پاکستانی خواتین کو آن لائن روزگار کی تربیت دینے والی نمرہ ناصر

نمرہ ناصر نے بتایا کہ وہ کارپوریٹ ڈیلنگ کے ساتھ پاکستانی خواتین کو گھر بیٹھے آن لائن چھوٹے کاروبار کرنے سے متعلق آگاہی مفت فراہم کرتی ہیں۔ جبکہ کمپنی لیول پر کاروباری انداز میں ٹریننگ کراتی ہیں۔

پاکستانی خواتین کو خودکفیل ہونے میں مدد دینے کے لیے آن لائن تربیتی کورس کروانے والی نمرہ ناصر لاہور کی رہائشی ہیں جو آئندہ روس میں منعقدہ ورلڈ یوتھ فیسٹیول میں نمائندگی کرنے والے پاکستانی وفد کی رکن ہوں گی۔

پنجاب یونیورسٹی سے تعلیم یافتہ نمرہ اب دنیا کے مختلف ممالک میں آن لائن کارپوریٹ ٹریننگ بھی دیتی ہیں۔

نمرہ ناصر نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ امریکہ، برطانیہ، چین، کینیڈا، روس، انڈیا، جرمنی، سری لنکا سمیت دنیا کے کئی ممالک میں آن لائن کاروبار سے متعلق تربیت دے رہی ہیں۔ ’جس میں مصنوعی ذہانت کو استعمال کرتے ہوئے مارکیٹنگ کے جدید طریقے، تخلیقی انداز میں کام کرنے اور فلم بنانے سے متعلق تربیت شامل ہے۔‘

نمرہ ناصر نے بتایا کہ وہ کارپوریٹ ڈیلنگ کے ساتھ پاکستانی خواتین کو گھر بیٹھے آن لائن چھوٹے کاروبار کرنے سے متعلق آگاہی مفت فراہم کرتی ہیں۔ جبکہ کمپنی لیول پر کاروباری انداز میں ٹریننگ کراتی ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

نمرہ ناصر کا کہنا ہے کہ ’روس میں ہونے والے ورلڈ یوتھ فیسٹیول جو یکم مارچ سے سات مارچ 2024 کو منعقد ہو رہا ہے، جس میں دنیا بھر کے 20 ہزار سے زائد نوجوان حصہ لے رہے ہیں، اس میں پاکستان کی نمائندگی کے لیے جانے والے وفد کی کوآرڈینیشن کے لیے کمیٹی میں، میں بھی شامل ہوں۔‘

’اس فیسٹیول میں 18 سے 35 سال کی عمر تک کے نوجوان مرد اور خواتین کو شرکت کی اجازت ہو گی۔ یہاں کارپوریٹ طریقے سے ذاتی کاروبار سے متعلق آگاہی کے ساتھ مواقع فراہم کیے جائیں گے کہ نوجوان اپنے آن لائن یا چھوٹے کاروبار سے کس طرح کامیاب ہوسکتے ہیں۔ اس دوران عالمی سطح پر مختلف کمپنیوں اور اداروں سے رابطوں کے موقع بھی موجود ہوں گے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’اس فیسٹیول میں شرکت کے لیے آن لائن سات دسمبر تک اپلائی کیا جا سکتا ہے۔ شرکت کے خواہش مند حضرات کو ہم کمیٹی کے ذریعے سہولیات فراہم کریں گے۔ اس موقع سے تمام خواہش مند نوجوان مستفید ہوسکیں گے یہی اس فیسٹیول کا مقصد ہے۔‘

نمرہ ناصر کا کہنا تھا کہ سلائی کڑھائی سے لے کر آن لائن ٹیچنگ تک روزگار کے مختلف مواقع ہر شعبہ میں موجود ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا