ایف کے عملے نے پاکستان کے ساتھ معاہدہ کیا، جس کے تحت فنڈ کے ایگزیکٹیو بورڈ کی منظوری کے بعد اسلام آباد کو 70 کروڑ ڈالر کی ادائیگی کی جائے گی۔

پاکستان کی 76 سالہ زندگی میں آئی ایم ایف کے ساتھ اس سال جون میں ہونے والا معاہدہ مجموعی طور پر 23واں معاہدہ تھا۔ 

اس سے قطع نظر کہ اسلام آباد اور عالمی مالیاتی ادارے کے درمیان حالیہ معاہدہ کس حد تک پاکستانی معیشت میں بہتری کا سبب بنتا ہے، دیکھتے ہیں کہ یہ جنوبی ایشیائی ملک ماضی میں کب کب اور کن حالات میں آئی ایم ایف کے دروازے کی کنڈی کھٹکھٹاتا رہا ہے۔ 

آئی ایم ایف کی ’کرنسی‘

عالمی مالیاتی فنڈ ادائیگی تو امریکی ڈالر میں ہی کرتا ہے لیکن کسی رکن ملک کے لیے قرض کی منظوری ایک مخصوص کرنسی میں کی جاتی ہے اور اس کرنسی کو سپیشل ڈرائنگ رائٹ یا ایس ڈی آر کہا جاتا ہے۔

ایس ڈی آر کوئی کرنسی نہیں بلکہ ایک بین الاقوامی ریزرو اثاثہ ہے اور اس کی قیمت پانچ کرنسیوں کی باسکٹ پر مبنی ہوتی ہے۔

ایس ڈی آر کی قدر کا اندازہ لگانے کے لیے جن کرنسیوں کو استعمال کیا جاتا ہے ان میں امریکی ڈالر، یورپی یورو، چینی یوان، جاپانی ین، اور برطانوی پاؤنڈ سٹرلنگ شامل ہیں۔

یوں ہم کہہ سکتے ہیں کہ ایس ڈی آر کو دراصل آئی ایم ایف اور دوسرے بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے اکاؤنٹ کی اکائی کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

ایس ڈی آر کی قدر کا تعین امریکی ڈالر کے لحاظ سے روزانہ لندن کے وقت کے مطابق دوپہر کے قریب مشاہدہ کی جانے والی سپاٹ ایکسچینج کی شرحوں کی بنیاد پر کر کے آئی ایم ایف کی ویب سائٹ پر پوسٹ کی جاتی ہے۔

پاکستان اور آئی ایم ایف کی تاریخ

معرض وجود میں آنے کے بعد پاکستان کی معیشت بدحالی کا شکار تھی۔ ملک کی پیدائش کے 11 برس بعد 1958 میں سابق فوجی حکمران جنرل ایوب خان کی حکومت نے پہلی مرتبہ آئی ایم ایف سے قرض کی غرض سے رابطہ کیا۔

آئی ایم ایف نے پاکستان کے لیے ڈھائی کروڑ ایس ڈی آر کے پہلے قرض کی منظوری دی، جو کسی وجہ سے اسلام آباد نے وصول نہیں کیا۔

پڑوسی ملک انڈیا کے ساتھ 1965 میں جنگ کے تجربے سے گزرنے کے بعد پاکستانی معیشت مسائل کا شکار ہوئی، جس پر قابو پانے کے لیے جنرل ایوب کی حکومت نے دو مرتبہ یعنی 1965 اور 1968 میں آئی ایم ایف کو معاشی امداد کی درخواستیں دیں۔

1965 میں پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان تقریباً چار کروڑ ایس ڈی آر کا معاہدہ ہوا، جس کے ساتھ ہی اسلام آباد عالمی مالیاتی فنڈ کا باقاعدہ کلائنٹ بن گیا۔

پہلی وصولی کے ساڑھے تین سال بعد یعنی اکتوبر 1968 میں پاکستان کی فوجی حکومت نے ایک مرتبہ پھر آئی ایم ایف سے ساڑھے سات کروڑ ایس ڈی آر کے قرض کا معاہدہ کیا، یوں تین سال کے دوران اسلام آباد نے آئی ایم ایف سے 11 کروڑ سے زیادہ ایس ڈی آر وصول کیے۔

انڈیا کے ساتھ 1971 میں دوسری جنگ کے نتیجے میں پاکستان کے دو لخت ہونے اور بنگلہ دیش کے بننے کے باعث ملکی معیشت ایک مرتبہ پھر بدحالی کا شکار ہوئی اور ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کو 18 مئی، 1972 کو آئی ایم ایف کا دروازے کھٹکھٹانا پڑا، جس کے نتیجے میں آٹھ کروڑ ایس ڈی آر کا معاہدہ عمل میں آیا۔

بعدازاں ذوالفقار علی بھٹو وزیر اعظم منتخب ہوئے اور اپنے اقتدار کے دوران 1973، 1974 اور 1977 میں عالمی مالیاتی فنڈ کے آگے ہاتھ پھیلانے پر مجبور ہوئے۔ 

ان تین معاہدوں کے نتیجے میں آئی ایم ایف نے پاکستان کو 31 کروڑ ڈالر کا قرض دیا۔

پہلے دو (1973 اور 1974 میں) معاہدوں کے نتیجے میں آئی ایم ایف نے پاکستان کو ہر ایک میں ساڑھے سات کروڑ ایس ڈی آر ادا کیے، جبکہ 1977 میں قرض کی رقم آٹھ کروڑ ایس ڈی آر تھی۔

1979 میں سابق آرمی چیف جنرل ضیا الحق نے ملک میں مارشل لا نافذ کیا اور وہ 11 سال تک پاکستان میں سیاہ و سفید کے مالک رہے۔

جنرل ضیا الحق کے اقتدار کے دوران پاکستان نے آئی ایم ایف کے ساتھ 1980 اور 1981 میں مجموعی طور پر دو ارب ڈالر سے زیادہ کے دو الگ الگ معاہدے کیے۔  

آٹھ سالہ فوجی اور تین سالہ غیر جماعتی انتخابات میں بننے والی سابق وزیر اعظم محمد خان جونیجو کی حکومتوں کے بعد 1988 میں ہونے والے انتخابات کے نتیجے میں بے نظیر بھٹو نے اعنان اقتدار سنبھالا۔

پاکستان میں بننے والی اسلامی دنیا کی پہلی خاتون وزیر اعظم کی حکومت نے 1988 میں عالمی مالیاتی فنڈ سے مالی امداد کی مد میں دو معاہدوں کے نتیجے میں مجموعی طور پر 65 کروڑ سے زیادہ ایس ڈی آر کے قرضے حاصل کیے۔

1988 سے 1999 کے دوران پاکستان میں (پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز کی) چار جمہوری حکومتیں بنیں اور ٹوٹیں، جنہوں نے آئی ایم ایف سے مجموعی طور پر آٹھ (پانچ پیپلز پارٹی اور تین مسلم لیگ نواز نے) معاہدے کیے، جن کے نتیجے میں اسلام آباد کو تقریباً ڈیڑھ ارب ایس ڈی آر حاصل ہوئے۔

سابق چیف آف آرمی سٹاف جنرل پرویز مشرف نے اکتوبر 1999 میں نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹا۔ جنرل مشرف کو 2000 اور 2001 میں آئی ایم سے مجموعی طور پر ایک ارب ایس ڈی آر سے زیادہ کے معاہدے کرنا پڑے۔

اس کے بعد تقریباً سات سال تک پاکستان آئی ایم ایف سے دور رہا اور آخر کار نومبر 2008 میں پیپلز پارٹی کی حکومت نے عالمی فنڈ سے ملکی تاریخ کا سب سے بڑا بیل آؤٹ پیکج کے نتیجے میں تقریباً پانچ ارب ایس ڈی آر حاصل ہوئے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

 پاکستان مسلم لیگ ن 2013 میں اقتدار حاصل کرتی ہے اور اسی سال ستمبر میں اسلام آباد آئی ایم ایف کے دروازے پر پہنچا اور ملکی تاریخ کا دوسرا بڑا قرض (چار ارب ایس ڈی آر سے کچھ زیادہ) حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔

سابق وزیر اعظم عمران خان کی حکومت نے جون 2019 میں آئی ایم ایف کے ساتھ پاکستان کی جانب سے 22 واں معاہدہ کیا، جبکہ پی ڈی ایم حکومت نے جون 2023 میں عالمی مالیاتی فنڈ کے ساتھ ملک کا 23 واں معاہدہ کیا۔

مجموعی طور پر آج تک پاکستان نے آئی ایم ایف سے تقریباً 13.79 ارب ایس ڈی آر کا قرض حاصل کیا، جس میں سے 47 فیصد پیپلز پارٹی، 35 فیصد مسلم لیگ ن اور 18 فیصد فوجی آمروں نے لیے۔  

آئی ایم ایف کیسے بنا؟

ستمبر 1929 میں امریکہ میں جنم لینے اور پورے ایک عشرے تک جاری رہنے والا گریٹ ڈیپریشن دنیا کے لیے ایک معاشی جھٹکا ثابت ہوا، جس نے کئی ایک ممالک کو متاثر کیا۔

یہ 20 ویں صدی کا سب سے طویل، گہرا اور سب سے زیادہ پھیلنے والا ڈیپریشن تھا۔

دا گریٹ ڈیپریشن کے بعد دنیا کی معیشت کو متاثر کرنے والا دوسرا واقعہ دوسری جنگ عظیم تھی، جس نے کرہ ارض کی معیشت پر تباہ کن اثرات کے مرتب کیے اور 1945 میں اس کے خاتمے پر دنیا کے کئی عالمی مالیاتی ادارے غیر فعال ہو چکے تھے۔

دنیا میں ابتر اقتصادی صورت حال کے پیش نظر جولائی 1944 میں 44 اتحادی ممالک کے نمائندے گریٹ ڈپریشن اور جنگ عظیم دوئم کی وجہ بننے والی غلطیوں کے مداوے کی غرض سے عالمی تعاون پر مبنی ایک نئے اقتصادی نظام کی منصوبہ بندی کے لیے امریکہ کے شہر نیو ہیمپشائر میں ایک کانفرنس میں اکٹھے ہوتے ہیں۔

اس بیٹھک کے نتیجے میں دو ادارے وجود میں آتے ہیں ۔ ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف۔

کانفرنس میں ڈالر سے منسلک شرح مبادلہ کا ایک نظام قائم کیا جاتا ہے اور آئی ایم ایف کو تین اہم اہداف دیت ہیں: بین الاقوامی مالیاتی تعاون کو فروغ دینا، تجارت اور اقتصادی ترقی کی توسیع میں مدد کرنا اور خوش حالی کو نقصان پہنچانے والی پالیسیوں کی حوصلہ شکنی کرنا۔

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت