پاکستان میں آسمانی بجلی کی اطلاع دینے والے آلات کی تنصیب شروع: حکام

ڈائریکٹر جنرل محکمہ موسمیات مہر صاحب زاد خان کے مطابق چین سے تحفتاً ملنے والے 25 لائٹننگ ڈیٹیکٹرز ملک میں مختلف مقامات پر نصب کیے جا رہے ہیں۔

13 اپریل 2012 کی اس تصویر میں تیز بارش کے بعد گرج چمک کے طوفان کے دوران پاکستان کے شہر لاہور کے آسمان میں کوندنے والی آسمانی بجلی دیکھی جا سکتی ہے (اے ایف پی)

چین سے ملنے والے جدید لائٹننگ ڈیٹیکٹرز یا آسمانی بجلی گرنے کی پیشگی اطلاع دینے والے آلات کی تنصیب کے بعد صوبہ سندھ کے صحرائے تھر سمیت پاکستان بھر میں اس قدرتی آفت کی پیشگی اطلاع دینا ممکن ہو جائے گا۔ 

ڈائریکٹر جنرل محکمہ موسمیات مہر صاحب زاد خان کے مطابق چین نے پاکستان کو 25 لائٹننگ ڈیٹیکٹرز تحفتاً دیے ہیں، جو ملک بھر میں مختلف مقامات پر خصوصاً صوبہ سندھ میں تھر میں نصب کیے جا رہے ہیں۔

انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں انہوں نے بتایا کہ ہر ڈیٹیکٹر 100 مربع کلومیٹر میں آسمانی بجلی کے گرنے کی پیشگی اطلاع دے سکتا ہے۔

’چین نے ایک دوسرا جدید آلا دینے کی بھی حامی بھری ہے، جس کی رینج 14 ہزار مربع کلومیٹر ہے اور جس کی مدد سے نہ صرف آسمانی بجلی گرنے کی پیشگی اطلاع بلکہ ہوا کی رفتار، بارش کی مقدار، سیلاب، فلیش فلڈنگ کے متعلق بھی پیشگی اطلاع حاصل کی جا سکتی ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ان آلات کی تنصیب کے بعد محکمہ موسمیات پاکستان کے ہر خطے اور شہر میں آسمانی بجلی گرنے کی پیشگی اطلاع دے سکے گا۔  

اب تک پاکستان میں آسمانی بجلی گرنے کی پیشگی اطلاع کا جدید نظام موجود نہیں تھا۔  

مہر صاحب زاد خان کا کہنا تھا: ’ایسے جدید آلات والا نظام تحفے میں دینے پر ہم چین کے بے حد شکر گزار ہیں۔ چین سے ملنے والے ان آلات کی قیمت 10 لاکھ امریکی ڈالر ہے۔‘  

ڈائریکٹر محکمہ موسمیات کے مطابق سندھ کے صحرائے تھر میں گذشتہ چند سالوں سے آسمانی بجلی گرنے کے واقعات میں بے پناہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

’جدید آلات کی مدد سے آسمانی بجلی گرنے کی پیشگی اطلاع ملنے کی صورت میں جانی و مالی نقصانات سے بچا جا سکے گا۔‘ 

آسمانی بجلی گرنے کے پیشگی اطلاع عوام تک کیسے دی جائے گی؟ 

 مہر صاحب زاد خان نے بتایا کہ پاکستان کے کسی بھی خطے میں بارش کے لیے جب فضا میں بادل جمع ہونا شروع ہوں گے تو ان آلات کی مدد سے پتہ لگایا جا سکے گا کہ کتنی بارش ہو گی؟ گرج چمک کے ساتھ ہو گی یا نہیں؟ اور بارش کے دوران بجلی گرنے کے امکانات کتنے ہوں گے؟ اور یہ ممکنہ طور پر کس مقام پر گرے گی؟

مہر صاحب زاد خان کے مطابق: ’بجلی گرنے کے عین مقام کا تعین کرنا مشکل ہو گا لیکن جہاں آسمانی بجلی گر سکتی ہے اس علاقے کا پتہ ان آلات کی مدد سے لگ جائے گا۔  

’آسمانی بجلی گرنے کی پیشگی اطلاع قومی میڈیا، ریڈیو پاکستان اور متعلقہ ضلع کے ڈپٹی کمشنر آفسز کو دی جائے گی، جو اسے فوری طور پر مقامی ایف ایم ریڈیوز پر بھی نشر کرنے کے علاوہ سوشل میڈیا اور واٹس ایب گروپس میں بھی شیئر کریں گے۔‘ 

