کشمیری نوجوان جو کچرہ پھینکنے کے لیے 12 کلو میٹر کا سفر کرتا ہے

عمران محمود کے مطابق بچوں کے استعمال شدہ ڈائپرز دیہی علاقوں میں نالوں اور پانی کی قدرتی گزرگاہوں میں کھلےعام پھینک دیے جاتے ہیں۔

دنیا بھر کے ممالک کی طرح پاکستان بھی ماحولیاتی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونیوالے مسائل کا سامنا کر رہا ہے، ایسے میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان نے ’استعمال شدہ ڈائپرز‘ کو ٹھکانے لگانے کی مہم شروع کر رکھی ہے۔

عمران محمود کی اس مہم کا مقصد علاقے میں پانی کے قدرتی وسائل کو صاف رکھنا اور آلودگی کا خاتمہ ہے۔

عمران محمود کے مطابق بچوں کے استعمال شدہ ڈائپرز دیہی علاقوں میں نالوں اور پانی کی قدرتی گزرگاہوں میں کھلےعام پھینک دیے جاتے ہیں۔

ڈائپرز کو عام کچرے کے مقابلے میں گلنے سڑنے میں سینکڑوں برس درکار ہیں ان ہی استعمال شدہ ڈائپرز کی وجہ سے قدرتی ماحول کو خطرات لاحق ہونے کے ساتھ ساتھ صاف پانی بھی آلودگی کا شکار ہورہا ہے۔

اس نوجوان نے نہ صرف اپنے گاوں میں لوگوں کے گھروں میں بچوں کے ’استعمال شدہ ڈائپرز‘ کو کھلے عام پھینکنے کی بجائے انہیں متبادل طور پر ٹھکانے لگانے کے بارے میں ترغیب دی بلکہ آس پاس کے دیہاتوں کو بھی اس خطرناک کچرے سے پاک کرنے کا عزم کیے ہوئے ہے تاکہ قدرتی ماحول اور پانی کو آلودگی سے بچایا جاسکے

مظفرآباد سے بارہ کلومیٹر دور دشوار گزار راستوں کی مسافت پر ایک پہاڑی کے دامن میں بستے گاوں درہ بٹنگی کا رہائشی عمران محمود اپنے ماحول اور اپنے گاوں سے گزرتے پانیوں کو آلودہ ہونے سے بچانے کی جنگ لڑ رہے ہیں اور اس جنگ میں ان کا سب سے بڑا مقابلہ ’استعمال شدہ ڈائپرز‘ سے ہے۔

 عمران نے اپنے گاوں کو ڈائیپرز اور پلاسٹک سے پاک کرنے کا عمل 10 سال پہلے اپنے گھر سے شروع کیا تھا۔

ان کا گاوں ایک پہاڑ کی بلندی پر واقع ہے جس کے اردگرد کئی چشمے موجود ہیں جن کا پانی پہاڑ سے گزر کر ڈھلوان سے بہتا ہوا دامن میں بستی آبادیوں کی طرف جاتا ہے۔

 یہ آبادیاں پینے اور استعمال کے لیے اسی پانی پر انحصار کرتی ہیں۔ ان پانیوں میں ڈائپرز اور کچرا پھینکے جانے سے یہ پانی اور چشمے آلودہ ہورہے تھے جن سے اس گاوں سے آگے پانی استعمال کرنے والی آبادی مسلسل متاثر ہو رہی تھی۔

عمران محمود نے شروعات میں اپنے آبائی گھر جہاں عمران اپنے خاندان کے ساتھ رہتا ہے وہاں سے ڈائپرز، پلاسٹک کو جلا تلف کرنے کی کوشش کی لیکن ڈائپرز  کو جلا کر تلف کرنا ممکن نہیں کیونکہ یہ استعمال کے بعد آگ نہیں پکڑتا۔

عمران نے ان ڈائپرز کو گڑھا کھود کر دفنانے کی کوشش بھی کی لیکن کھیتوں میں ہل چلانے سے دوبارہ زمین کی سطح پر آجاتے تھے جبکہ ان ڈائپرز کی زمین میں ضائع ہونے کی معیاد بھی سینکڑوں سال ہے۔

آخرکار عمران نے یہ ڈائپرز اپنے گاوں سے 12 کلومیٹر دور موجود شہر مظفرآباد لیکر جانے کا فیصلہ کیا جہاں وہ یہ استعمال شدہ ڈائپرز اور کچرا بلدیہ کی طرف سے لگائے گئے کوڑا دان میں پھینک دیتے ہیں۔

عمران محمود ہفتے میں دو دفعہ کی بنیاد پر اپنے گھر میں موجود استعمال شدہ ڈائپرز اور پلاسٹک ماحول دوست شاپنگ بیگز ’بائیو ڈی گریڈ ایبل شاپنگ بیگز‘ میں ڈال کر اپنے موٹر سائیکل پر سفر کرتے ہوئے ایک مشکل راستہ طے کر کے مظفرآباد پہنچتے ہیں۔

جہاں وہ یہ کچرا بلدیہ کے بنائے گئے کوڑا دانوں میں پھینک دیتے ہیں۔

عمران محمود نے اپنے گھر سے اس عمل کی شروعات کے بعد اپنے محلے کے دوستوں اور پھر گاوں کے باسیوں کو بھی اس بات پر قائل کیا کہ استعمال شدہ ڈائپرز کو پانی کی قدرتی گذرگاہوں میں پھینکنے کی بجائے انہیں ماحول دوست شاپنگ بیگز میں ڈال کر مظفرآباد میں موجود بلدیہ کی طرف سے لگائے گئے کوڑا دانوں میں ڈال دیا جائے تو اس سے نہ صرف  علاقے کا قدرتی ماحول صاف رہے گا بلکہ ان کے پانی کے قدرتی چشمے بھی آلودہ ہونے سے بچ جائیں گے۔

عمران محمود کے ترغیب دلانے کے بعد ان کے گاوں کے تقریباً تمام افراد گھر کے استعمال شدہ ڈائپر اور گندگی کھلے عام یا پانی کی گزرگاہوں میں پھینکنے کی بجائے گاڑیوں یا موٹر سائیکلوں پر لاد کر قریبی شہر مظفرآباد یا گڑھی حبیب اللہ جاتے ہوئے بلدیہ کے لگائے گئے کوڑا دانوں میں پھینکتے ہیں۔

اب عمران اپنے علاقے میں ’پلاسٹک شاپنگ بیگ‘ استعمال نہ کرنے کی بھی ترغیب دیتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

عمران اور ان کے دوست اپنے گھر کے لیے روز مرہ کا سودا سلف، سبزی وغیرہ اب پلاسٹک شاپنگ بیگز کی بجائے کپڑے کے بنے تھیلے میں لا رہے ہیں تاکہ اپنے علاقے میں شاپنگ بیگز کا استعمال کم از کم کیا جا سکے اور لوگوں کو پلاسٹک شاپنگ بیگ کی بجائے ماحول دوست شاپنگ بیگز یا کپڑے کا تھیلہ استعمال کرنے کے لیے قائل کیا جا سکے۔

عمران محمود اب اپنے گاوں سے ملحقہ دوسرے گاوں کے رہنے والوں کو بھی یہ آگاہی دے رہے ہیں کہ وہ اپنے ماحول کو صاف رکھیں اور پانیوں کو آلودہ ہونے سے بچائیں۔

عمران محمود کا کہنا ہیں کہ دیہاتی علاقوں میں استعمال شدہ ڈائپرز، پلاسٹک جیسے کچرے کو ٹھکانے لگانے کا کوئی انتظام نہیں، مستقبل میں جب دیہاتوں کی آبادی بڑھے گی تو کچرے کی پیدوار میں بھی اضافہ ہو گا۔

عمران مستقبل میں اس بات کو خواہاں ہیں کہ اس کے علاقے میں حکومتی سطح پر منصوبہ بندی ہونی چاہیے اور ایسے پراجیکٹ کا کام کیا جائے جس سے نہ صرف یہ کچرا تلف ہوسکے بلکہ اسے ری پرڈیوس کر کے متبادل طور پر بھی قابلِ استعمال بنایا جاسکے۔

پاکستان زیر انتظام کشمیر کا زیادہ تر حصہ دیہی علاقوں پر مشتمل لیکن حکومت کی جانب سے دیہی علاقوں میں کچرے کو ٹھکانے لگانے کا کوئی متبادل نظام سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔

 اس نظام کے نہ ہونے کی وجہ سے دیہی علاقوں میں موجود خوبصورت قدرتی ماحول اور پانی کے قدرتی ذخائر متاثر ہو رہے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی ماحولیات