انتخابی سیاست میں خواتین کو آج تک ان کا مقام کیوں نہیں مل سکا؟

بین الاقوامی دباؤ پر اسمبلیوں میں خواتین کی نشستیں ضرور بڑھائی گئی ہیں مگر ان پر زیادہ تر سیاسی خانوادوں کا قبضہ رہا ہے، جس کی وجہ سے وہ اسمبلیوں میں نمایاں کردار ادا کرنے میں ناکام رہی ہیں۔

سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس (فائل تصویر: قومی اسمبلی/فیس بک)

پاکستانی سیاست میں خواتین کا کردار قیام پاکستان سے ہی اہم رہا ہے۔ سیاسی کارکن خواتین نے ملک کے قیام کی جدوجہد میں حصہ لینے کے ساتھ اسمبلی میں آنے کے بعد معاشرے کے پسے ہوئے طبقات مثلاً خواتین، اقلیتوں، خواجہ سراؤں اور معذور افراد کے ساتھ کرپشن کے خاتمے کے لیے قانون سازی میں اہم کردار ادا کیا، تاہم پارلیمنٹ میں پہنچنے کے بعد بھی خواتین ارکانِ اسمبلی کو ان کا مقام نہیں مل سکا۔

انٹر پارلیمنٹری یونین کی رینکنگ کے مطابق 2018 میں خواتین کی نمائندگی میں پاکستان دنیا کے 190 ممالک میں سے 100 ویں نمبر پر ہے۔ گلوبل جینڈر گیپ رپورٹ 2022 میں خواتین کو سیاسی طور پر بااختیار بنانے کی رینکنگ میں پاکستان 153 ممالک میں 93 نمبر پر دکھایا گیا ہے، جہاں کل خواتین میں سے صرف 20 فیصد خواتین قانون سازی کا حصہ ہیں اور ان میں سے 12 فیصد خواتین کو وزارتیں ملتی ہیں۔

قومی اسمبلی کی ویب سائٹ پر موجود اعداد و شمار کے مطابق قیام پاکستان کے 55 سال بعد تک منتخب 11 اسمبلیوں میں خواتین کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر رہی ہے اور سیاسی جماعتوں کی جانب سے بھی خواتین امیدواروں کو ٹکٹ دینے کی شرح صفر رہی ہے۔

تاہم عالمی اداروں کے دباؤ پر 2001 میں ہونے والی قانون سازی کے بعد خواتین کی مخصوص نشستوں کی تعداد 33 فیصد مقرر کر دی گئی، جس کے بعد 2002 میں منتخب ہونے والی 12ویں قومی اسمبلی میں پہلی بار بڑی تعداد میں خواتین منتخب کی گئیں، جن کی تعداد 74 تھی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان میں سے 13 انتخابی میدان سے کامیاب ہو کر پہنچیں جبکہ 60 مخصوص نشستوں پر اور ایک اقلیتی نشست پر منتخب ہوئیں، تاہم الیکشن ایکٹ 2017 (ترمیمی) کے مطابق سیاسی جماعتوں پر کل ٹکٹوں کا پانچ فیصد خواتین امیدواروں کے لیے رکھنے پر اب تک زیادہ ترعمل درآمد نہیں ہو سکا ہے۔

سابق امیدوار قومی اسمبلی نوشین خان بلوچ کا کہنا ہے کہ ’2001 کی قانون سازی کے بعد اسمبلیوں میں خواتین کے کردار میں اضافہ ضرور ہوا لیکن یہ عوامی سطح پر غیر موثر اس لیے رہا ہے کہ خواتین کے لیے مخصوص نشستوں پر زیادہ تر سیاسی خانوادوں کا قبضہ رہا ہے اور کئی خاندانوں نے خواتین کی سیٹ پُر کرنے کو ہی اکتفا سمجھا اور انہیں اسمبلی میں کردار ادا نہیں کرنے دیا گیا ہے جبکہ مخصوص نشستوں کے لیے بہت کم تعداد میں ورکر خواتین کو منتخب کیا گیا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’اگر ورکر خواتین کو اسمبلی کی مخصوص نشستوں پر سامنے لانے کے لیے پانچ فیصد ٹکٹ کے کوٹے پر ہی عمل کر لیا جائے تو خواتین اسمبلی میں بڑی تبدیلی لا سکتی ہیں۔‘

