مسلم لیگ ن پارٹی ٹکٹ کب تقسیم کرے گی؟

آئندہ عام انتخابات کے لیے پارٹی ٹکٹ دینے کے لیے مسلم لیگ ن کا پارلیمانی بورڈ کام جاری رکھے ہوئے ہے، لیکن بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کچھ اضلاع میں دھڑے بندیوں کے سبب ٹکٹوں کا اعلان سست روی کا شکار ہے۔

مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف اور صدر شہباز شریف ایک پارٹی اجلاس کے دوران (مسلم لیگ ن ٹوئٹر اکاؤنٹ)

 پاکستان مسلم لیگ ن نے آئندہ عام انتخابات میں پارٹی کی نامزدگی حاصل کرنے والوں کے انٹرویوز اور الیکشن بورڈ کی طرف سے خواہش مند امیدواروں کے جائزے کا کام تو گذشتے ہفتے شروع کر دیا تھا لیکن ابھی تک کسی بھی حلقے سے ایسے امیدواروں کا اعلان نہیں کیا گیا، جنہیں پارٹی ٹکٹ جاری کیے جائیں گے۔

پیر کو بھی پارٹی کے پنجاب کے صدر رانا ثنا اللہ نے لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ پارٹی کے پارلیمانی بورڈ نے ضلع راولپنڈی سے پارٹی کے ٹکٹ کے خواہش مند مقامی سیاست دانوں کے انٹرویوز کیے، لیکن یہ اعلان نہیں کیا گیا کہ پارٹی کا ٹکٹ کسے جاری کیا جائے گا۔

مسلم لیگ ن کا پارلیمانی بورڈ رواں ہفتے خیبرپختونخوا اور بلوچستان سے پارٹی کے ٹکٹ کے خواہش مند سیاست دانوں کے ناموں کا جائزہ لے گا۔

مسلم لیگ ن پنجاب کی سیکرٹری اطلاعات عظمیٰ بخاری نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ پنجاب کے پارٹی صدر رانا ثنا اللہ نے اعلان کیا تھا کہ امیدواروں کے انٹرویوز کرنے کے بعد جہاں اتفاق رائے ہے، وہاں امیدوار کے نام کا اعلان انٹرویو کے ایک دو دن بعد کر دیا جائے گا۔

’جہاں امیدواروں کے نام پر اتفاق رائے نہیں ہے وہاں کمیٹیاں بنا دی گئیں تاکہ وہ جلد از جلد امیدواروں کا چناؤ کر کے رضا مندی پر پہنچیں اور جو فائنل ہو اس کے نام کا اعلان کیا جائے۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پارلیمانی بورڈز کام کر رہے ہیں، جہاں صوبائی اور قومی اسمبلی کے لیے امیدواروں کا ایک ’وننگ کمبی نیشن‘ موجود ہے۔ ان کے بارے میں پارٹی کی رائے بھی یہی ہے کہ اس کو نہیں چھیڑنا چاہیے۔ 

عظمٰی بخاری نے بتایا کہ ضلع سرگودھا والے پارلیمانی بورڈ کا فیصلہ تقریباً تیار ہے اور اس کا اعلان کسی بھی وقت کیا جا سکتا ہے لیکن پارٹی میں ایک رائے یہ بھی موجود ہے کہ پہلے تمام امیدواروں کے نام فائنل کر لیے جائیں اور اس کے بعد ایک ساتھ فہرست جاری کر دی جائے۔

سینیئر تجزیہ کار وجاہت مسعود نے پاکستان مسلم لیگ ن کے پارلیمانی بورڈز کے ان انٹرویوز اور ٹکٹوں کی تقسیم میں تاخیر کے حوالے سے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا: ’میرے خیال میں صحیح معنوں میں سیاسی سرگرمیاں عام انتخابات کا شیڈول آنے کے بعد ہوں گی۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ باقی جماعتوں نے اپنے امیدواروں کا اعلان نہیں کیا کیونکہ ابھی تو ابتدائی مرحلہ چل رہا ہے۔ 

’میرے خیال میں تو مسلم لیگ ن اپنے امیدوار چننے میں باقی جماعتوں سے آگے ہے۔ پیپلز پارٹی نے ابھی نام فائنل نہیں کیے اور تحریک انصاف تو مشکل میں بھی ہے اور ان سے اتنی جلدی توقع بھی نہیں کی جاسکتی۔ ظاہر ہے کہ وہ پہلے ہوا کا رخ دیکھنا پسند کریں گے۔‘