اس سوال کے جواب میں کہ بجلی گرنے سے کتنی دیر پہلے اطلاع عوام تک پہنچ سکتی ہے مہر صاحب زاد خان نے بتایا: ’ان آلات سے بارش کے لیے بادل جمع ہونے پر ہی آسمانی بجلی کے گرنے کی جگہ اور شدت کا پتہ لگ جائے گا اور فوری طور پر میڈیا اور ضلعی انتظامیہ، ریڈیو پاکستان، ایف ایم چینلز پر الرٹ جاری کر دیے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اس دوران عوام کو احتیاطی تدابیر اپنانے کے لیے کافی وقت مل جائے گا۔

تھر خوفزدہ لوگوں کے لیے جدید آلات نئی امید  

انڈین سرحد سے متعصل سندھ کے صحرائی علاقے تھرپارکر میں گذشتہ چند سالوں سے آسمانی  بجلی گرنے کے واقعات میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔  

نومبر 2019 کے دوسرے ہفتے میں شدید بارش کے دوران تھرپارکر میں آسمانی بجلی گرنے سے پانچ خواتین سمیت 25 افراد جان سے گئے تھے، جب کہ 100 سے زیادہ مویشی ہلاک ہوئے۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

حالیہ برس مئی میں تھر کے ایک گاؤں ویڑہی جھپ میں ہندو مذہبی رہنما پاربھرم کی درگاہ پر ہونے والے سالانہ میلے میں شرکت کے لیے جانے والے یاتریوں پر آسمانی بجلی گرنے سے چھ افراد جان سے گئے جبکہ نو زخمی ہوئے تھے۔ 

تھرپارکر کے نگرپارکر شہر کے رہائشی سلیمان کھوسو سے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ چند سالوں سے تھر میں آسمانی بجلی گرنے کے واقعات میں تیزی آئی ہے، جس سے مقامی لوگ بارش شروع ہوتے ہی خوفزدہ ہو جاتے ہیں۔

’تقریباً ہر بارش کے دوران متعدد بار بجلی گرنا عام سی بات ہو گئی ہے۔‘  

 سلیمان کھوسو کے مطابق: ’اگر حکومت اس طرح کے آلات سے آسمانی بجلی گرنے کی پیشگی اطلاع کا کوئی نظام بنا رہی ہے تو یہ انتہائی بہترین عمل ہے اور اس سے تھر کے لوگوں میں ایک امید جاگے گی۔ 

’مگر پیشگی اطلاع بروقت ہم تک پہنچ پائے گا یا نہیں؟ اس کا ابھی اندازہ نہیں ہے۔ مگر یہ خوش آئند بات ہے کہ اس طرح کے نظام بنانے پر غور کیا جا رہا ہے۔‘

لائٹننگ ڈیٹیکٹرز کیسے کام کرتے ہیں اور کہاں استعمال ہوتے ہیں؟ 

لائٹننگ ڈیٹیکٹر ایسا آلا ہے جو آسمانی بجلی گرنے کی پیشگی اطلاع دیتا ہے۔ اس آلے کے مختلف سائیز ہوتے ہیں۔  کچھ دو فٹ تک لمبے ہوتے ہیں جبکہ ذاتی استعمال والا ایسا آلات کلائی پر باندھنے والی گھڑی کے برابر ہوتا ہے۔ 

لائٹننگ ڈیٹیکٹر میں سینسر لگے ہوتے ہیں، جو بادلوں میں بننے والی آسمانی بجلی کی برقی چمک کو محسوس کرکے اس کی شدت اور گرنے کی جگہ کا تعین کرتا ہے اور یہ بھی بتاتا ہے کہ اس مخصوص علاقے میں کتنی بار بجلی گر سکتی ہے۔ 

ترقی یافتہ ممالک میں لوگ اپنے ذاتی استعمال کے لیے بھی لائٹننگ ڈیٹیکٹرز کا استعمال کرتے ہیں، خصوصاً گالف کے کھلاڑی، مسلح افواج، کھلے سمندر میں مچھلی کا شکار کرنے والے ماہی گیر اور کوہ پیما۔

اس کے علاوہ جہازوں میں لائٹننگ ڈیٹیکٹرز لگے ہوتے ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک میں فوجی چھاؤنیوں، اہم سرکاری عمارتوں اور دفاعی تنصیبات پر بھی لائٹننگ ڈیٹیکٹرز نصب کیے جاتے ہیں۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی ٹیکنالوجی