2018 سے 2023 کے عرصے کے لیے منتخب 15 ویں قومی اسمبلی کے عام انتخابات میں ضلع ملتان سے قومی اسمبلی کی چھ نشستوں پر بڑی سیاسی جماعتوں کی جانب سے کسی خاتون امیدوار کو ٹکٹ نہیں دیا گیا، تاہم جنوبی پنجاب کے 13 اضلاع میں بھی صرف ڈی جی خان سے پاکستان تحریک انصاف نے زرتاج گل کو ٹکٹ جاری کیا۔

اس طرح ضلع ملتان کی 13 صوبائی اسمبلی کی نشستوں میں سے دو پر پاکستان مسلم لیگ ن کی جانب سے خواتین امیدواروں کو ٹکٹ جاری کر کے میدان میں اتارا گیا۔ ان دونوں خواتین میں سے پی پی 217 ملتان شہرسے سابق صوبائی وزیر عبدالوحید آرائیں کی اہلیہ امیدوار تھیں، انہیں شوہر کی جعلی ڈگری پر نااہل ہونے کی وجہ سے میدان میں تو اتارا گیا لیکن ان کے انتخابی پوسٹروں پر ان کی تصویر موجود ہی  نہیں تھی جبکہ اصلی نام  تسنیم کوثر کی جگہ بھی پوسٹرز پر بیگم عبدالوحید آرائیں لکھا گیا۔

اس طرح کسی بھی انتخابی جلسے میں بیگم عبدالوحید آرائیں کو نہیں دیکھا گیا اور ان کی جگہ ان کے شوہر اور سابق صوبائی وزیر انتخابی میٹنگز کرتے رہے اور وہ ناکام بھی رہیں۔

دوسری امیدوار پی پی 223 جلالپور پیروالہ سے نغمہ مشتاق لنگاہ تھیں، جو سیاست میں آنے سے قبل مکمل طور پر گھریلو خاتون تھیں۔ لنگاہ خاندان کے سربراہ سابق تحصیل ناظم اور ایم پی اے مشتاق خان لنگاہ کی وفات کے بعد ان کے بیٹے کے کمسن ہونے کی وجہ سے ان کی اہلیہ کو میدان سیاست میں اتارا گیا۔

انہوں نے عملی طور پر خود کو سیاست دان ثابت کرنے کے لیے بہت محنت کی اور مرد امیدواروں کے شانہ بشانہ مقابلہ کر کے دوسری مرتبہ 2013 کے بعد 2018 میں بھی کامیابی حاصل کی۔

2021 کے ضمنی انتخاب میں ملتان شہر کے حلقہ این اے 154 سے پاکستان تحریک انصاف کے شاہ محمود قریشی نے پہلی مرتبہ اپنی بیٹی کو میدان میں اتارا اور ان کا تحریک انصاف سے پرانا تعلق ثابت کرنے کی کوشش کی گئی۔

بعدازاں مہر بانو قریشی کو انتخابی عمل کے دوران کسی بھی مردانہ میٹنگ میں شرکت نہیں کرنے دی گئی اور انہوں نے صرف خواتین کی میٹنگز سے خطاب کیا، تاہم اس کے باوجود وہ کامیاب نہیں ہو سکیں۔

صوبائی حلقے پی پی 222 سے کئی ناکامیوں کے بعد 2018 میں پہلی بار کامیاب ہونے والے پاکستان تحریک انصاف کے ملک غلام عباس کھاکھی چند روز بعد ہی انتقال کر گئے اور ان کی خالی ہونے والی نشست سے ان کی گھریلو ذمہ داریاں انجام دینے والی اہلیہ شازیہ عباس کھاکھی کو ٹکٹ دیا گیا۔

البتہ انتخابی میدان میں ان سے زیادہ ان کے بھائی نے کردار ادا کیا جبکہ باقی خاندان نے پوری طرح ساتھ نہیں دیا۔ زیادہ تر انتخابی مہم بھی سوشل و پرنٹ میڈیا کے ذریعے چلائی گئی اور وہ شوہر کی جیتی ہوئی نشست ہار گئیں۔

سیاسی جماعتوں کا یہ تضاد بھی قابل توجہ ہے کہ جنوبی پنجاب میں اگرچہ سیاسی طور پر مستعد خواتین کارکنوں میں پاکستان پیپلز پارٹی کی بیگم بی اے جگر، سحرش خان، کلثوم بلوچ، عابدہ بخاری، پاکستان تحریک انصاف کی ڈاکٹر روبینہ اختر، قربان فاطمہ، ڈاکٹر سمیرا ملک، آصفہ سلیم، پاکستان مسلم لیگ ن کی شمشاد نور اللہ، عذرا واجد، پاکستان مسلم لیگ ق کی سحرش رمضان، بیگم نسیم، نسرین بلال بٹ کی جدوجہد نمایاں ہے۔

خواتین کو صرف مخصوص نشستوں تک محدود کرنے کی بجائے انہیں انتخابی میدان میں اتار کر اپنی صلاحیتیں دکھانے کا موقع دینا چاہیے۔

تاہم سیاسی خانوادوں کی جانب سے نااہلی یا متبادل نہ ہونے کی صورت کی بجائے اپنے گھر کی خواتین کو ٹکٹ جاری کیے گئے اور انہیں پوری طرح انتخابی مہم نہیں چلانے دی گئی، جس کے نتیجے میں بیشتر خواتین سیاسی میدان میں ناکام رہیں۔

ان خواتین میں ضلع مظفرگڑھ سے سابق ایم پی اے سید عبداللہ شاہ کی اہلیہ زہرہ خاتون، سابق ایم این اے سید باسط سلطان بخاری کی اہلیہ زہرہ باسط، خانیوال سے سابق ایم پی اے نشاط خان ڈاہا کی اہلیہ نورین نشاط بھی اپنے شوہروں کی جیتی ہوئی نشستوں پر کامیاب ہونے سے رہ گئیں۔

ضلع وہاڑی میں آزاد امیدوار عائشہ چوہدری بھی آزاد انتخابی مہم نہ چلانے کی وجہ سے ناکام رہیں۔ ضلع کوٹ ادو سے 2002 کے قومی انتخابات میں والد کی تعلیمی قابلیت پوری نہ ہونے کے نتیجے میں امیدوار بننے کے بعد اور والد کی محنت کی وجہ سے کامیاب ہو کر وزیر خارجہ کے منصب پر فائز رہنے والی حنا ربانی کھر کو اگلے قومی انتخابات میں دوبارہ ٹکٹ دینے کی بجائے بیرون ملک سے تعلیم مکمل کر کے آنے والے ان کے بھائی ملک رضا کھر کو ٹکٹ دیا گیا۔

سماجی تنظیم پتن کی رابطہ کار برائے جنوبی پنجاب رابعہ غنی کا کہنا ہے کہ ’پاکستان کی سیاست میں خواتین کی نمائندگی پہلے ہی کم ہے، اس لیے پہلے تو اس امر کی زیادہ ضرورت ہے کہ خواتین کو قومی سیاسی دھارے میں لایا جائے، جس کے لیے سیاسی خاندانوں کی خواتین کو بھی میدان میں لانے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’اس لیے خواتین کو صرف مخصوص نشستوں تک محدود کرنے کی بجائے انہیں انتخابی میدان میں اتار کر اپنی صلاحیتیں دکھانے کا موقع دینا چاہیے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی دفتر