وجاہت مسعود کے مطابق: ’میں نہیں سمجھتا کہ مسلم لیگ ن امیدوار فائنل کرنے میں دیر کر رہی ہے کیونکہ پنجاب میں وہ ممکنہ فاتح جماعت ہے، اس لیے ایسی پارٹی کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ مختلف حلقوں میں جو دھڑے ہیں، انہیں کیسے ایڈجسٹ کیا جائے، اس لیے انہیں امیدواروں کو نامزد کرنا ذرا مشکل کام ہوتا ہے۔‘ 

ان کا کہنا تھا کہ اسی طرح سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت چونکہ پہلے سے چل رہی ہے، اس لیے ان کو وہاں ایسی مشکل پیش نہیں آئے گی لیکن مسلم لیگ ن کو وہاں ہر حلقے میں سوچ سمجھ کر قدم اٹھانا پڑے گا۔ 

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف لیجسلیٹیو ڈویلپمنٹ اینڈ ٹرانس پیرنسی (پلڈاٹ) کے صدر احمد بلال محبوب نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’یہ فیصلے آسان نہیں ہوتے کیونکہ ایک نشست پر بہت سے امیدوار امید لگا کر بیٹھے ہوتے ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کے خیال میں کچھ امیدوار پرانے ہوتے ہیں، جو اپنی وفاداریاں نبھا رہے ہوتے ہیں اور کچھ کا میرٹ ہوتا ہے۔ ان سب چیزوں کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کرنا آسان نہیں ہوتا۔ 

احمد بلال محبوب کے مطابق اب تک الیکشن کمیشن نے کاغذات نامزدگی جمع کروانے کا اعلان نہیں کیا، اس لیے اس اعلان کے ہونے تک پاکستان مسلم لیگ ن والے اپنی آپشنز کھلی رکھنا چاہتے ہیں۔

’اس تاخیر کا انہیں نقصان صرف یہ ہو سکتا ہے کہ اگر کسی امیدوار کو یہ نہیں معلوم کہ اسے ٹکٹ ملا ہے یا نہیں تو وہ امیدوار پوری طرح سے اپنی انتخابی مہم نہیں چلا پاتا اور اگر اسے ٹکٹ مل جائے تو وہ دل جوئی سے اپنی مہم چلا لیتا ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ غالباً الیکش کمشن 15 سے 21 دسمبر تک کاغذات نامزدگی جمع کروانے کا اعلان کرے گا۔

سیاسی تجزیہ کار اور صحافی عاصم نصیر 2007 سے پاکستان مسلم لیگ ن سے متعلق خبروں کی کوریج کر رہے ہیں۔ انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا: ’میں نے یہی دیکھا ہے میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف نے ہمیشہ ٹکٹ دینے کا اختیار 100 فیصد اپنے ہاتھ میں رکھا ہوا ہے۔ یہی ایک بنیادی وجہ ہے کہ یہ ٹکٹوں کی تقسیم ہمیشہ آخری وقت پر جا کر کرتے ہیں۔‘

انہوں نے بتایا: ’میری اپنی اطلاع ہے کہ شہری علاقوں جن میں لاہور، گجرانوالہ، سرگودھا، اسلام آباد، سیالکوٹ، راولپنڈی، ملتان شامل ہیں اور جہاں ان کے امیدوار بھی زیادہ ہیں، میں ٹکٹس سب سے آخر میں جاری کیے جائیں گے۔ اس کی ایک اور وجہ یہ بھی ہے کہ وہاں نئے چہرے بھی لائے جا رہے ہیں۔‘

عاصم کے مطابق پنجاب کے دیہی علاقوں میں ٹکٹوں کی تقسیم آںے والے ہفتے سے دکھائی دینے لگے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت دھڑے بندیوں کا مسئلہ بھی سامنے آیا ہے۔ لاہور، فیصل آباد، راولپنڈی، سرگودھا اور گجرانوالہ میں بھی دھڑے بندیاں سامنے آئی ہیں اور یہی دھڑے بندیاں مسلم لیگ ن  کا راستہ روک رہی ہیں، جس کی وجہ سے ان کا ٹکٹوں کا عمل متاثر ہوا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ان ہی دھڑے بندیوں کو ختم کرنے کے لیے میری اطلاعات کے مطابق پانچ سے دس حلقوں کو آزاد رکھا جائے گا۔ وہاں مسلم لیگ ن امیدوار نہیں دے گی اور کہا یہی جائے گا کہ یہاں آزاد امیدوار انتخاب لڑیں گے۔ ان حلقوں میں جو آزاد امیدوار جیتے گا، وہ بعد میں مسلم لیگ ن میں شمولیت اختیار کر لے گا۔‘ 

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست