پنجاب: نمونیا کیسز میں اضافہ، بچے زیادہ شکار

پنجاب کے نگران وزیر برائے پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر جمال ناصر کے مطابق اس سال بارشیں نہ ہونے، سرد و خشک موسم، سموگ اور دیگر الرجیز کی وجہ سے نمونیا کے کیسز میں پہلے کی نسبت اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

یکم نومبر 2019 کی اس تصویر میں پنجاب کے شہر رحیم یار خان کے ایک ہسپتال میں لوگ کوریڈور میں موجود ہیں (اے ایف پی)

سردی کی شدت کے باعث پنجاب بھر میں نمونیا کے کیسز میں گذشتہ برسوں کی نسبت اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے اور وزارت صحت پنجاب کے مطابق اس بیماری کا زیادہ شکار بچے ہو رہے ہیں۔ 

یونیورسٹی آف چائلڈ ہیلتھ سائنسز کے وائس چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر مسعود صادق نے انڈپینڈںٹ اردو کو بتایا کہ نمونیا کوئی نئی بیماری نہیں، یہ ہر سال ہوتی ہے اور موسم سرما میں دسمبر اور جنوری کے مہینے میں سامنے آتی ہے، جس کا زیادہ شکار چھوٹے بچے اور بزرگ ہوتے ہیں۔

انہوں نے بتایا: ’گذشتہ دو برس سے ہم نمونیا کے شکار بچوں کے نمونے قومی ادارہ صحت (این آئی ایچ) کو بھیجتے ہیں تاکہ یہ جانا جاسکے کہ بچوں میں کون سا وائرس ہے۔ اس سال ہم نے چلڈرن ہسپتال، لاہور میں زیر علاج بچوں کے جو نمونے این آئی ایچ بھیجے، ان میں سے 50 فیصد سے زیادہ نمونوں کے نتائج میں معلوم ہوا کہ بچوں کو وائرل نمونیا ہے، جو دو اقسام کے وائرس سے ہو رہا ہے۔ اس میں سے ایک آر ایس وی وائرس (Respiratory Syncytial Virus)ہے اور دوسرا انفلوئنزا وائرس۔‘

انہوں نے بتایا کہ یہ بچے پانچ سال یا اس سے کم عمر کے ہیں اور ان میں سے بھی زیادہ تر بچے ایک سال کی عمر سے کم کے ہیں، جنہوں نے حفاظتی ٹیکے نہیں لگوائے ہوتے۔

بقول ڈاکٹر مسعود صادق: ’عموماً یہ بھی دیکھا گیا کہ جو بچے ایک سال سے کم عمر کے نمونیا میں مبتلا ہوتے ہیں ان میں زیادہ تعداد ان بچوں کی ہے، جو ماں کا دودھ نہیں پیتے اور ڈبے کے دودھ پر پرورش پا رہے ہیں۔ جو بچے ماں کا دودھ پیتے ہیں ان کی قوت مدافعت بہت زیادہ ہوتی ہے اور ان میں سینے کے انفیکشنز کا امکان نمایاں طور پر کم ہے۔‘

اس صورت حال کے حوالے سے پنجاب کے نگران وزیر برائے پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر جمال ناصر کہتے ہیں کہ نمونیا پہلی بار نہیں پھیلا بلکہ ہر سال ہی نمونیا کے کیسز موسم سرما میں سامنے آتے ہیں لیکن اس مرتبہ چونکہ بارشیں نہیں ہوئیں اور موسم پہلے کی نسبت سرد اور خشک ہے، اس کے ساتھ سموگ اور دیگر الرجیز کا زور بھی زیادہ ہے، جس کی وجہ سے ان کیسز میں پہلے کی نسبت اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

جمال ناصر نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’نمونیا کا شکار ہونے والے زیادہ تر بچے ہیں اور ایک محتاط اندازے کے مطابق کہا جائے تو ہسپتالوں میں آج کل اگر ہر روز 10 بیمار بچے آرہے ہیں تو ان میں سے پانچ، سات یا آٹھ کو نمونیا کی شکایت ہے۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ ہمارے پاس اس وقت تمام ہسپتالوں میں نمونیا کے مریضوں کے لیے سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ ’وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر ہم نے مکمل تیاری رکھی ہوئی ہے اور تمام سرکاری ہسپتالوں میں آکسیجن اور وینٹی لیٹرز کی فراہمی کو یقینی بنایا ہوا ہے۔‘

کیا نمونیا کی ویکسین دستیاب ہے؟

اس سوال پر پنجاب کے نگران وزیر صحت ڈاکٹر جاوید اکرم نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ بچوں کے لیے نہیں البتہ بالغ افراد کو لگنے والی ویکسین کی قلت ہے۔

 ان کا کہنا تھا: ’حکومت نے کبھی ویکسین نہیں خریدی، یہ پرائیویٹ سیکٹر سے خریدی جاتی ہے۔ اب چونکہ یہ ویکسین فائزر کی ہے اور اگر کسی ملک میں انہیں ان کی ویکسین کی مناسب قیمت نہیں ملتی تو وہ اس ملک میں ویکسین نہیں دیں گے۔‘

ڈاکٹر جاوید اکرم نے مزید بتایا کہ ادویات کی خریداری کے لیے وفاقی حکومت نے بات چیت کرنا ہوتی ہے۔ یہ ہمارے دائرہ اختیار میں نہیں آتا، ہم وفاقی حکومت کو کہہ رہے ہیں کہ ویکسین خریدی جائے۔

