چلڈرن ہسپتال لاہور: خون کے کینسر کا ’پہلا کامیاب‘ بون میرو ٹرانسپلانٹ

چلڈرن ہسپتال لاہور کے ڈاکٹر ناصر کے مطابق ابراہیم خون کے کینسر میں مبتلا تھے اور کامیاب بون میرو ٹرانسپلانٹ کے بعد اب اپنے گھر واپس جا چکے ہیں۔

ابراہیم کا علاج کرنے والے ڈاکٹر ناصر کے مطابق یہ ایک خطرناک ٹرانسپلانٹ تھا اور ہم نے فیملی کے سامنے ساری بات رکھ دی تھی(تصویر: ڈاکٹر سید ناصر عباس بخاری)

’ابراہیم نے ہسپتال سے گھر آتے مجھ سے لپٹنے کی خواہش کا اظہار کیا لیکن میں نے اسے کہا بیٹا اس کے لیے انتظار کرنا ہو گا۔‘

یہ بات انڈپینڈنٹ اردو کو بتاتے ہوئے زاہل بٹ کی آواز بھر آئی۔ زاہل بٹ دس سالہ ابراہیم کے والد ہیں۔

چلڈرن ہسپتال لاہور کے ڈاکٹر ناصر کے مطابق ابراہیم خون کے کینسر میں مبتلا تھے اور کامیاب بون میرو ٹرانسپلانٹ کے بعد اب اپنے گھر واپس جا چکے ہیں۔

ابراہیم کا بون میرو ٹرانسپلانٹ کرنے والے چلڈرن ہسپتال لاہور کے ہیڈ آف بون میرو ٹرانسپلانٹ یونٹ، ڈاکٹر سید ناصرعباس بخاری نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا: ’پاکستان کے کسی بھی سرکاری ہسپتال میں۔۔۔ بلڈ کینسر کے لیے کیا جانے والا یہ پہلا بون میرو ٹرانسپلانٹ ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ایک دو نجی ہسپتالوں میں یہ ٹرانسپلانٹ ہوا ہے لیکن سرکاری سطح پر ایسا پہلی بار کیا گیا ہے۔‘

ابراہیم کے والد نے بتایا کہ ’ابراہیم کو پہلی بار کینسر ساڑھے چھ سال کی عمر میں ہوا تھا جس کے بعد ہم نے ان کا تین سال پر محیط علاج کروایا اور یہ صحت مند ہو گئے۔ لیکن چند ماہ کے بعد ہی کینسر واپس آ گیا۔‘

ڈاکٹر ناصر نے بتایا کہ ’دس سالہ ابراہیم ہمارے پاس سے ہی علاج کروا رہے تھے لیکن ان کی بیماری واپس آ گئی۔

’ابراہیم کے پاس دو آپشن تھیں کہ یا تو ان کا بون میرو ٹرانسپلانٹ کیا جاتا یا پھر وہ ایک مقررہ وقت دنیا میں گزاریں اور دنیا سے چلے جائیں۔'

ڈاکٹر ناصر کے مطابق ’یہ ایک خطرناک ٹرانسپلانٹ تھا اور ہم نے فیملی کے سامنے ساری بات رکھ دی تھی۔ ابراہیم کے خاندان والوں کو بھی معلوم تھا کہ ان کے پاس کوئی اور چارہ نہیں ہے۔ نہ ہی وہ مالی طور پر مضبوط لوگ تھے کہ کسی نجی ہسپتال یا بیرون ملک سے علاج کروا سکتے اس لیے وہ ابراہیم کے ٹرانسپلانٹ کا رسک لینے کو تیار ہو گئے۔‘

ابراہیم کے والد زاہل جو ڈیلی ویجر ہیں کا کہنا تھا: ’ہم نے تو امید چھوڑ دی تھی لیکن چلڈرن ہسپتال کے ڈاکٹروں نے ناممکن کو ممکن بنا دیا اللہ نے انہیں فرشتہ بنا کر بھیجا۔‘

ڈاکٹر ناصر نے بتایا کہ ’ابراہیم کے والدین نے ٹرانسپلانٹ سے پہلے اپنی رضا مندی دی (کونسینٹ لیٹر) جس کے بعد ہم نے ابراہیم کی میچنگ کروائی اور ان کی اپنی ہی بہن سے میچنگ ہو گئی جو ان سے دو سال بڑی ہیں۔ ہم نے ان کا بون میرو لیا اور ابراہیم کا بون میرو ٹرانسپلانٹ کر دیا۔‘

ڈاکٹر ناصر نے بتایا کہ ’ٹرانسپلانٹ کے پورے عمل میں ڈیڑھ ماہ کا وقت لگا۔
’ہم نے ٹرانسپلانٹ دس نومبر کو کیا اور 28 نومبر کو ہم نے ابراہیم کو نارمل بون میرو کے ساتھ ہسپتال سے چھٹی دے کر گھر بھیج دیا لیکن اس سے پہلے ہم نے ان کا اپنا پورا میرو ختم کرنا تھا جس میں کم از کم 14 روز لگتے ہیں۔‘

بون میرو ٹرانسپلانٹ کے کتنے مرحلے ہیں؟

ڈاکٹر ناصر نے بتایا کہ ’بون میرو ٹرانسپلانٹ کے تین مرحلے ہوتے ہیں جس کی مثال یوں ہے کہ اگر ہماری کسی زمین میں لگی کوئی فصل خراب ہو گئی ہے تو پہلا مرحلہ ہو گا اس فصل کو مکمل طور پر صاف کرنا تاکہ ہمیں زمین خالی مل جائے۔

’دوسرا مرحلہ ہو گا نیا بیج ڈال دینا جبکہ تیسرا مرحلہ یہ دیکھنا کہ وہاں نئی فصل اگ آئے جو کہ نارمل ہو۔‘

ان کے مطابق ’بون میرو ٹرانسپلانٹ بھی بالکل اسی مثال جیسا ہی ہے۔ اس کے پہلے مرحلے میں ہم بون میرو کو بالکل صاف کر دیتے ہیں یعنی جسم سے ختم کر دیتے ہیں۔

’دوسرا مرحلہ نیا بون میرو ٹرانسپلانٹ کرنا اور تیسرا مرحلہ ہوتا ہے ان گرافٹمنٹ یعنی جب نیا بون میرو جسم کے اندر کام کرنا شروع کر دے اور یہ بون میرو کام شروع کرنے میں دو سے تین ہفتے لیتا ہے۔‘

’ابراہیم کے کیس میں بھی یہی ہوا کہ جب ابراہیم ساڑھے تین ماہ پہلے کینسر کے دوبارہ ظاہر ہو نے کے بعد ہمارے پاس رپورٹ ہوئے تو ہم نے کیمو تھراپی سے ان کا پورا بون میرو ختم کیا اور جب ان میں کینسر کا رزلٹ منفی آیا تو اس سے پہلے کہ کینسر دوبارہ ظاہر ہوتا ہم نے ان کا بون میرو ٹرانسپلانٹ کر دیا۔‘

بون میرو لیا کیسے جاتا ہے؟

ڈاکٹر ناصر نے بتایا کہ ’بون میرو جب لیا جاتا ہے تو پہلے ہم دیکھتے ہیں کہ مریض کا وزن کتنا ہے اس کا سائز کتنا ہے اس کی حالت کیا ہے اس حساب سے ہمیں کتنے سیلز چاہیے جو ایک زیر علاج بچے کے لیے کافی ہوں گے۔‘

انہوں نے بتایا کہ ’بون میرو کا کام خون بنانا ہے، ریڈ سیلز وائٹ سیلز، پلیٹ لیٹس بنانا اور جسم میں قوت مدافعت پیدا کرنا ہے۔ جب ہم مریض کا اپنا بون میرو بالکل ختم کرتے ہیں تو ظاہری بات ہے یہ تینوں چیزیں نہیں بنتی اور مریض کی قوت مدافعت صفر ہو جاتی ہے، اس کا خون بننا بالکل بند ہو جاتا ہے پلیٹ لیٹس بننے بالکل بند ہو جاتے ہیں۔

’ہمیں مریض کے جسم سے خون بہنے کا ڈر بھی لاحق ہو تا ہے۔ بون میرو کے قدرتی کام کو ہم مصنوعی طور پر جسم کے باہر سے مریض کو مہیا کر رہے ہوتے ہیں اور جب تک بون میرو کام کرنا شروع نہیں کرتا ہم اسے یہ سپورٹ فراہم کرتے ہیں‘

انہوں نے بتایا کہ ’بون میرو ٹرانسپلانٹ کے پورے عمل کے دوران مریض ہمارے پاس ہسپتال میں داخل رہتا ہے اور اسے ایک مخصوص ماحول میں رکھا جاتا ہے جہاں ہوا بھی فلٹر ہو کر آ رہی ہوتی ہے اور باقی پریشرز کو بھی ٹھیک رکھا جاتا ہے کیونکہ مریض کی اپنی قوت مدافعت صفر ہوتی ہے اور کوئی بھی جراثیم، بیکٹیریا یا وائرس اس پر حملہ کر سکتا ہے اور یہی سب سے خطرناک مرحلہ ہوتا ہے جہاں مریض کی جان جانے کا سب سے زیادہ امکان ہو تا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا ’اس سب کے بعد جب مریض کا نیا بون میرو کام کرنا شروع کر دے تب ہم کہتے ہیں کہ ایک کامیاب ٹرانسپلانٹ ہوا ہے۔‘

کیا بون میرو عطیہ کرنے والے کو کوئی خطرہ ہوتا ہے؟

ڈاکٹر ناصر کے مطابق ’بون میرو ٹرانسپلانٹ میں بون میرو عطیہ کرنے والے ڈونر کو کوئی خطرہ نہیں ہوتا۔ ابراہیم کے کیس میں ان کی بہن نے بون میرو عطیہ کیا تھا اور وہ اگلے روز گھر جا چکی تھیں۔‘

بلڈ کینسر میں بون میرو ٹرانسپلانٹ کا خرچ کتنا آتا ہے؟

ڈاکٹر ناصر نے بتایا کہ ’بلڈ کینسر کے لیے بون میرو ٹرانسپلانٹ کے لیے نجی ہسپتال میں کم از کم 50 لاکھ روپے کا خرچہ ہوتا ہے لیکن چلڈرن ہسپتال لاہور میں ابراہیم کے علاج کے لیے ان کے والدین سے کوئی رقم وصول نہیں کی یہاں تک کہ ایک انجیکشن بھی ہم نے ان سے خریدنے کے لیے نہیں کہا یہاں تک کہ انہیں کھانا بھی ہسپتال کی طرف سے دیا جاتا تھا۔‘

ابراہیم کے والد زاہل بٹ نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ ہسپتال میں علاج کے لیے تو ان کی کوئی رقم خرچ نہیں ہوئی لیکن چونکہ وہ کشمیر کے رہنے والے ہیں اور یہاں لاہور میں کام کرتے تھے اور ابراہیم کا علاج بھی لاہور میں ہی ہونا تھا اس لیے انہیں کشمیر کا گھر بیچ کر لاہور میں گھر کرائے پر لینا پڑا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کے مطابق ’ہسپتال آنے جانے کا خرچہ، پھر یہاں کرائے کے گھر کے اخراجات۔ خاندان ساتھ ہو تو کھانے پینے کا خرچہ بھی کرنا پڑتا تھا اس لیے ان کاموں میں ہمارا پیسہ لگا لیکن علاج کے لیے ہمیں کوئی رقم خرچ نہیں کرنا پڑی۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’اب جب ابراہیم واپس آ گیا ہے تو میں نے ہسپتال کے قریب ہی ایک اور چھوٹا سا گھر کرائے پر لیا ہے جہاں ابراہیم اور اس کی ماں رہائش پذیر ہیں۔ یہ گھر اس لیے لیا کہ ایک تو وہ ہسپتال کے قریب رہے دوسرا ڈاکٹروں نے ابھی اسے الگ رکھنے کے لیے کہا ہے اس لیے میں خود وہاں نہیں رہ رہا بس وہ اور اس کی ماں وہاں ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ اسے کسی سے ملنے جلنے سے بچایا جا سکے۔‘

ڈاکٹر ناصر کے مطابق ’ابراہیم کا بون میرو کام کر رہا ہے لیکن ابھی ان کی قوت مدافعت کمزور ہے اس لیے کم ازکم چھ ماہ سے ایک سال تک انہیں احتیاط کرنا ہو گی تاکہ اراہیم کو کوئی انفیکشن وغیرہ نہ ہو۔‘

انہوں نے بتایا کہ ’ابراہیم کے بون میرو ٹرانسپلانٹ کے لیے حکومت اور ہمارے ڈونرز نے رقم فراہم کی اور چلڈرن ہسپتال میں ہم سو سے زیادہ بچوں مختلف امراض میں مبتلا بچوں کے مختلف ٹرانسپلانٹ کر چکے ہیں لیکن کسی بھی مریض سے ہم نے کبھی ایک روپیہ بھی نہیں لیا۔‘

ڈاکٹر ناصر نے بتایا کہ ’چلڈرن ہسپتال میں ٹرانسپلانٹ کی سہولت 2018 سے شروع کی گئی۔

’یہاں تھیلیسیمیا، قوت مدافعت کی کمی، کنجینیٹل ڈس آرڈر کی بیماریاں اور اب کینسر کے لیے ٹرانسپلانٹ بھی شروع کر دیا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا ’بلڈ کینسر کے لیے پہلے بون میرو ٹرانسپلانٹ کے کامیاب ہونے کے بعد ہم لوگوں کو بتانا چاہتے ہیں کہ یہ سہولت چلڈرن ہسپتال میں موجود ہے اور اگر کینسر دوبارہ واپس آ بھی جاتا ہے تو وہ قابل علاج ہے انہیں گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر کسی مریض کے پاس پیسے نہیں بھی ہیں تو ہم ان کے لیے فنڈز کا انتظام بھی کر سکتے ہیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی صحت