دوسری جانب پنجاب کے نگراں وزیر برائے پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ ڈاکٹر جمال ناصر کا کہنا تھا کہ ’ادویات کی قلت دیکھنے میں آئی ہے کیونکہ جب نمونیا بڑھا تو بین الاقوامی کمپنیوں کی ادویات کی قلت ہو گئی لیکن اب ہم نے لوکل ادویات کی کمپنیوں کو آن بورڈ لیا ہے اور ان کے ادویات کے نمونے ٹیسٹنگ کے لیے بھیجے ہوئے ہیں تاکہ نمونیا کی آڑ میں کوئی جعلی دوائی مارکیٹ میں نہ آ جائے۔‘

نمونیا کی ابتدائی علامات کیا ہیں؟ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پروفیسر ڈاکٹر مسعود صادق نے بتایا کہ نمونیا کی ابتدائی علامات میں اس چیز پر غور کرنا چاہیے کہ اگر بچہ دودھ نہیں پی رہا یا بچے کی سانس تیز چل رہی ہے یا اس کی پسلیاں چلنا شروع ہو گئی ہیں (اس میں بچے کی پسلیاں واضح طور پر سانس لینے پر اندر باہر ہوتی دکھائی دیں گی اور بچوں میں یہ ایک کلاسیکل علامت ہے) یا اسے غنودگی ہو رہی ہے تو فوراً بچے کو ہسپتال یا کسی معالج کے پاس لے کر جانا چاہیے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ نمونیا کے کیسز میں ہم بچے کو دیر سے ہسپتال لانے کی ایک وجہ بھی دیکھ رہے ہیں۔ ’اکثر والدین بچے کو دیر سے ہسپتال لے کر پہنچتے ہیں اور نمونیا کی ابتدائی علامات کو نظر انداز کر دیتے ہیں اور جب وہ بچوں کو ہسپتال لاتے ہیں تو دیر ہو چکی ہوتی ہے۔ یہ پہلے ہی کمزور قوت مدافعت رکھنے والے بچے ہوتے ہیں، اس لیے ان کے پاس اتنا وقت نہیں ہوتا، یعنی اگر آپ انہیں کچھ گھنٹے دیر سے ہسپتال لائیں تو سمجھیں ہمیشہ کے لیے دیر ہو گئی۔‘

اس سال کتنے مریض نمونیا کا شکار ہوئے؟

نمونیا کے حوالے سے مختلف خبریں سامنے آ رہی ہیں، جن میں ایک بڑی تعداد ان بچوں اور افراد کی ہے، جو نمونیے سے جان کی بازی ہار گئے، تاہم انڈپینڈنٹ اردو کو اس حوالے سے کسی متعلقہ ادارے سے ایسا کوئی ڈیٹا فراہم نہیں کیا گیا۔ 

نگراں وزیر برائے پرائمری ہیلتھ ڈاکٹر جمال ناصر نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی کی ہدایت پر پنجاب میں پہلی مرتبہ نمونیا کے مریضوں کا ڈیٹا اکٹھا کرنا شروع کر دیا گیا ہے اور اس مقصد کے لیے تمام اضلاع کی ہیلتھ اتھارٹیز کے سی ای اوز کو ڈیٹا کلیکشن کا حکم دے دیا گیا ہے۔‘

دوسری جانب ڈاکٹر جاوید اکرم کا کہنا ہے کہ ’نمونیا کی وجہ سے چلڈرن ہسپتال میں روزانہ دو سے تین اموات ہوتی ہیں اور یہ ہر سال ہوتی ہیں، بعض خبریں کسی متعلقہ ادارے کے اعداد و شمار کے بغیر چلائی جا رہی ہیں، جو غلط ہے۔‘

بچوں کو نمونیا سے کیسے بچایا جا سکتا ہے؟

اس حوالے سے توسیعی پروگرام برائے حفاظتی ٹیکہ جات کے ڈائریکٹر ڈاکٹر مختار احمد کا کہنا ہے کہ موسم سرما کی شدت کے پیش نظر والدین اپنے دو سال سے کم عمر بچوں کو حفاظتی ٹیکہ جات کا کورس مکمل کروائیں، جس میں نمونیا کی ویکسین بھی شامل ہے۔ 

ان کا کہنا تھا: ’نمونیا سے بچاؤ کی ویکسین بچوں کو چھ، 10 اور 14 ہفتوں کی عمر میں دی جاتی ہے اور یہ ویکسین تمام مراکز صحت پر مفت دستیاب ہے۔‘

ڈاکٹر مختار احمد نے کہا کہ ایسے بچے جنہیں کسی وجہ سے معمول کی ویکسین نہ لگوائی جا سکی ہو، وہ اب بالکل دیر نہ کریں اور بچوں کو ویکسین لگوائیں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ نمونیا سے بچاؤ کے لیے چھوٹے بچوں کو حفاظتی ٹیکوں کا کورس لازمی مکمل کروائیں، بچوں کو نمونیا سے بچانے کے لیے احتیاطی تدابیر پر عمل کیا جائے، انہیں گرم کپڑے پہنائیں اور سردی میں باہر نہ نکلنے دیں۔

مستند خبروں اور حالات حاضرہ کے تجزیوں کے لیے انڈپینڈنٹ اردو کے وٹس ایپ چینل میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔

زیادہ پڑھی جانے والی صحت